خواجہ سراؤں کی زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 خواجہ سراوں کی زندگی دہکتے انگاروں پر گھسٹتی ہے ۔شاید ہم اس قدر بے حس ہو گئے ہیں کہ ہمیں ان تڑپتی زندگیوں کے دکھ درد کا ادراک ہی نہیں بلکہ ہم کسی نہ کسی طرح ان انگاروں میں تپش بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ وہ بالکل ہماری ہی طرح کے انسان ہیں، ہماری ہی طرح سوچتے اورمحسوس کرتے ہیں لیکن انہیں انسان سمجھا نہیں جاتا۔ وہ جیتے تو ہیں مگر مر مر کے،سانس تو لیتے ہیں مگر گھٹ گھٹ کے،انہیں جینے کا حق تو ہے مگر اس کے لیے انہیں بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ان کے رنگ برنگے لباس،چمکتے زیورات،روشن ورنگین چہرے،کھنکتے پائل اورلڑکھڑاتے بل کھاتے بدن میں زندگی گھسٹتی تو ہے مگر دہکتے انگاروں پہ۔ان کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے نجانے کتنی اندوہناک کہانیاں ہیں جنہیں سننے کی سکت شاید ہم میں نہ ہو۔ ہو سکتا ہے ہماری روح ان کہانیوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دے۔ایسی کہانیا ں اسی دنیا میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں مگر شاید غم کے ان جھروکوں میں جھانکنے کی ہم میں ہمت نہیں یا ان کی طرف غور کرتے ہوئے ہمارے پر جلتے ہیں۔

خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا وہ پسا ہوا اور کمزور طبقہ ہے جس کی کمزوریوں ، پریشانیوں اور دکھوں کا ہمیں احساس تک نہیں۔وہ پیدائش سے لے کر مرگ تک کس کرب سے گزرتے ہیں ہم اس پہ غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔زندگی کا ایک ایک لمحہ ان کے لیے عذاب سے کم نہیں۔ یہ تو وہ محروم طبقہ ہے جسے اپنے حتیٰ کہ ان کےماں باپ بھی اپنانے سے ڈرتے ہیں۔اپنوں اور بیگانوں کی بے اعتنائیاں اور بے وفائیاں سینوں میں لیے مٹکتے ، ہاتھوں پہ ہاتھ مارتے اور لوگوں میں مسکراہٹ بانٹتے ان خواجہ سراوں کے حوصلےکی دادکون نہیں دے گا ۔ ان میں سے ایک ایک کی ایسی درد بھری کہانی ہے کہ سن کرشایدہی کوئی دردمند اپنے ٓانسو اور ہچکیاں روک سکے۔

خواجہ سرا ہمارےغلط معاشرتی رویوں اور رجحانات کا شکار ہیں۔وہ پیدا ہوتے ہیں، بلوغت تو کیا شاید ابھی پہلی سانس بھی نہیں لے پاتے کہ ان سے نفرت کا آغاز ہوجاتا ہے۔طرح طرح کے حیلے بہانوں کے ذریعے ان سے جان چُھڑانے کے راستے نکالے جاتے ہیں۔ ذرا بڑے ہوں تو معاشرے، بہن بھائیوں اور والدین کا امتیازی اور دردناک رویہ انہیں ان “مکمل” انسانوں کی نام نہاد مہذب دنیا چھوڑ کر اپنے جیسے “نامکمل” لوگوں کے ساتھ شہرکےکسی کونے میں رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ رشتوں کے ٹوٹنے پہ انہیں بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی دوسرے لوگوں کو،ان کے بہن بھائی ان سے رابطہ رکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ انہیں اپنے ماتھے کا کلنک سمجھتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس معاشرے کے ماتھے کا کلنک خواجہ سرا نہیں بلکہ وہ بہن بھائی اور والدین ہیں جو معاشرے کے خوف سے انہیں خود سے جدا ہونے پہ مجبور کرتے ہیں۔

بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراوں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔باہر نکلیں تو طرح طرح کے طعنوں سے ان کا جینا دوبھر کیا جاتا ہے۔نوجوان اپنی جوانی کے زعم میں ان پر آوازیں کستے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی کچھ متوالوں کا ضبط اور ظرف ان کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ ان تماش بینوں کی سیٹیوں سے ان کی “تہذیب” چھلکنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور تو اور چھوٹے بچےبھی ان کے گرد اس طرح طواف کرتے ہیں جیسے انہیں مفت کے کھلونے مل گئے ہوں۔ مگرکوئی اس محروم اور مظلوم طبقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں ٓاتا۔ حکومت کے ایجنڈہ پریہ نہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی ان کی فلاح پر زیادہ زور نہیں،میڈیا کے پاس ایان علی اور دھرنوں جیسے “اہم” موضوعات کے سوا کسی “غیراہم” اور غیر منافع بخش موضوع کے لیے وقت نہیں۔ اور پھر ایسے موضوعات پہ ریٹنگ بھی تو نہیں بڑھتی۔ صبح شام نیکی کی تبلیغ کرنے والوں سے بھی کبھی خواجہ سراوں کے حقوق کی بات نہیں سنی۔ کوئی انہیں بتائے کہ ان کے حقوق پہ بات کرنا بھی تونیکی ہے۔

معاشرے کے تلخ اور غیر انسانی رویوں کے ساتھ ساتھ خواجہ سراوں کی معاشی حالت بھی نہایت نا گفتہ بہ ہے۔ہمارے سماجی رویوں کی وجہ سے نہ وہ کسی ادارے میں کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی تعلیم ان کا مقدر بن پاتی ہے ۔معاشی طور پرانہیں کنارے سے لگا دیا گیا ہے ۔

 شادی بیاہ کی تقریبات، بچوں کی پیدائش یا کسی اور اہم دن پے یہ اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اور ناچ گا کے کچھ کما لیا کرتے تھے مگر اب ان رجحانات میں کمی کی وجہ سے ان کا یہ اہم ذریعہ معاش بھی تقریباَ ختم ہو گیا ہے۔حکومت کی طرف سے بھی ان کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ ان کی تربیت اور تعلیم کے ایسا مراکز بھی نہیں جہاں یہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنا معاش کما سکیں۔ایسے میں ان کے پاس بھیک مانگنے اور سیکس ورکرز کے طور پر کام کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔ معاشرے کا یہی رویہ ان کے بدترین استحصال کا باعث بنتا ہے۔

خواجہ سرا معاشرے کا وہ طبقہ ہے جن کے مسائل پہ بہت کم ہات ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ بھی مکمل انسان ہیں اور ہمیں ان کی طرف اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔انہیں برابر کے حقوق اور معاشرے میں باوقار مقام دینے کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیئے ان کے لیے جامع معاشی منصوبہ بندی کرے اوران کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر سے بہتر قوانین متعارف کرائے۔غیر سرکاری تنظیموں کو ان کے مسائل پر ترجیحاً توجہ دینی چاہئیے۔ ہمیں چاہئیے کہ ان کے لیے تربیتی مراکز کا انتظام کریں اور ان کے حقوق کے لیے منظم جدوجہد کریں ۔شاید ہم سب مل کر اندھیروں میں گھری ان زندگیوں میں کچھ روشنی لے ٓائیں ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •