کاش سارے مرد برہمچاری یعنی مور ہوتے


راجستھان ہائی کورٹ کے جج نے مور کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مور برہمچاری ہوتا ہے اور ساری زندگی کنوارا رہتا ہے۔ مورنی صرف اس کے آنسو پی کر حاملہ ہوتی ہے۔

کاش ہم سارے مرد برہمچاری ہوتے! پاکستان میں جھگڑے ختم ہی ہو جاتے کیونکہ جھگڑوں کی جو تین بنیادی وجوہات بتائی جاتی ہیں ان میں صرف دو یعنی زر اور زمین رہ جاتے۔ اور سچی بات ہے کہ اگر مورنی میں دلچسپی نہیں تو پھر موروں نے زر اور زمین کو کرنا بھی کیا تھا، اس لیے جھگڑوں کا مکمل خاتمہ ہو جانا تھا۔ اگر آپ سگمنڈ فرائیڈ کے ماننے والے ہیں تو آپ بہتر بتا سکتے ہیں کہ مردوں کے درمیان ترقی اور بڑے بڑے عہدوں کو حاصل کرنے کے لیے یہ سخت مقابلے کی فضا ہی نہیں ہونی تھی۔ زندگی کتنی آسان ہوتی۔

اگر ہم مور ہوتے تو ہم مردوں کے بڑے مزے ہوتے۔ ہم بھی نخرے کرتے اور کئی کئی دن ایک آنسو تک نہ ٹپکاتے۔ ہمارے ارد گرد یہ مورنیاں ترستی رہتیں اور ہمارے رونے کا انتظار کرتیں کہ کب کوئی آنسو گرے اور وہ اس پر جھپٹ پڑیں اور امید سے ہو جائیں۔ عورتوں کی امیدیں ہمارے آنسوؤں سے بندھی ہوتیں۔ کچھ مور تو فیملی پلاننگ کے قائل ہوتے اور اگر مجبوری میں رونے کو سخت دل چاہتا، جیسا کہ اب بھی کبھی ہم مردوں کا دل کرتا ہے اور ہم آنسو روک نہیں پاتے ہیں، تو ایسے میں وہ مرد اپنے آنسو خود ہی چاٹ جاتے یا جلدی سے پانی میں بہا دیتے تاکہ وہ کسی عورت کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔

موروں کا برہمچاری ہونا چونکہ قدرت کو بہت پسند ہے اس لیے انعام کے طور پر قدرت نے موروں کو بہت خوبصورت بنایا ہے۔ ان کو اتنے خوب صورت پر دیے ہیں کہ لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم سارے مرد بھی موروں کی یہ خصوصیت اپنا لیتے تو قدرت ہم پر بھی بہت مہربان ہو سکتی تھی۔ ہمارے بھی اتنے ہی خوب صورت پر ہو سکتے تھے کہ ہم کسی بھی وقت چوراہے میں گاڑی کھڑی کر کے اپنے پر پھیلاتے تو سب ہماری طرف متوجہ ہو جاتے۔ لیکن پھر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ خیر بات تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ تو مطلب ایک اور جھگڑا ختم ہو جاتا۔

اگر ہم سارے مور ہوتے تو یہ جو ہمارے عظیم بادشاہوں کے حرم ہوتے تھے اور ان کی حفاظت کی فکر میں کچھ لوگوں کو باقاعدہ عمل جراحت کر کے خواجہ سرا بنایا جاتا تھا تو یہ ظلم بھی نہ کرنا پڑتا۔ لیکن یاد آیا کہ اگر ہم مور ہوتے تو بادشاہوں کو اپنے حرم عورتوں سے بھرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ بلکہ اگر حرم نہیں بھرنے تھے تو پھر بادشاہ بننے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اف زندگی کتنی آسان ہوتی۔ نہ بادشاہ ہوتے اور نہ یہ ساری جنگیں ہوتیں جو بادشاہی حاصل کرنے کے لیے لڑی جاتی تھیں۔ اور نہ وہ سارے جعلی بہانے ہمارے عقیدوں کا حصہ ہوتے جو بادشاہوں اور ان کے مشیروں نے اس لیے گھڑے تھے تاکہ ہم خوشی سے ان کے لیے جان دیں۔ سوچ رہا ہوں نسیم ہجازی بے چارے کیا کرتے۔

مور کے برہمچاری ہونے ہی کی کرپا ہے کہ قدرت اس پر اتنی مہربان ہے۔ کوئی بھی مور کا گوشت کھانے کو ترس نہیں رہا اس لیے کوئی ان کو گولی کا نشانہ بناتا ہے اور نہ ان پر چھری چلاتا ہے۔ مجھے ٹھیک سے علم تو نہیں لیکن اس کا گوشت حلال نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مور اپنی طبعی عمر پوری کرتے ہوں گے۔

مور کے مقابلے میں چڑے کو دیکھو، نہایت ہی بدکار قسم کا پرندہ ہے۔ میں نے آج تک کسی چڑے کو برہمچاری کا ناٹک کرتے بھی دیکھا نہ سنا۔ وہ تو ہر وقت یہی اعلان کرتا نظر آتا ہے کہ بچنا بھئی ہم کوئی مور نہیں ہیں۔ لیکن اس کو قدرت نے خوب سزا دی ہے۔ اس کا گوشت ہوتا ہی کتنا ہے پھر بھی حلال جو ہے اور پھر چڑوں کا حال دیکھنا ہے تو گوجرانوالہ میں کھانے پینے کی دکانوں کے سائن بورڈ ہی دیکھ لو، سب سمجھ آ جائے گا۔ اور یہ چڑوں کی اکڑ دیکھو، مر کے بھی ہار نہیں مانتے۔ موروں کے خلاف ہی کام کرتے ہیں۔ جو لوگ لاہور میں ضروری ادویات از قسم ویاگرا خرید نہیں سکتے وہ چڑے کھانے کے لیے گوجرانوالہ کی یاترا کرتے ہیں۔

اگر ہم سارے مور ہوتے تو اس کا نقصان حکیموں کو بہت ہونا تھا۔ ہم مردوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے فولادی نسخے کبھی ایجاد ہی نہ ہو پاتے کیونکہ ہمیں فولادی خود اعتمادی کی ضرورت ہی نہیں ہونی تھی۔ بھاڑ میں جائے خود اعتمادی جب ہمارا ون ٹو ون مقابلہ ہی نہیں ہونا تو تیاری کس چیز کی۔ آنسو ٹپکانے کے لیے تو کسی خود اعتمادی کی ضرورت نہیں ہے نا۔ ہماری سڑکوں سے نظر آنے والی دیواریں بد صورت ہی رہ جاتیں۔ ان پر حکیموں کے نسخوں کے معجزے نہ لکھے ہوتے جو ہمیں پریشان کرتے ہیں کہ مرد اور گھوڑا تو کبھی بوڑھا نہیں ہوتا تو پھر یہ صرف میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے۔

ویسے آفرین ہے موروں پر کہ صرف انہوں نے ہی اپنا یہ برہمچاری کا سٹیٹس برقرار رکھا ہوا ہے ورنہ پادری اور یوگی تو اکثر ہی بے چارے پکڑے جاتے ہیں اور اپنے مرتبے اور نوکری دونوں ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ صرف مور ہی ہیں جنہوں نے یہ زبردست سٹیٹس قبول کیا اور کوئی رد عمل بھی ظاہر نہیں کیا۔ ورنہ ایک خواجہ سرا کہہ رہے تھے کہ قدرت نے ہمیں جس سہولت سے محروم رکھا تھا ہم نے اسے اتنا ارزاں کیا ہے کہ اب ہماری وجہ سے ہر کوئی افورڈ کرتا ہے۔

راجستھان ھائی کورٹ کے جج مہیش چند شرما موروں کے برہمچاری ہونے کو جتنا پسند کرتے ہیں لگتا ہے کہ ان کی خواہش ہو گی کہ کاش وہ خود اور گاؤ ماتا بھی اتنے ہی پوتر ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ گاؤں میں رہنے والے لوگوں کو معلوم ہے کہ گائے جب خوش طبعی کے عالم میں ہو تو وہ آنسوؤں پر اکتفا نہیں کرتی۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik