رمضان کے مہنگے پھل اور بے مقصد کا احتجاج

کبھی آپ نے سنا کہ کوئی پھل فروش رمضان میں مہنگا پھل بیچ کر ارب پتی بنا ہو؟ یا آپ نے کسی کریانے کی دکان والے کو رمضان میں مہنگی اشیا خورونوش بیچ کر امیر ہوتے دیکھا ہو؟

میرا نہیں خیال آپ نے دیکھا ہو گا کیوں کہ ناجائز منافع یہ لوگ کماتے ہی نہیں۔ تو سوچنے کی بات یہ ہے پھر یہ چیزیں ہر رمضان میں کئی گنا مہنگی کیوں ہو جاتی ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل منافع منڈی میں بیٹھا وہ ’مڈل مین‘ کماتا ہے جو نہ تو وہ پھل اگاتا ہے اور نہ لاد کر منڈی میں لاتا ہے۔ یہ اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ کئی کئی دن تک سبزی یا پھل اپنے سٹور رومز میں ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اب گورنمٹ کا باقاعدہ ایک محکمہ ہے جو روزانہ کی بنیاد پر نرخ جاری کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وکاندار اسی نرخ پر چیز کو فروخت کرے۔ سبزی منڈی ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں گورنمنٹ کا جاری کردہ نرخ نامہ سو فیصدی نافذ العمل ہو سکتا ہے جو کہ نہیں ہوتا، باوجود اس کے کہ چھاپہ مار ٹیم کے پاس مجسٹریٹ کے اختیار ہوتے ہیں۔

اس ساری صورت حال میں آپ بتائیں کہ احتجاج پھل فروشوں کے خلاف بنتا ہے کہ اس محکمے کے خلاف جس کی ذمہ داری نرخ کنٹرول کرنا ہے۔ اس کو ایسے سمجھنا مشکل ہے آئیں پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ بحیثیت قوم مسائل کے حل کے لیے ہمارا عمومی طریقہ کار کیا ہوتا ہے۔

ہم مچھروں سے بچاو کے لیے مچھر دانیاں استعمال کرتے ہیں اور ہم نے مچھر مار دوائیں بنانے کے کام کو ملین ڈالر انڈسٹری بنا دیا ہے ہم کبھی غور ہی نہیں کرتے کہ مچھر کیوں اور کس جگہ پیدا ہوتا ہے اور اس کی افزا ئش کو کنٹرول کیسے کیا جا سکتا ہے۔

ہم ہر سال کروڑوں روپیہ ایدھی اور دوسرے خیراتی اداروں کو خیرات کی مد میں دیتے ہیں لیکن کبھی اس بات پر حکومت سے احتجاج نہیں کرتے کہ یہ سہولیات دینا آپ کی ذمہ داری ہے خیراتی اداروں کی نہیں۔

ہم پرائیویٹ سکولوں کی ہر سال بڑھتی ہوئی فیسوں پر احتجاج کرتے ہیں لیکن کبھی حکومت سے یہ نہیں پوچھتے کہ تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کو معیاری انداز میں ہر شہری کو مہیا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

ہم نے جنریٹرز اور یو پی ایس کی انڈسٹری کو پاکستان کی بڑی انڈسٹریز میں سے ایک بنا دیا لیکن کبھی حکومت سے یہ احتجاج نہیں کیا کہ بجلی مہیا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

لیکن اس کے برعکس ہم کروڑوں کی عوامی املاک تباہ کر دیتے ہیں اور حکومت کو تہس نہس کر کے رکھ دیتے ہیں اس بات پر کہ امریکہ میں اسلام مخالف فلم کیوں بنی یا ڈنمارک میں گستاخانہ خاکے کیوں چھپے۔ یعنی ایسے کام پر باز پرس ضرور کرتے ہیں جس پر حکومت کا اختیار ہی نہیں۔

تو یہ ہمارا عمومی رویہ ہے عوامی سطح کے مسائل کو حل کرنے کا۔ ہم اتنے باشعور لوگ ہیں۔

رمضان میں مہنگے پھل بیچنے پر، پھلوں کا بائیکاٹ یا پھل فروشوں سے احتجاج کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی علاقے میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑے اور لوگ اس سے بچاو¿ کی کوئی تدبیر کرنے کی بجائے، طاعون کی بیماری کے خلاف احتجاج کو نکل پڑیں۔

عقل مندو، احتجاج کرنا ہے تو ان کالی بھیڑوں کے خلاف کرو جو نرخ کنٹرول کرنے کی تنخواہیں لیتے ہیں، جن کا کام نرخ پر عمل درآمد کروانا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words