ٹرینڈ اہم ہے یا اس کے نتائج؟

ان دلائل کا جائزہ لینے سے پہلے معاشیات کے سادہ سے اصول کو سمجھنا ضروری ہے۔کسی بھی چیز کی طلب و رسد اس کی قیمت کا تعین کرتی ہے جبکہ باقی حالات جیسا کہ ملکی حالات خال م مال کی قیمت ،قدرتی حالات مستقل رہیں۔طلب اور قیمت کا معکوس تناسب ہے کہ جیسے جیسے قیمت بڑھے گی طلب میں کمی آئے گی۔ جیسے جیسے اس میں کمی آئے گی طلب میں اضافہ ہو گا جبکہ دوسری طرف رسد اور قیمت میں راست تناسب ہے جیسے جیسے قیمت بڑھے گی رسد میں اضافہ ہو گا جیسے جیسے قیمت کم ہو گی رسد کم ہو جائے گی۔اگر رسد طلب سے زیادہ بڑھ جائے تو قیمت میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں رمضان کی وجہ سے پھلوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جبکہ قیمتیں بھی بڑھی ہیں لیکن طلب میں کمی واقع نہیں ہوئی کیونکہ اس ماہ میں افطار و سحر کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔پھل اور سبزیاں روزانہ کی بنیاد پہ سپلائی ہونے والی اشیا ہیں۔اور ان کی فروخت بھی روزانہ کی بنیاد پہ کی جاتی ہے۔موسمی پھل اسی لیے سستے ہوتے ہیں کہ ان کی ترسیل زیادہ ہوتی ہے۔اب اس صورت میں قیمت کا بڑھنا اس وجہ سے نہیں ہے کہ اصول بدل گیا ہے بلکہ اضافے کی وجہ طلب میں غیر معمولی اضافہ ہے۔
یہ روایت ہے ہر رمضان میں ہمارے ملک میں اشیا کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔اس اضافے سے نہ تو امیر طبقے کو فرق پڑتا ہے جنہیں ڈیزائنرز سوٹ خریدنے ،بوفے ڈنر کرنے اور افطار میں اسراف کے طعنے دیے جا رہے ہیں کہ وہ سب کر سکتے ہیں تو غریب پھل فروش کو اضافی قیمت کیوں ادا نہیں کر سکتے ؟ نہ ہی اس کا اثر غریب طبقے کو پڑتا ہے کہ جب وہ سستا پھل بھی نہیں خریدپاتے تو اس کی قیمت میں اضافہ ہو یا تھوڑی سی کمی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر کسی طبقے کو فرق پڑا ہے تو وہ درمیانہ طبقہ ہے۔جسے سفید پوشی کا بھرم بھی رکھنا ہے اور رکھ رکھاو بھی نبھانا ہے۔
اس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد میں سے کتنے سوشل میڈیا پہ چلنے والے اس ٹرینڈ کو سنجیدگی سے لیں گے؟ روایتی طور پہ افطار و سحر میں اہتمام یا دوستوں اور خاندان کے افراد کی افطار پارٹیوں سے اجتناب کریں گے؟اس کی وجہ سے وہ بچت کی کون سی ایسی سطح پہ پہنچ جائیں گے کہ جس سے ان کا معاشی مقام بدل جائے گا۔ تین دن کے بائیکاٹ سے ایسا کوئی دوررس نتیجہ نظر نہیں آتا۔ دوسرا پھل اور سبزی چونکہ جلد خراب ہو جاتے ہیں تو ان کی خریداری نہ ہونے سے براہ راست نقصان کسے ہو گا ؟ اس کا نقصان صرف پھل فروش تک محدو نہیں رہے گا منڈی کا نظام مربوط ہوتا ہے۔ اس میں کسان ،آجر ،آڑھتی مزدور، وزن ڈھونے والے اور سب سے آخر میں دکان دار شامل ہیں جو اشیا کو صارفین تک پہنچاتے ہیں۔ایک دن اشیا کے فروخت نہ ہونے کی وجہ سے اگلے دن دکاندار آٹو میٹیکلی منڈی سے خریداری نہیں کریں گے اس سے مکمل سرکل متاثر ہو گا۔ جو اشیا کو بیچنے والے ہیں وہ کہیں نہ کہیں اشیا کے صارف بھی ہیں۔ روزانہ کی بنیادوں پہ کمانے والے افراد اس سے بری طرح متاثر ہوں گے۔
قیمتوں میں اضافہ یا کمی بھی کو ئی ایسا قانون نہیں ہے جسے دکاندار براہ راست اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں اس کا باقاعدہ نظام ہے اگر مقامی حکومت کی طرف سے طے کردہ ریٹس کی پیروی نہ بھی کی جائے تب بھی کوئی دکاندار اپنی مرضی سے اشیاء کی قیمت طے کر کے فروخت نہیں کر سکتا کیونکہ ایک تو اسے مارکیٹ کی طرف سے اخلاقی دباو¿ کا سامنا ہوتا ہے دوسرا ایسا کرنے سے وہ مارکیٹ کے مقابلے کی فضا سے نکل جاتا ہے جو اس کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔اس میں پھل فروش کی غلطی کتنی ہے؟ غلطی ہے تو سارے نظام کی ہے اس کے خلاف کمپین چلانے کی ضرورت ہے۔نہ کہ اندھا دھند ٹرینڈ فالو کرتے ہوئے ہجوم کا حصہ بن جائیں اور بلا سوچے سمجھے اسے لاگو کریں۔تو آپ جو بھی ٹرینڈ فالو کر رہے ہیں اس کی اندھا دھند پیروی کرنے سے پہلے غور کر لیں کہ آپ چاہتے کیا ہیں اور اس کا نتیجہ کیسے حاصل کریں گے؟اس کے مقاصد کیا ہیں اور آپ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے گیہوں کے ساتھ گھن کو تو نہیں پیس رہے؟کیا آپ بھی اسی بھیڑ چال میں شامل تو نہیں ہیں جو یہ تو جانتے ہیں کہ ٹرینڈ چلانا اور فالو کرنا ہے لیکن اتنی فرصت نہیں پاتے کہ اس کے نتائج پہ غور کر سکیں؟ہو سکے تو سوچئے۔

