64  کالعدم تنظیموں میں سے 41 سوشل میڈیا پر سرگرم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

  ملک میں کالعدم قرار دی گئی 64 میں سے 41 مذہبی،فرقہ وارانہ، علیحدگی پسند اوردہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں سر گرم ہیں۔ یہ تنظیمیں کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں، حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ جب تک شکایت نہ ملے، از خود کاروائی نہیں کی جاسکتی۔

پاکستان میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد فیس بک صارفین میں سے بڑی تعداد ان نامی، بے نامی یا فرضی نام سے بنائے گئے اکاؤنٹس پر مشتمل ہے جو مذہبی و فرقہ وارانہ، انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیموں کے ہیں اور جنہیں حکومت نےکاغذات میں تو کالعدم قرار دے رکھاہے، مگر ان کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔  قانون کے مطابق کوئی کالعدم تنظیم کام نہیں کرسکتی اور نا ہی پراپیگنڈے کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لے سکتی ہے،

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کالعدم قرار دی گئی 64 میں سے 41 تنظیمیں جن میں بلوچستان اور سندھ میں کام کرنے والی علیحدگی پسند تنظیمیں بھی شامل ہیں ،انٹرنیٹ کےذریعے سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔

ان میں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ سرگرم تنظیم کالعدم اہلسنت والجماعت ہے جس کے 200 سے زائد پیجز اور گروپس ہیں، کالعدم جئے سندھ متحدہ محاذ کے 160، سپاہ صحابہ کے 148، بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے54، سپاہ محمد کے 45صفحات اور گروپس ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیموں لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان، تحریک طالبان سوات، نفاذ شریعت محمدی، جماعت الحرار، 313 بریگیڈ اور کئی دیگر مسلکی اور علیحدگی پسند تنظیمیں کھلم کھلا اپنے زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے ریاستی اداروں کو چیلنج کررہی ہیں، ان میں سے کئی تنظیمیں اپنےعقائد کی ترویج کے ساتھ اسلحے، آلات اور دہشت گردی کی ترغیب اور تربیت بھی دے رہی ہیں۔

ان کالعدم تنظیموں کے یوآرایل کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور،ملتان سمیت دیگر بڑے شہروں سے بنائے گئے ہیں، ان تنظیموں کی ویب سائٹس سے منسلک اکثر لوگ یونیورسٹیوں کے ڈگریاں یافتہ بھی ہیں۔

ان کالعدم تنظیموں کی سوشل میڈیا تک رسائی اور پروپیگنڈہ پھیلانے کے خلاف سرکاری سطح پراقدامات کرنے کے اعلانات تو کئے گئے مگرعملی طور پر کوئی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق ان کے پاس کالعدم تنظیموں، مذہبی انتہاپسندانہ، فرقہ وارانہ مواد سمیت ویب پیجز کو بلاک کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن کارروائی صرف شکایت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، پولیس، سیکیورٹی ایجنسیاں یا عام آدمی کی جانب سے کی گئی شکایت کے بعد ہی ایکشن لیا جاتا ہے۔ وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی قرار دار کی روشنی میں 47 تنظیموں کے خلاف شکایات پر ان کے یو آر ایل بن کردیئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اپنے طور پر کوئی کارروائی کرنے کی مجاز نہیں۔ پی ٹی اے نے شکایات موصول ہونے پر فیس بک کے ذریعے مذہبی انتہاپسندی اور توہین رسالت کے ہزاروں لنک بند کئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک مسلسل عمل ہے مزید اقدامات کے لیے فیس بک سے رابطے میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •