بھارت کو تباہ کرنے کا بہترین منصوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر ذی شعور پاکستانی بھارت سے تنگ ہے۔ ہم میں سے کچھ کا خیال ہے کہ ہمیں بھرپور حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لینا چاہیے تو کچھ یہ کہتے ہیں کہ ایٹم بم مار کر اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ یہ دونوں اپروچ غلط ہیں۔ پہلی اپروچ میں خدشہ ہے کہ چند پاکستانی جانیں بھی ضائع ہو سکتی ہیں اور یہ موہوم سا امکان بھی ہے کہ ہم پورے بھارت پر قبضہ نہ کر سکیں کیونکہ اورنگ زیب عالمگیر جیسا جری اور دانشمند بادشاہ بھی ادھر دکن وغیرہ میں بیس پچیس برس لڑ کر بھی فتحیاب نہ ہو سکا تھا۔ ایٹمی حملے کی صورت میں یہ امکان بھی ہے کہ بھارتی بھی اپنے ایٹم بم ہم پر برسا دیں۔ پھر نہ وہ رہیں گے نہ ہم۔

ہم اس مسئلے پر گزشتہ دس برس سے مسلسل سوچ بچار کر رہے تھے کہ بھارت کو کس طریقے سے تباہ کیا جائے کہ ہمیں نقصان نہ ہو بلکہ الٹا چار پیسے بھی بن جائیں۔ خوش قسمتی سے ہم ایک ایسی بہترین حکمت عملی تیار کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جس کو استعمال کر کے کسی بھی ملک کو تباہ و برباد کیا جا سکتا ہے۔

پہلے مرحلے میں ہم نے چھل فریب سے کام لیتے ہوئے بھارت کو یقین دلانا ہے کہ ہم جینیوں سے بھی زیادہ جانداروں کی جان کی حفاظت کرنے لگے ہیں۔ ہم اپنی تمام نجی عسکری تنظیمیں ختم کر دیں۔ دنیا کو دکھانے کی خاطر کچھ سختی بھی کرنی پڑے تو کر دی جائے۔ اس کے بعد بھارت کے ساتھ نرم بارڈر کی بات کی جائے اور کہا جائے کہ کشمیر کے مسئلے کو پچاس برس کے لئے سرد خانے میں ڈال دیتے ہیں اور شہریوں کو بلا روک ٹوک سرحد پار آنے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ پچاس برس بعد اس وقت کی قیادت خود فیصلہ کر لے گی کہ سرحدی جھگڑوں کا کیا کرنا ہے۔ یوں بھارت سمجھے گا کہ ہم بالکل احمق ہیں اور ہمیں مزید احمق بنانے کی خاطر ہماری ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ویزا فری آمد و رفت پر تیار ہو جائے گا۔ اس کے بعد ہمارا اصل پلان شروع ہو گا۔

باہمی تجارت کے معاہدے کیے جائیں۔ آپ نے بزرگوں سے سنا ہی ہو گا کہ ہندو تاجر اپنی ساکھ پر بڑا زور دیتا ہے اور اس لئے دو نمبری نہیں کرتا۔ وہ پاکستان میں ایک نمبر سامان لے کر آئے گا۔ جبکہ ہم ہندوستان میں اسی کی دو تو کیا چار نمبر کاپیاں بنا کر فروخت کریں گے۔ ملاوٹ شدہ اشیائے خورد و نوش، مردار جانوروں کی آلائشوں سے بنا خوردنی تیل، جعلی ادویات، اور گندے نالے کے پانی سے کاشت کی ہوئی سبزیوں سے ہم بھارتی مارکیٹ بھر دیں گے۔ یوں بہت کم عرصے میں بھارتی قوم صحت کے شدید مسائل سے دوچار ہو جائے گی۔ وہ ہم پاکستانیوں جتنے سخت جان تھوڑی ہیں جو یہ سب کھا پی سکیں جو ہم ڈکار جاتے ہیں۔

اس کے بعد بھارت کو افغانستان سے تجارتی راہداری بھی دے دی جائے اور افغانستان اور فاٹا وغیرہ میں منشیات تیار کرنے کی انڈسٹری کی بھرپور ترویج کی جائے اور ساری پیداوار بھارت ایکسپورٹ کر دی جائے۔ کیا ہی سماں ہو گا جب پاکستان میں تیار کردہ نسوار سے لے کر ہیروئن تک بھارتی استعمال کر رہے ہوں گے اور ان کے بدلے قیمتی زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہوں گے۔ ادھر گلی گلی میں ہیروئنچی کونے میں چھپ چھپ کر اپنی سگریٹیں سلگا رہے ہوں گے اور ہم نوٹ گن رہے ہوں گے۔

بھارتیوں کی جسمانی صحت تباہ کرنے کے بعد ان کی ذہنی صحت تباہ کرنا منصوبے کا اگلا مرحلہ ہے۔ اس مقصد کے لئے ان کو ہر وقت ٹینشن اور خوف میں مبتلا کرنا ہو گا۔ ایک ایسا کام کرنا ہو گا کہ وہ عبادت بھی بندوقوں کے سائے میں کرنے پر مجبور ہو جائیں اور پوجا میں بھی سکون نہ پائیں۔ اس مقصد کے لئے ہر فرقے اور مسلک کے سب سے زیادہ انتہا پسند مبلغین کو بھارت بھیجا جائے جہاں وہ نہایت مختصر مدت میں ایسی زبردست فرقہ وارانہ کشیدگی اور عدم برداشت کا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جیسا کہ وہ پاکستان میں کر چکے ہیں۔ بلکہ وہ اپنی بے مثال کامیابی اور مقبولیت کے بل پر ہندو مت کے پنڈتوں کو بھی اپنی تقلید پر مجبور کر دیں گے اور وہ بھی اپنے متشدد فرقے بنانے میں خود کفیل ہو جائیں گے۔ یوں ایک طرف وہاں بھارتی مسلمانوں میں بھی سعودی ایرانی پراکسی جنگ شروع ہو جائے گی اور دوسری طرف ہندو، جینی، بدھ، مسیحی، سکھ اور پارسی وغیرہ نہ صرف ایک دوسرے سے لڑ مریں گے بلکہ ان میں سے ہر مذہب والے اپنے اپنے فرقے بنا کر آپس میں بھی لڑا کریں گے۔ یوں وہ ہر وقت کی بے سکونی اور خوف کا شکار ہو کر نفسیاتی مریض بن جائیں گے اور بھارتیوں میں عدم برداشت اور عدم رواداری اس حد تک نفوذ کر جائے گی کہ وہ مکمل طور پر جنونی ہو جائیں گے۔

اگلا نمبر ہے ہندوستان کے انتظامی ڈھانچے کا۔ ہمیں ہندوستانی پولیس اور بیوروکریسی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ پہلے ہی پاکستان جیسی ہے۔ صرف وقتاً فوقتاً ان کے پاکستان میں دوروں کا بندوبست کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ جدید اندازِ افسری سیکھ سکیں اور برٹش راج کے اثر سے پوری طرح آزاد ہو جائیں اور مال پانی بنانے کے جدید طریقوں سے واقف ہو سکیں۔

اس سے اگلا مرحلہ ہو گا کہ پاکستان سے وکلا اور صحافتی سیاست کا تجربہ رکھنے والے راہنما ہندوستان بھیجے جائیں جو انہیں پاکستان میں اپنے تجربات کی روشنی میں تنظیم سازی کرنے کا ہنر سکھا سکیں۔ یوں ایک طرف وہاں نچلے لیول کی عدالتوں میں جج صاحب اپنی عزت بچاتے پھریں گے تو دوسری طرف یہی پاکستانی تربیت کردہ وکلا بھارت کی اعلی عدلیہ میں بھی بھرتی ہوں گے۔ صحافی حضرات بھی اپنا ہنر ہندوستانیوں کو سکھائیں گے اور اس کے بعد ان کی صحافت بھی اسی ڈگر پر چل پڑے گی جیسی پاکستان میں ہے۔ یوں ہندوستان کی جمہوریہ کے دو ستون یعنی عدلیہ اور پریس زبردست قسم کی تنزلی کا شکار ہو جائیں گے اور ادھر جمہوریت کمزور ہو جائے گی۔

اب جبکہ ہم نہایت کامیابی سے ہندوستانیوں کی صحت، دماغی حالت، عدلیہ، پریس اور انتظامیہ کو زبوں حالی کا شکار کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں تو آخری مرحلہ آتا ہے ہندوستانی جمہوریہ کے آخری ستون یعنی مقننہ اور سیاستدانوں کی تباہی کا۔

اس مقصد کے لئے جنرل ضیا الحق کے زمانے کے ریٹائرڈ فوجی افسران ہندوستان بھیجے جائیں جو مارشل لا لگانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ پرویز مشرف اگر آمادہ ہو جائیں تو وہ بھی اچھا کام کر سکتے ہیں۔ یہ سابقہ افسران بھارتی فوجیوں کو پاکستان میں اپنے شاندار ماضی کے قصے سنا کر ان کو ہکا بکا کر دیں، اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے رہا کریں کہ سیاستدان نہایت کرپٹ اور غدار ہوتے ہیں اور ایک محب وطن شخص کو ان پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ وہ آر ایس ایس اور بجرنگ دل وغیرہ ٹائپ کی انتہا پسند جماعتوں کو مسلح عسکری تنظیموں کے طور پر منظم کرنے پر بھی بھارتی شکروں کو مائل کریں تاکہ بھارتی ریاست بھی ان سے ڈرنے لگے۔ کچھ وقت تو لگے گا مگر پوری امید ہے کہ ہندوستان میں چند برس کے اندر اندر ہی پہلا مارشل لا لگ جائے گا اور ہندوستانی قوم پر بار بار سیاستدانوں کی کرپشن اور غداری کے راز عیاں کر کر کے اسے ہندوستانی سیاسی قیادت سے ہمیشہ کے لئے بدظن کر دیا جائے گا۔

اب ہم سکون سے ایک طرف بیٹھ کر بھارتیوں کو آپس میں لڑتے مرتے دیکھ سکتے ہیں۔ جو قوم جنونیت کا شکار ہو جائے اسے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں پڑتی ہے، وہ اپنی تباہی کے لئے خود ہی کافی ہوتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1136 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

––>