مدیر اعلٰی اردو لغت بورڈ، نامور محقق اور شاعر عقیل عباس جعفری سے مکالمہ (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

س۔ اُردو ادب کے نامور ادیب شاہد احمد دہلوی کے موسیقی کے حوالے سے مضامین کو جمع کر کے ” مضامینِ موسیقی “ کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کر کے موسیقار شاہد احمد دہلوی کو ادبی قارئین سے روشناس کرایا۔ اس کا خیال کیسے آیا؟

ج۔ شاہد صاحب خود بھی موسیقی جانتے تھے اور اس موضوع پر ان کے مضامیں مختلف رسالوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ اس موضوع پر ان کی اپنی کوئی باضابطہ کتاب نہیں تھی۔ موسیقی سننے کا شوق ہر باشعور آدمی کو ہوتا ہے اور میں بھی سنتا تھا تو میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ کیا شعبہ ہے؟ اور اس میں کیا نزاکتیں ہیں؟ کیا کیا اس کے پہلو ہیں ؟ تو جب کہیں اتفاق سے مجھے کہیں شاہد دہلوی کا مضمون کہیں نظر آتا تھا تو اس سے مجھے ایک بہت عام فہم زبان اور سہل زبان میں وہ چیز سمجھ میں آجاتی تھی۔ کہ بھئی یہ”خیال“ گائیکی ہے یہ”ٹھمری“ ہے یہ ”دادرا“ ہے یا اور مختلف سازوں کے بارے میں ان کے مضامین، پھر سازوں کی باریکیاں کیا کیا ہیں ؟ یا ایک زمانے میں آل انڈیا ریڈیو میں ہارمونیم کا داخلہ ممنوع کر دیا گیا تھا توشاہد صاحب نے ہارمونیم کے دفاع میں ایک مضمون لکھا تھا کہ آل انڈیا ریڈیو میں ہارمونیم کیوں ہونا چاہیے

س۔ آل انڈیا ریڈیو میں ہارمونیم کا داخلہ کیوں ممنوع ہوا تھا ؟

ج۔ جن صاحب نے حکم جاری کیا تھا ان کا کہنا یہ تھااکہ ہارمونیم ایک مشرقی ساز نہیں ہے اور اس کی وجہ سے لوگ سہل پسند ہو گئے ہیں اور یہ کہ اُن سازوں سے بے اعتنائی بڑھ رہی ہے۔ وہ ساز پس منظر میں نہ چلے جائیں۔ مقصد یہی تھا کہ وہ موسیقی کے حق میں ہی ایک چیز تھی۔ شاہد صاحب نے اس پر بھی ایک مضمون لکھا ہے ہارمونیم میں کے دفاع میں۔ تو وہ مضامین اتفاق سے جمع ہوتے رہے۔ پھر ایک مرتبہ کہیں میری ملاقات ہو گئی شاہد صاحب کی بیٹی صائمہ سکندرسے، وہ لاہور میں رہتی ہیں۔ تو ان سے میں نے کہا کہ اگر میں ان کے والد کے مضامین کو کتابی شکل دوں تو آپ کی Family سے مجھے Copy Rights چاہیے۔ تو انہوں نے بہت ہی خوش دلی کے ساتھ اور بہت ہی کشادہ دلی کے ساتھ Welcome کیا۔ اورکہا کہ آپ ضرور اس کو چھاپیں بلکہ ہماری بھی اگر کوئی مدد چاہیے تو ہم حاضر ہیں۔ اور پھر ہوا بھی یہی کہ جب وہ کتاب چھپی تو انہوں نے بہت بڑا اس کتاب کا فنکشن لاہورکے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں کیا۔ اور وہاں پر پورے لاہور کے جو Dignataries تھے جیسے جسٹس جاوید اقبال مرحوم۔

اس تقریب میں انتظار حسین مرحوم نے مضموں نے پڑھا، مسعود اشعر صاحب نے مضمون پڑھا۔ زہرہ نگاہ صاحبہ کراچی سے تشریف لائیں۔ تو انہوں نے بہت اہتمام کیا اس کتاب کی پذیرائی کے لئے۔ اس کتاب میں 30 مضامین شامل تھے اب ان کی تعداد 35 ہوگئی ہے۔ مجھے پانچ مضامین بعد میں اور ملے ہیں جو اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں شامل کیے جائیں گے۔ ایک اور بات یہ کہ شاہد صاحب کے جو مضامین تھے وہ مختلف Catagories میںFall کر رہے تھے تو میں نے ان کو باقاعدہ ایک System کے تحت مرتب کیاکہ کچھ مضامین موسیقی کی تاریخ پر تھے۔ کچھ مضامین مختلف موسیقاروں کے بارے میں تھے۔ ”مسائلِِ موسیقی“ ایک اس کا Chapter رکھا تو اس طرح سے میں نے اس کتاب میں آٹھ Chapters بنائے ہیں اور ان مضامین کوان chapters میں تقسیم کیا تو اس سے یہ ہوا کہ کتاب پڑھنے والوں کے لئے ان مضامین کو ایک سہولت ہو گئی کہ یہ نہیں ہے کہ Haphazard Way میں ان کو جمع کیا گیا ہے۔ کہ جو مضمون آیا Compose کرایا اور جب کتاب تیار ہو گئی تو چھاپ دی۔ اور پھر میں سمجھتا ہوںکہ Compilation بھی ایک آرٹ ہے اور پھر پوری توجہ کے ساتھ حوا شی بھی میں نے لکھے۔ ایک آدھ جگہ کوئی تاریخ غلط ہوگئی تھی شاہد صاحب سے یا ممکن ہے کہ وہ طباعت کی غلطی ہو تو پھر میں نے یہ نہیں کہا کہ شاہد صاحب کے لکھے ہوئے کو Change کیا ہو میں نے اس کو بھی حاشیے میں لکھا کہ یہاں پر اصل تاریخ یہ ہونی چاہیے۔

س۔ آپ کے کریڈٹ پر ٹی وی کے کتنے پروگرامزکے سکرپٹ ہیں؟

ج۔ جب میں نیلام گھر کے تین چار بڑے پروگرام جیت چکا اور اس زمانے میں پاکستان ٹیلی ویژن کے تقریباََ سارے بڑے پروگراموں میں میں نے حصہ لیا اور ان میں کامیابی ہوئی تو ہونے یہ لگا کہ میں جب کسی کوئز پروگرام میں جاتا تھا تو لوگ یہ کہتے تھے کہ اب آپ دوسروں کو موقع دیں۔ حالانکہ آپ دیکھئے کہ کسی بھی فیلڈ میں یہ نہیں کہا جاتا۔ آپ نے جہانگیر خان یا جان شیر خان سے تو نہیں کہا کہ اب آپ بہت کھیل چکے اب دوسروں کو موقع دیں اور یہ فیلڈ چھوڑ دیں۔ ہر شخص کو حق ہقنا چاہیے کہ وہ جب تک کسی شعبے پر راج کرسکتا ہے ہے راج کرے۔ لیکن مجھے وہ شعبہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ پھر انہوں نے میرا شوق دیکھتے ہوئے مجھے نیلام گھرکی ریسرچ ٹیم میں شامل کر لیا کہ اب آپ ہمارے ساتھ کام کریں اورہمارے لئے سوالات تیارکریں۔ نیلام گھر کے بعد میں ٹیلی ویژن کی ریسرچ ٹیم کا حصہ بن گیا اور پھر اس کے بعد جتنے بھی کوئز پروگرام ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن سے ”سارک“ کے حوالے سے ہوئے،خواتین کے حوالے سے ہوئے۔ سپورٹس پر کوئز ہوتے تھے۔ یونائیٹڈ نیشنز پر کوئز ہوا تو وہ سارے سوالات میں نے تیار کئے اور پھر جب پاکستان کی گولڈن جوبلی تھی تو ”ایک سال پچاس سوال “ ایک کوئز پروگرام میں نے کیا۔ پھر جب بیسویں صدی اختتام پذیر ہو رہی تھی تو ” میلینئم کوئز “ کے نام سے ایک پروگرام کیا پھر ” جو جانے وہ جیتے “ ایک بہت بڑا پروگرام تھا جو” Who Wants To Be Millionaire“کی طرز پر پاکستان ٹیلیویژن نے تیار کیا تھا۔ ضیاءمحیُ الدین صاحب اس کے میزبان تھے اس کے سوالات تیار کئے۔ پھر پرائیویٹ چینلز کے 2 پروگرام اسی نوعیت کے تھے ایک ” کیا آپ بنیں گے کروڑ پتی “ اور ” یہ گھر آپ کا ہوا“ تو ان پروگرامز کے میں نے سوالات تیار کئے۔ تو یہ کوئی پچیس تیس پروگرامز میرے کریڈٹ پر ہیں۔

س۔ کسی بھی کوئز پروگرام کے لئے سوالات مرتب کرتے ہوئے کس سطح کا معیار مد نظر رکھتے ہیں؟

ج۔ کوئی کوئز پروگرام اگر اسکول لیول کا ہے تو اسکول کے طالبعلموں کی جو استعداد ہے اس کو سامنے رکھتے ہیں کالج لیول کا ہے تو کالج کے لوگوں کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ اوراگر جنرل کوئز ہے جیسے تو اس میں پھر آپ کو پتا ہے کہ اس پروگرام کا فارمیٹ یہ ہے کہ شروع میں بہت آسان سوالات رکھے جاتے ہیں۔ جیسے کوئی محاورہ مکمل کرنا ہے۔ کسی فلم کا نام مکمل کرنا ہے تو وہ تو ایک سسٹم ہوتا ہے اس کوئز پروگرام میںکہ مرحلہ وار سوالات مشکل سے مشکل تر ہوتے جاتے ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ ہر پروگرام کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ اس حساب سے اس کے سوالات بنائے جاتے ہیں۔

س۔ اس دوران آپ کو آفرز تو بے شمار ہوئی ہوں گی کہ پرچہ آؤٹ کر دیجیئے اور انعام آدھا آدھا کر لیں گے؟

ج۔ جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میرا جواب کیا ہوگا تو کسی نے ہمت نہیں کی مجھ سے یہ سوال پوچھنے کی۔

س۔ اور اگر ہم آپ کو آفر کریں تو ؟

ج۔ آپ کو بھی اندازہ ہے کہ میرا جواب کیا ہوگا اور اللہ کا شکر ہے کہ ان پچیس تیس پروگراموں میں کبھی اس طرح کی کوئی بات یا سکینڈل سامنے نہیں آیا اور اللہ نے بھی حفاظت کی میری تو ویسے یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہوتا ہے۔

س۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے کئی معروف پروگراموں کے بھی تو آپ نے سکرپٹ لکھے ؟

