فروٹ بین موومنٹ اور مستقبل کی امیدیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا سے ابھرنے والی فروٹ بین موومنٹ کا آغاز ہو چکا ہے۔ جون کی 2، 3، 4 بروز جمعہ ہفتہ اور اتوار تین دن کی پھل نہ خریدنے کی مہم پر متضاد آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تحریک کے حامیوں کا نقطہ نظر ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ناجائز منافع خور سرگرم ہو جاتے ہیں۔ ہر شے کے دام بڑھا دیے جاتے ہیں، لہاذا ان تین دنوں میں پھل نہ خرید کر ان منافع خوروں کے خلاف احتجاج رِکارڈ کروایا جائے۔

اس تحریک کی مخالفت کرنے والے شہریوں کا موقف ہے، کہ پھل نہ خرید کے اس خوانچہ فروش کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے، جس کا انحصار اسی کاروبار پر ہے۔ یہ بھی کہنا ہے کہ احتجاج ضروری ہے تو منڈی میں بیٹھے آڑھتی کے خلاف کیا جائے۔ وہ ایسے کہ منڈی میں جا کے اس آڑھتی کو مجبور کیا جائے کہ وہ پھلوں کو سستے دام بیچے۔ ایسا کہنے والا یہ بتانے سے قاصر ہے، کہ اگر آڑھتی نہ مانے تو اس ڈنڈا ڈولی کر کے سمجھایا جائے، یا کیا کیا جائے۔ بیچ بیچ میں ایسے جملے بھی پھینک دیے جاتے ہیں کہ برانڈڈ سوٹوں کا بایکاٹ کیا جائے۔ جواباً کہا جاتا ہے کہ اول تو برانڈڈ سوٹ عوامی مسئلہ نہیں ہے، اور اگر مان لیا جائے کہ ہے، تو آپ ہی کے کہنے کے مطابق اس ملازم کی دیہاڑی کا کیا ہوگا، جو برانڈڈ سوٹ بیچ رہا ہے؟

اکنامکس میرا مضمون نہیں ہے، لیکن ایف اے کی کسی کتاب میں ”طلب و رسد“ کا قانون پڑھا تھا، جس کی تفصیل یاد نہیں۔ احتجاج کے حامیوں نے شاید یہ قانون بھی نہ پڑھا ہو۔ احتجاج کے لیے قوانین کہاں یاد کرنے پڑتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت وقت کے ماتحت ادارے بیش تر اشیا کے نرخ طے کرتے ہیں۔ پرایس کنٹرول کمیٹیاں ہیں، فوڈ انسپکٹر ہیں؛ یہ سب کے سب بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ بے بس اس لیے کہ ان کی ایمان داری پر شبہہ کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ یا تو یہ ہے کہ پرایس کنٹرول کمیٹی اور فوڈ ڈِپارٹ منٹ دیومالائی داستانوں کے ادارے ہیں، جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے۔ ملک میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ ہے، سیل فون آپریٹنگ کمپنیوں نے لوٹ مار مچا رکھی ہے؛ ناقص اشیائے خورد و نوش ہیں، بسوں، رکشوں، ٹیکسی والوں نے من مانے کرائے کی رسم جاری کی ہوئی ہے، لیکن انھیں کوئی پوچھنے والا دکھائی نہیں دیتا۔ تھانوں کا احوال یہ ہے کہ معمولی سے معمولی جرم کی ایف آئی آر درج کروانے جاو، تو درج ہو کے نہیں دیتی۔ چوری ڈکیتی کی واردات کو گم شدگی کی رپورٹ میں بدل دیا جاتا ہے۔ عدالتوں کا احوال کیا بیان کیا جائے کہ قلم کی سیاہی سوکھ جاتی ہے۔ الغرض کون سا ادارہ ہے جہاں عوام کی داد رسی ہو؟ کوئی بھی نہیں۔

پاکستان ایسا ملک ہے جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے، مختلف النسل، متفرق اقوام، فقہے، مسلک، مذہب کے لوگ رہتے ہیں۔ برسوں انھیں سچے جھوٹے نظریات، تاویلیں، بے معنی تاریخ کی گھٹی گھول گھول پلائی گئی ہے۔ الجھنوں کا ایسا جال ہے کہ شہری یک سو ہو کے نہیں دیتے۔ ایسی تقسیم شدہ اقوام سے حکم ران طبقے کو زیادہ خطرہ نہیں ہوتا؛ کیوں کہ اپنے خلاف کسی بھی آواز کو مخالف قوم، فقہے، مسلک، یا مذہب کی تحریک کَہ کے اس کے اثر کو زائل کر دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہم بہت سی خرافات دیکھتے رہے ہیں۔ تعصب، نفرت، تضحیک، سیاسی و مذہبی مناقشہ آرئیوں کا بازار لگا رہتا تھا اور اب سجا ہوتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہ تری آتی جا رہی ہے۔ لوگوں کو اپنے رویوں پر غور کرنے کا موقع مل رہا ہے، مخالف نقطہ نظر رکھنے والے کو بھی اپنے جیسا انسان سجھا جانے لگا ہے، جس کے ویسے دکھ ہیں، ویسے ہی درد ہیں، ویسے ہی مسائل جیسا کہ ہمارے۔ اب وہ دوسروں کی بات سے چاہے اتفاق نہ کریں، ایک لمحے اس پر سوچتے ضرور ہیں۔

فروٹ بین موومنٹ پاکستان کی حد تک سوشل میڈیا پر پہلی منظم تحریک ہے، جس کے اثرات پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ یہ تحریک کسی ادارے، سیاسی جماعت، مذہبی حلقے، کسی مخصوص قوم کی جانب سے نہیں، بل کہ پرولتاری کی طرف سے ہے، جو کہنے کو آزاد ہے لیکن محنت کے سوا اس کی کوئی جائداد نہیں۔ نہایت ادب کے ساتھ ان دوستوں پر تنقید کرنا بجا ہے، جو اس کو رمضان کے مہینے سے جوڑ کے مخالفت کر رہے ہیں، گویا یہ کوئی مذہبی تحریک ہے لہاذا اس کی مخالفت کرنا واجب ہے۔ اختلاف کرنا ان کا حق ہے، تضحیک کرنا کسی کا استحقاق نہیں کہلاتا۔ بہ ہر حال خوش آیند بات یہ ہے کہ یہ تحریک پر امن ہے، نہ کوئی زور زبردستی سے کسی کو پھل خریدنے سے روک رہا ہے، اور نہ کوئی زور زبردستی سے پھل خریدنے پر مجبور کر رہا ہے۔ عدم برداشت سے معمور معاشرے میں یہ معمولی تبدیلی نہیں کہلائی جا سکتی۔

کوئی سیاسی جماعت ہو یا بندوق کی طاقت سے حکم ران بن جانے والا فوجی جرنیل، اس ملک پر راج کرنے کے لیے وہ تاجروں کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔ کروڑوں اربوں رپے خرچ کر کے جو جلسے منعقد کیے جاتے ہیں، وہ پارٹی لیڈر اپنی جیب سے نہیں لگاتا، نا ہی ہمارے یہاں ایسا کوئی نظام ہے کہ کارکنوں سے چندہ لے کر پارٹی کا فنڈ قائم کیا جائے۔ ان جلسوں پر پیسا خرچ کرنے والے، سیاسی جوڑ توڑ پر رقم لگانے والے اسی لیے خرچ کرتے ہیں، کہ ان کی حامی جماعت حکومت میں آنے پر ان کے کاروباری مفادات کا تحفظ کرے۔ اعلا عہدے دیے جائیں، بڑے بڑے پروجیکٹس کے ٹھیکے ملیں، پلوں سڑکوں میں غیر معیاری مواد استعمال ہو تو پکڑ نہ کی جائے۔ فوڈ کارٹل بنائیں کوئی سوال نہ کرے۔ اس کے لیے قوانین میں ترمیم کرے، یا انھیں لوٹ مار کی اجازت دے، اس سے ان کو مطلب نہیں۔ ایسے مافیا بن چکے ہیں، جو رسد کو قابو کر کے ناجائز منافع کماتے ہیں۔ ظاہر ہے جب حکومت عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو جائے تو عوام کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے خود ہی میدان میں اترنا پڑتا ہے۔ فروٹ بین موومنٹ ناکام رہتی ہے یا کام یاب ہوتی ہے اس کے بارے میں اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں، لیکن یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ سوشل میڈیا نے عوام میں یہ شعور بیدار کیا ہے کہ یک جہتی ہی میں، ان کا مفاد ہے۔ آیندہ بھی وہ رنگ، نسل، مذہب، قومیت سے بالا تر ہو کے اگر اپنے حق کے لیے ایک ہو جائیں، تو کوئی مائی کا لعل ان کے حقوق غصب نہیں کر سکتا؛ خواہ وہ پولِس کی وردی میں ہو، یا کسی جماعت کا علم اٹھائے دوسری جماعت پر تبرا کرنے والا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 319 posts and counting.See all posts by zeffer-imran