یہ دل مانگے مور!

یا پھر وہ ہم جنس پرست ہو اس لیے مورنی سے دور رہتا ہو؟ یا پہلے وہ زندگی میں کچھ کرنا چاہتا ہو، اپنے پیروں پر کھڑے ہونا چاہتا ہو، اپنے خوبصورت پر کھول کر بس ناچنا چاہتا ہو اور شادی شدہ زندگی کی کمٹمنٹ یا ذمہ داریوں کے لیے ابھی ذہنی طور پر تیار نہ ہو؟
لیکن تصویر کا ایک رخ اور بھی ہو سکتا ہے، بس دیکھنے والا چاہیے۔
یہ ایک’ پیٹری آرکل’ معاشرہ ہے، یہاں ہر شعبۂ زندگی میں مردوں کو ہی فوقیت حاصل ہے، خواتین کی بات کم ہی سنی جاتی ہے۔ ایسا تو نہیں کہ جج مہیش چندر شرما کی معلومات پوری طرح درست نہ ہوں اور انکار مور نہیں، مورنی کر رہی ہو؟ اسے مور پسند ہی نہ ہو اور محبت میں ناکامی کی وجہ سے مور کی آنکھوں میں آنسو آتے ہوں؟ اور کسی نرم دل لڑکی کی طرح وہ صرف ہمدردی میں مور کے آنسو صاف کر رہی ہو اور جج صاحب نے بس یہ سوچ لیا ہو کہ آنسو پی کر وہ ماں بننے کی کوشش کر رہی ہے؟

بہرحال، بے چارے مور کی سیکس لائف تو بلا وجہ بحث کا محور بن گئی ہے، مور اپنی نجی زندگی میں کیا کر رہا ہے اس بات سے کسی کا کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ کیوں اس کے آنسوؤں کا اتنی باریک بینی سے پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے؟ اصل سوال تو یہ ہے کہ جج صاحب کی سفارش کے مطابق کیا گائے کو قومی جانور بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟
ٍان کے یہ کہنے سے کہ سیکس نہ کرنے کی وجہ سے ہی مور انڈیا کا قومی پرندہ ہے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیکس کوئی معیوب یا گندی بات ہے جس سے دور رہنا اچھے کردار کی نشانی ہے؟
اگر ایسا ہے تو قومی جانور کے تخت و تاج کے لیے گائے اور شیر دونوں ہی کوالیفائی نہیں کرتے!
اور ممکن ہو تو دو ‘نارمل’ آنسو زرا شیر کے لیے بھی بہا لیجیے۔ شیر کی کیا خطا ہے، جنگل سے اس کی حکومت کا تختہ پلٹنے کی یہ سازش 
گائے کے لیے پہلے ہی حکومت اتنا کچھ کر رہی ہے کہ شیر احساسِ کم تری کا شکار ہوں گے۔ گائیوں کے لیے جنگل میں محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی تجویز ہے، انھیں شناختی کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں، انھیں مارنے پر آپ کو باقی عمر جیل میں گزارنا پڑ سکتی ہے، اتر پردیش میں ان کے لیے ایک ایمبولنس سروس شروع کی گئی ہے اور شیر بے چارے بیماری میں صرف جنگلی جڑی بوٹیوں سے ہی کام چلا رہے ہیں۔
انھیں ہٹانا ہی ہے تو ان کے لیے کم سے کم ایک ریٹائرمنٹ پنشن سکیم تو شروع کرنی ہی چاہیے۔ جن لوگوں سے اچانک اقتدار چھن جاتا ہے ان کا حال ہم نے دیکھا ہے۔
(سہیل حلیم)

