عبداللہ حسین کے ساتھ بعد از مرگ ایک گفتگو (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 تارڑ:      خان صاحب! آپ خوش بخت ہیں کہ معمر قذافی ایسے انقلابی ڈکٹیٹر کے مُلک میں سلطنت کے ’’غلام‘‘ ہیں اور خوش بخت ہم بھی ہیں کہ ضیاء الحق ایسے اسلامی ڈکٹیٹر کے عہد میں کوڑے کھا رہے ہیں تو آپ نظامِ مصطفیٰ کے بارے میں کیوں تشویش میں مبتلا ہیں؟

عبداللہ:     میں تو اس تشویش میں مبتلا ہوں کہ بھئی یہ نظامِ مصطفیٰ  میں لوگ شراب کیسے پی لیتے ہیں، مل جاتی ہے؟ کس مقدار میں ملتی ہے، کس قیمت پر ملتی ہے۔ ان سب باتوں کی اطلاع فوراً کر دو… لیکن ایک ناول ختم کرنے کے لیے لیبیا سے اچھی اور کون سی جگہ ہو سکتی ہے چنانچہ یہیں رُک رہا ہوں۔ سلیم نے لکھا ہے کہ کراچی ٹیلی ویژن کے لیے سلیم احمد ’’اداس نسلیں‘‘ کا سکرپٹ تیار کر رہا ہے۔ مجھے تو اس بارے میں کچھ علم نہیں تمہیں کچھ ہے؟ اگر نہیں تو تفتیش کرو… مجھے ایک بار واپس آلینے دو پھر اگر کہو گے تو تمہارے سارے کام پر مضمون لکھ دوں گا۔

تارڑ:      اگر میں تمہیں پڑھتا ہوں تو تم مجھے کیوں نہیں پڑھتے۔ ’’اُندلس میں اجنبی‘‘ کو یونیسکو نے اس برس کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ٹھہرایا ہے تم نے کیوں نہیں پڑھی؟

عبداللہ:     میں نے پورے تین دن لگا کر اسے پڑھا، میں یونہی نہیں چھوڑ رہا واقعی میرے خیال میں یہ اچھا سفرنامہ ہونے کے علاوہ بھی نہایت اچھی کتاب ہے پڑھ کر لطف آ گیا’’اندلس میں اجنبی‘‘ کا آخری حصہ بہت ہی اچھا ہے بلکہ میں نے محمد سلیم الرحمان کا ریویو بھی دیکھا اور یہ کتاب اُسے خاصی پسند آئی ہے۔

تارڑ:      تو لنڈن شہر میں ان دنوں ملاقاتیں کن کن سے ہوئیں؟

عبداللہ:     کل مجھ سے سی ایم نعیم (شکاگو والے) ملنے کے لیے آئے تھے ان سے تمہاری خیریت کا علم ہوا۔ میں نے اپنی دکان میں ایک اور چھوٹا سا ڈیپارٹمنٹ کھول لیا ہے جس کی وجہ سے مصروفیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ایک جگہ پر محمدعلی صدیقی سے تعارف ہوا تھا مگر میں جلدی میں تھا، بات نہیں ہو سکی۔ فیض سے بھی کوئی تیس سیکنڈ کی ملاقات ہوئی تھی اُسی جگہ پر۔

تارڑ:      ان دنوں کیا مصروفیت ہے، صرف دکانداری کر رہے ہو یا کچھ دنیا داری بھی؟

عبداللہ:     یہاں کی مصروفیت: ’’واپسی کا سفر‘‘ کی فلم کا کام تیزی سے چل رہا ہے کوئی ہندوستانی ایکٹر ہے رام پوری*(میں تو واقف نہیں ہوں مگر سنا ہے اچھا ہے) وہ حسین شاہ کے رول کے لیے کاسٹ کیا گیا ہے۔ مَیری کے رول کے لیے ایک بہت اچھی انگریز ایکٹریس Rudi Davies وہ لے لی گئی ہے۔ میں نے ’’سیاہ آنکھ میں تصویر‘‘ کی سولہ میں سے دس کہانیاں پڑھ لی ہیں۔ مجھے ’’بابابگلوس‘‘ اور ’’بادشاہ‘‘ بہت پسند آئی ہیں۔ ’’پریم‘‘ بھی بہت دلچسپ ہے، تمہاری نثر بھی پہلے سے بہت چُست ہو گئی ہے۔

تارڑ:      عبداللہ ڈیئر ڈارلنگ (کہیں لیبیا میں نظامِ مصطفیٰ کے تحت اگر ایک مرد دوسرے مرد کو ڈارلنگ کہہ دے تو اُسے سنگسار تو نہیں کر دیا جاتا) تو وہاں کی کیا خبریں ہیں، تمہاری رہائش گاہ سے صحرا کتنی دور ہے؟

عبداللہ:     ہمیں یہاں وہی خبریں ملتی ہیں جو مقامی ریڈیو سناتا ہے۔ میری پاکستان میں خط و کتابت صرف سلیم سے ہے مگر وہ کلاسیکل طبیعت کا آدمی ہے چنانچہ اُس کے خط انتہائی مختصر، ’’درست‘‘ اور ’’بے خبر‘‘ ہوتے ہیں۔ کچھ پتا نہیں چلتا کہ کیا ہو رہا ہے۔ سوائے اس احساس کے کہ دنیا کوئی پندرہ ملین سال سے چلتی آ رہی ہے اور شاید اتنا ہی عرصہ اور چلتی جائے گی۔ روزمرہ کی چھوٹی موٹی باتوں سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ مگر ہم تو بہت نرم گوشت پوست کے آدمی ہیں۔ ہمیں ان باتوں سے بہت فرق پڑتا ہے۔ تو عرض یہ ہے کہ بھائی ایک تم تھے وہ بھی خط لکھنا چھوڑ گئے۔ تفصیل سے لکھو، جو بات دل میں آئے لکھ دو۔ ادبی، سیاسی، اخلاقی، بداخلاقی وغیرہ۔ بھٹو کو تو اب یہ لوگ شاید پھائے لگا دیں۔ ہمارے ہاں کیا زمانۂ جہالت آ گیا ہے۔ کیا اب ’’بدکاری‘‘ کے لیے واقعی سنگ سار کر دیں گے (اصل میں کوشش ہونی چاہیے کہ گواہ کوئی پیدا نہ ہو، اگر کوئی ہو تو اسے پرائیویٹ طور پر پتھر وغیرہ مارمار کر ٹھکانے لگا دیا جائے)۔

(*وہ ہندوستانی ایکٹر رام پوری نہیں اوم پوری تھے۔ خان صاحب کی جہالت کا یہ عالم تھا کہ اس فلم ’’برادرز اِن ٹربل‘‘ کے پریمئر پر نصیرالدین شاہ آئے تو خان صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ )

(عبداللہ حسین کے دو چار خط انگریزی میں ہیں ان سے رجوع کرتا ہوں اور کچھ سوال پوچھتا ہوں اور واقعی اس کی انگریزی اُس کی اردو سے بہت بہتر ہے اگرچہ اس کی اردو بھی کسی خوش بدن عورت کی مانند ایک شہوت انگیز کشش رکھتی ہے، نصابی، حسابی اور بامحاورہ ہر گز نہیں ہے۔)

تارڑ :     ویسے تم انگلستان کی سرسبز چراگاہیں چھوڑ کر لیبیا کے صحرائوں کی جانب کیوں کوچ کر گئے۔ کوئی تُک ہے؟