ج۔ ریڈیوپاکستان کے لئے تو میں نے بہت سارے پروگراموں کے اسکرپٹ لکھے ہیں مثلاَ ”آج کا دن تاریخ کے آئینے میں“ پھر ایک پروگرام میں نے کیا ” عالمِ اسلام کی عظیم کتابیں“ اورپھر ”ہے حقیقت کچھ بھی“ ریڈیو پاکستان سے پہلے نشر ہوا ہے۔ پھر اس کے بعد 1999ء میں ریڈیو پاکستان نے ایک سلسلہ شروع کیا جس کے تحت بہترین نعت گو کا ایوارڈ انہوں نے دینا شروع کیا۔ دو سال یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1999ء میں مجھے علم نہیں ہو سکا تھا کہ اس طرح کا کوئی مقابلہ ہو رہا ہے اور 2000 ءمیں، میں نے جب بہرحال وہ علم میں آیا تو میں نے اس میں اپنی ایک نعت روانہ کی اور اس نعت کو پہلا ایوارڈ ملا۔ اچھا اس میں یہ تھا کہ پانچ نعت گو شاعروں کو یکساں ایوارڈ دیا گیا تھا اور اس میں کوئی تخصیص نہیں کی گئی تھی کہ اس میں پہلے نمبر پر کون ہے اور پانچویں نمبر پر کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پانچوں نعتیں جو ہیں پہلے نمبر پر ہیں اور اس میں جن لوگوں نے میرے ساتھ ایوارڈ لیا اس میں حفیظ تائب صاحب بھی موجود تھے اور بڑی بات ہے کہ حفیظ تائب صاحب کے ساتھ میرا نام بھی آئے کیونکہ نعت گوئی میں ان کا نام بہت بڑا ہے بہت مقام ہے۔ پہلے سال حفیظ تائب صاحب ججز میں تھے اور دوسرے سال انہوں نے کہا کہ نہیں میں اس میں حصہ لوں گا تو لوگوں نے ان سے کہا بھی کہ آپ کو ججز میں ہونا چاہیے۔ آپ کو خود اس میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اس میں یہ بھی ایک بات میں بتاؤں کہ جو ہم نے نعتیں بھیجی تھیں تو ان میں سے نام ہمارے ہٹا دئیے گئے تھے۔ ان کو ریڈیو پاکستان کے لوگوں نے ازسرِنو کمپوز کیا اور ان کو ایسے بھیجا گیا کہ کسی کو پتا نہیں تھا کہ کون سی نعت کس شاعر کی ہے۔

س۔ یعنی آپ ریڈیو پاکستان کے نظام کی شفافیت کے بارے میں بات کر رہے ہیں؟

ج۔ جی ہاں۔ اور وہ اس طرح سے پتہ چلا کہ اُسی زمانے میں ریڈیو پاکستان نے ایک اور مقابلہ کرایا بہترین قومی نغمہ نگار کا۔ ایوارڈ تو اس میں فرسٹ سیکنڈ تھرڈ تھا بہرحال تو اُس میں جو پہلے نمبر پر قومی نغمہ آیا وہ میرا تھا۔ یہ بھی ایک بڑے مزے کا قصہ ہے کہ ہم لوگ کہیں بیٹھے ہوئے تھے کسی ادبی تقریب میں تو کشور ناہید کہنے لگیں کہ بہت خراب خراب نغمے آئے تو میں نے کہا کہ میرے نغمے کو تو پہلا ایوارڈ دیا ہے۔ کہنے لگیں اچھا وہ تمھارا نغمہ تھا؟ وہی ایک نغمہ ڈھنگ کا تھا، سب ہنسنے لگے میں نے پوچھاکیوں کیا اس پر میرا نام نہیں تھا؟ حالانکہ وہ کہہ سکتی تھیں کہ تمھارا نام دیکھ کر میں نے ایوارڈ دے دیا۔ اپنے نمبر بناتیں اور ہماری دوستی اور مستحکم ہوتی۔ انہوں نے کہا نہیں کسی پر بھی نام نہیں تھا۔ ہمارے سامنے تو بغیر نام کے آئے تھے یہ سارے نغمے ہمیں کچھ نہیں پتہ تھا کہ کس نے کون سا نغمہ لکھا ہے۔ تو اس سے مجھے اندازہ ہو ا کہ یہ ریڈیو پاکستان میں ایک سسٹم جاری ہے کہ جب کسی مقابلے میں شامل تخلیقات ججز کو بھیجی جاتی ہیں تو اس میں سے نام ہٹا لیا جاتا ہے۔

س۔ شاعری کا سلسلہ کب سے جاری ہے؟

ج۔ یہ سلسلہ 1970 ءسے جاری ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ڈی جے کالج کا میگزین میرے ہاتھ لگا جو 1976 ءمیں شائع ہوا تھا تو اس میں میری غزل چھپی ہوئی ہے تو اب 1976ء کا مطلب یہ ہے کہ اب تقریباَ یعنی کہ غزل کہتے ہوئے بھی کم از کم 41 سال ہو گئے۔

س۔ شاعری کی کن اصناف میں زیادہ طبع آزمائی کی؟

ج۔ غزل لکھتا ہوں اور نعتیں، سلام اور منقبتیں بھی بہت لکھی ہیں۔

س۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محقق عقیل عباس جعفری نے شاعرعقیل عباس جعفری کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے؟

ج۔ یہ ایک عقیل عباس جعفری ہی کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہمارے ساتھ بد قسمتی سے بہت سارے ریسرچرز کے ساتھ یہ مسئلہ رہا ہے کہ جیسے ڈاکٹر وحید قریشی کا میں نام لوں گا، مشفق خواجہ صاحب ہیں، اسلم فرخی صاحب ہیں ان سب لوگوں نے شاعری کی۔ اور پھر ہوتا یہ ہے کہ جب ان لوگوں کی ریسرچ سامنے آتی ہے تو شاعری پیچھے چلی جاتی ہے۔ سلیم احمد نے کہا تھا کہ شاعری مکمل مرد مانگتی ہے۔ یعنی مکمل مرد سے مراد یہ ہے کہ مکمل Devotion کسی شخص کا ہو شاعری میں تو وہ شاعر Recognize  ہوتا ہے ورنہ یہ کہ وہ کتنی اچھی شاعری کرے آپ کو بہت کم اتفاق سے کوئی ایسا بہت اچھا ریسرچر ملے گا کہ جس کو بطور شاعر بھی Recognition ملی ہو۔ لہکن اللہ کا شکر ہے کہ ٹھیک ہے میں نے کم شاعری کی لیکن یہ کہ ایک  پہچان میری ہے بطور شاعر بھی۔ کتنی ہی کانفرنسز ایسی ہوئی ہیں جہاں مجھے پیپر پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ مشاعرہ پڑھنے کے لیے مدعو کیا گیا۔

س۔ آپ اب تک ریڈیو پاکستان کے علاوہ اورکتنے ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں؟

ج۔ ریڈیو پاکستان کے علاوہ بھی کئی ایوارڈ ہیں ایک سوک ایجوکیشن کا ادارہ ہے اسلام آباد میں انہوں نے پاکستان کرانیکل پر مجھے ایوارڈ دیا پھر پاکستان کوئز سوسائٹی انٹرنیشنل نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دئیے ہیں۔ اورAPNS کا جیسا میں نے آپکو بتایا کہ بیسٹ فیچر رائٹر کا ایوارڈ ہے جو صدرِ پاکستان کے ہاتھوں مجھے ملا تھا کہ پھر میں پورے پاکستان سے ان منتخب افراد میں شامل ہوں جنہیں نیشنل بک فاؤنڈیشن نے بک ایمبیسڈر کا درجہ دیا۔ اس کو بھی میں اپنا ایک بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔

س۔ اب حکومت نے آپ کو اردو لغت بورڈ کا مدیر اعلٰی مقرر کیا ہے۔ تو یہ بتلائیے کہ اس ادارے کے فنکشنز کیا ہیں؟

ج۔ یہ ادارہ 1958ءمیں قائم ہواتھا۔ اس کا نام ترقی اردو بورڈ رکھا گیا تھا اسے جو پہلا کام تفویض کیا گیا تھا وہ تاریخی اصولوں پر اردو کی سب سے بڑی لغت کی تیاری تھی۔ یہ لغت سینکڑوں اہل علم کی باون سال کی محنت سے 2010 ءمیں مکمل ہوئی۔ اس لغت کی 22 جلدیں ہیں جو اوسطاَ ایک ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہیں۔ اردو دنیا کی تیسری زبان ہے جس میں اتنی ضخیم لغت موجود ہے۔

اردو ڈکشنری بورڈ نے 1960 ء سے 1977ء تک ایک سہ ماہی جریدہ بھی پابندی کے ساتھ شائع کیا۔ جس کا نام ” اردو نامہ“ تھا۔ اس جریدے میں اردو لغات اور لسانیات کے مباحث شامل ہوتے تھے۔ اردو نامہ کے مجموعی طور پر 54 شمارے شائع ہوئے۔ اب اس جریدے کا از سر نو آغاز کیا جا رہا ہے۔

س۔ اس ادارے کا مقام اوپر کرنے کے لئے آپ کے کیا منصوبے ہیں؟

سب سے پہلے تو ہم اپنے ادارے کی شائع کردہ 22 جلدوں کی لغت کی از سر نو کمپوزنگ کروا رہے ہیں۔ اس لغت کو نہ صرف یہ کہ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیاجائے گا بلکہ اس کی موبائل ایپ بھی دستیاب ہوگی۔ جسے آپ بالکل مفت ڈاﺅن لوڈ کر سکیں گے۔ اگلے مرحلے میں اس لغت کو آواز سے ہم آہنگ کریں گے تاکہ ہر لفظ کا درست تلفظ آپ تک پہنچ سکے۔ ان 22 جلدوں کی تلخیص کا کام بھی جاری ہے جو دو جلدوں پر مشتمل ہوگی۔ اس کے علاوہ بچوں کی ایک مستند لغت کا کام بھی جاری ہے۔ اس لغت کے لئے بنیادی الفاظ پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاقی بورڈ کی نصابی کتب سے حاصل کئے گئے ہیں۔

س۔ آپ کا شعری مجموعہ کس مرحلے میں ہے؟

ج۔ میرا شعری مجموعہ جو غزلیات پر مشتمل ہے جلد شائع ہو رہا ہے اس مجموعے کا نام ” تعلق “ تجویز کیا گیا ہے۔

س۔ آپ برصغیر میں کن کن محققین کے کام سے متاثر ہیں؟

ج۔ یہ فہرست تو بہت طویل ہے، تاہم مجھے ایسے محققین زیادہ پسند ہیں جن کی نثر میں چاشنی بھی ہو۔ ان محققین میں مالک رام، امتیاز علی خان عرشی، مسعود حسین ادیب، نیر مسعود اور مشفق خواجہ کے نام سر فہرست ہیں۔

س۔ آپ مختلف ٹی وی چینلز سے بھی وابستہ رہے، وہاں آپ کی مصروفیات کیا ہیں؟

ج۔ بنیادی مصروفیات تو ریسرچ کے حوالے ہی سے تھیں۔ تاہم اب تک ٹی وی میں، میں نے بہت اچھا وقت گزارا۔ میں نے وہاں چار سال کام کیا۔ الیکشن سیل میں ہیڈ آف ریسرچ رہا۔ الیکشن کے بعد مجھے چینل کی ویب سائٹ کا کانٹینٹ ہیڈ بنا دیا گیا۔ بہت ذمہ داری کا کام تھا۔ لیکن بہت عزت اور احترام کے ساتھ کام کیا۔

س۔ آپ سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہیں اور آپ کا فیس بک پیج بہت مستند ہوتا ہے۔

ج۔ کوشش کرتا ہوں کہ جو کام بھی کروں صحت کے ساتھ کروں۔ شاید اسی لئے وہ صفحہ پسند کیا جاتا ہے۔ میں سیاسی اور مذہبی پوسٹوں سے اجتناب کرتا ہوں۔ شاید پسندیدگی کا ایک سبب یہ بھی ہو۔

(مکالمہ نگار :۔ سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز ریڈیو پاکستان بہاولپور)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سے[email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 34 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz

Comments are closed.