خواجہ سراؤں کی زندگی

خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا وہ پسا ہوا اور کمزور طبقہ ہے جس کی کمزوریوں ، پریشانیوں اور دکھوں کا ہمیں احساس تک نہیں۔وہ پیدائش سے لے کر مرگ تک کس کرب سے گزرتے ہیں ہم اس پہ غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔زندگی کا ایک ایک لمحہ ان کے لیے عذاب سے کم نہیں۔ یہ تو وہ محروم طبقہ ہے جسے اپنے حتیٰ کہ ان کےماں باپ بھی اپنانے سے ڈرتے ہیں۔اپنوں اور بیگانوں کی بے اعتنائیاں اور بے وفائیاں سینوں میں لیے مٹکتے ، ہاتھوں پہ ہاتھ مارتے اور لوگوں میں مسکراہٹ بانٹتے ان خواجہ سراوں کے حوصلےکی دادکون نہیں دے گا ۔ ان میں سے ایک ایک کی ایسی درد بھری کہانی ہے کہ سن کرشایدہی کوئی دردمند اپنے ٓانسو اور ہچکیاں روک سکے۔

بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراوں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔باہر نکلیں تو طرح طرح کے طعنوں سے ان کا جینا دوبھر کیا جاتا ہے۔نوجوان اپنی جوانی کے زعم میں ان پر آوازیں کستے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی کچھ متوالوں کا ضبط اور ظرف ان کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ ان تماش بینوں کی سیٹیوں سے ان کی "تہذیب” چھلکنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور تو اور چھوٹے بچےبھی ان کے گرد اس طرح طواف کرتے ہیں جیسے انہیں مفت کے کھلونے مل گئے ہوں۔ مگرکوئی اس محروم اور مظلوم طبقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں ٓاتا۔ حکومت کے ایجنڈہ پریہ نہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی ان کی فلاح پر زیادہ زور نہیں،میڈیا کے پاس ایان علی اور دھرنوں جیسے "اہم” موضوعات کے سوا کسی "غیراہم” اور غیر منافع بخش موضوع کے لیے وقت نہیں۔ اور پھر ایسے موضوعات پہ ریٹنگ بھی تو نہیں بڑھتی۔ صبح شام نیکی کی تبلیغ کرنے والوں سے بھی کبھی خواجہ سراوں کے حقوق کی بات نہیں سنی۔ کوئی انہیں بتائے کہ ان کے حقوق پہ بات کرنا بھی تونیکی ہے۔
معاشرے کے تلخ اور غیر انسانی رویوں کے ساتھ ساتھ خواجہ سراوں کی معاشی حالت بھی نہایت نا گفتہ بہ ہے۔ہمارے سماجی رویوں کی وجہ سے نہ وہ کسی ادارے میں کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی تعلیم ان کا مقدر بن پاتی ہے ۔معاشی طور پرانہیں کنارے سے لگا دیا گیا ہے ۔
شادی بیاہ کی تقریبات، بچوں کی پیدائش یا کسی اور اہم دن پے یہ اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اور ناچ گا کے کچھ کما لیا کرتے تھے مگر اب ان رجحانات میں کمی کی وجہ سے ان کا یہ اہم ذریعہ معاش بھی تقریباَ ختم ہو گیا ہے۔حکومت کی طرف سے بھی ان کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ ان کی تربیت اور تعلیم کے ایسا مراکز بھی نہیں جہاں یہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنا معاش کما سکیں۔ایسے میں ان کے پاس بھیک مانگنے اور سیکس ورکرز کے طور پر کام کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔ معاشرے کا یہی رویہ ان کے بدترین استحصال کا باعث بنتا ہے۔
خواجہ سرا معاشرے کا وہ طبقہ ہے جن کے مسائل پہ بہت کم ہات ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ بھی مکمل انسان ہیں اور ہمیں ان کی طرف اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔انہیں برابر کے حقوق اور معاشرے میں باوقار مقام دینے کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیئے ان کے لیے جامع معاشی منصوبہ بندی کرے اوران کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر سے بہتر قوانین متعارف کرائے۔غیر سرکاری تنظیموں کو ان کے مسائل پر ترجیحاً توجہ دینی چاہئیے۔ ہمیں چاہئیے کہ ان کے لیے تربیتی مراکز کا انتظام کریں اور ان کے حقوق کے لیے منظم جدوجہد کریں ۔شاید ہم سب مل کر اندھیروں میں گھری ان زندگیوں میں کچھ روشنی لے ٓائیں ۔