عبداللہ:     میں لیبیا میں ہوں اور کیوں ہوں، اس کی وجہ نہیں جانتا، سوائے اس کے کہ میری بیوی پچھلے کچھ ماہ سے یہاں کسی ہسپتال میں اپنی ڈاکٹری کر رہی ہے۔ میں یہاں اخباروں، کتابوں، ٹیلی ویژن، سنیما، الکوحل اور عورتوں کے بغیر زندگی گزار رہا ہوں۔ یہاں زیتون اور کھجوروں کے باغ ہیں، سمندر ہے۔ میں یہاں سارا دن کیا کرتا ہوں۔ میں لکھتا ہوں، غوروفکر کرتا ہوں اور مجبوراً اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرتا ہوں بس اسی تواتر کے ساتھ۔

تارڑ:      لائل پور میں شب و روز کیسے گزر رہے ہیں؟

عبداللہ:     تم میرا مذاق نہیں اڑانا۔ میں جانتا ہوں کہ صرف بوڑھے اور بچے ایسی حرکت کرتے ہیں۔ میں سیڑھیوں سے گر گیا تھا۔ ویسے اب میں صحت مند ہوچکا ہوں اور میری بیوی کا یہ خواب کہ میرے مرنے پر وہ کروڑوں کی جائیداد کی مالک بن جائے گی ادھورا رہ گیا ہے۔

میں اپنے ناول کو دوبارہ لکھ رہا تھا، کہانی کوئی نہیں لکھی اگرچہ بہت سی دماغ میں گردش کر رہی ہیں۔ یہ کیفیت بہت اذیت ناک ہے۔ ان کہانیوں کو زخموں کی مانند لیے پھرنا(مجھے شمار کرو، میرے بھائی، ایک زخم خوردہ چلتے پھرتے شخص کے طور پر… مایا کووسکی)۔

اور ہاں میں تمہاری شباہت سے بہت متاثر ہوا ہوں میں عام طور پر ٹیلی ویژن نہیں دیکھتا لیکن مجھے فوری طور پر ساتھ والے کمرے میں طلب کر لیا گیا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ تم میرے دوست ہو اور میں نے تمہیں دیکھا (اداکاری کرتے ہوئے) اور میرے خیال میں تم بہت کمال کے اداکار ہو یعنی حقیقت کو چھوتی ہوئی اداکاری کی روایت میں۔ اگر سب سے اونچے درجے پر نہ بھی پھر بھی بلند ترین میں سے ایک… تم ایک ایسے شخص ہو جو سراسر قانع اور قدرتی طور پر مطمئن حالت میں ہے اور المیہ اداکاری کرنے کی کوشش نہیں کرتا، اگرچہ اس کے اندر المیے کی ایک گہری حِس اور دُکھ ہے، جو میرے نزدیک ہر شے کے فانی اور عارضی ہونے کی علامت ہے۔ یہ تو تمہارا سامنے والا چہرہ ہے یعنی ’’فرنٹ ایلی ویشن‘‘ اور اب تمہاری ’’سائڈایلی ویشن‘‘ یعنی ایک رُخ سے دکھائی دینے والا چہرہ… میری بیوی کا خیال ہے کہ یہ ایک رومن پروفائل ہے۔ جب کہ اکثر لوگوں کا پروفائل سامی شباہت کا ہوتا ہے یعنی ’’سی میٹک‘‘ قدرے یہودی۔ میں نے اپنی بیوی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایڈورڈ گبن سے رجوع کرے اور کھوج کرے کہ کیا وہاں کوئی رومن قبیلہ ’’تارڑ‘‘ نام کا ہے؟ (کیا ہم ’’تاراس بلبا‘‘ کے بارے میں غور کر سکتے ہیں لیکن وہ تو ایک منگول قبیلہ تھا جو رومن ایمپائر کے زوال کے بعد بکھر گیا) چنانچہ تم ایک ’’زوال پذیررومن‘‘ ہو سکتے ہو، کیا خیال ہے؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک زوال پذیر پاکستانی ہونے سے یہ کہیں بہتر ہے۔ میں تمہیں اگلے ہفتے ملوں گا۔ میں تمہارے لیے خوشی کی آرزو کرتا ہوں۔

تارڑ:      تم لائل پور سے آئے اور تم نے لاہور دیکھا اور فتح کر لیا۔ میں نے اپنی زندگی کے کچھ یادگار لمحے تمہاری شراکت میں بسر کیے۔ میں تمہیں اپنی سرخ ہونڈا 175سی سی موٹرسائیکل پر لیے لیے پھرا اور تمہارے گھٹنے سٹیئرنگ تک آتے تھے اور مجھے ڈرائیور کرنے میں مشکل ہوتی تھی۔ ویسے میں تمہاری ہوس پرستی کی قبیح خصلت سے بہت بیزار ہوں۔ تمہیں جو شکل نظر آتی تھی، تصویر نظر آتی تھی۔ ان دنوں بارشیں بہت اتریں، بہت تباہی ہوئی، تم خیریت سے ہو؟

عبداللہ:     بارشیں برسیں اور پھر چلی گئیں ہمیشہ کی طرح۔ ان خطوں میں ہزیمت اور گہرے دکھ باقاعدگی سے چلے آتے ہیں گویا کہ وہ ایک موسم ہوتے ہیں اور صرف ذلتوں کے مارے لوگ ان موسموں کا شکار ہوتے ہیں(چہرے ایک آرزو کی مانند، بال ایک جھکڑ میں، اُڑتے ہوئے) اور جب آپ اخباروں میں تصویریں دیکھتے ہیں وہ افراتفری اور حیرت کی تصویریں ہوتی ہیں۔ ’’کوئی ایک پتا بھی میرے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا۔‘‘ خدا نے کہیں کہا تھا … محض کاٹھ کباڑ… اور یہ کہنا کہ غریب اور نادار اس دنیا کے وارث ہوں گے ایک پروپوگینڈا ہے۔ نادار لوگ، ذلتوں کے مارے لوگ، اس دنیا میں کاٹھ کباڑ کی مانند آتے ہیں اور کاٹھ کباڑ کی مانند ہی رخصت ہو جاتے ہیں اور نہ ان میں کچھ غصہ ہوتا ہے اور نہ کوئی احتجاج… مجھے معاف کر دو میں بہت غصے میں ہوں، انکار کر رہا ہوں، عزت نفس کہاں ہے۔

میں شاید اس لیے ایک ذہنی انتشار اور ناآسودگی میں چلا گیا ہوں کہ میری جنسی زندگی میں خلل آ رہا ہے۔ یہاں کی (پاکستانی)عورتیں بے حد بیکار ہیں۔ ان کے کوئی اعلیٰ اصول نہیں ہیں، کوئی تصور یا انصاف کی حِس نہیں ہے۔ یہ بہت حقیقت پسند، دہقان ذہنیت کی عورتیں ہیں اگرچہ وہ قدرے پرکشش ہیں لیکن ایک ٹریکٹر کی مانند (تم اس پر سواری کر سکتے ہو۔ بہت عرصہ سوار رہ سکتے ہو، بیج بو سکتے ہو اور پھر گھر واپس آ کر تنہائی میں سوچ میں پڑ جاتے ہو) بیکار عورتیں ہیں۔ کیا میں اِدھر اُدھر کی ہانک رہا ہوں۔ ہاں واقعی میں ایسا کر رہا ہوں۔ میں تم سے کچھ گفتگو کرنا چاہتا تھا۔ میں شاید تم سے جلد ہی ملوں گا۔ تم میری محبت ہو!!

تارڑ:      عبداللہ! اب کب ملو گے… وہ کیا کہتے ہیں کہ مورا تم بن جیا اداس رے… کب آئو گے؟

عبداللہ:     (اور مجھے اُس کا بلند بانگ تہہ در تہہ کھلتا قہقہہ سنائی دیتا ہے لیکن اب اس میں فنا کی گونج میری حیات کے گنبدِ بے در میں گونجتی ہے) اب میں تو نہیں آنے والا… میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو… میں جا کے واپس نہیں آ سکتا، تم چلے آئو…… آنا تو ہے تو جب بھی آنا ہو، چلے آئو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 180 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar