ڈاکٹروں نے کہا مریض گندا ہے، ہاتھ نہیں لگائیں گے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ ۔ اور وہ مر گیا


ھم نے ان کو گٹر سے نکالا۔ اسپتال لے گئے، ڈاکٹروں نے کہا، یہ گندے ہیں، پہلے ان کو نہلا کر لاؤ۔

ہمارا روزہ ہے، تمہارا بیٹا ناپاک ہے، ہم اس کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ ۔ ۔ اور وہ مر گیا۔

کل صبح مسیحی برادری کے چارنوجوان، سینیٹری ورکر عرفان، فیصل، یعقوب اور شوکت سندھ کے شہر عمرکوٹ میں چھور روڈ پر اس گٹرکی صفائی کرنے مین ہول میں اترے جس میں ان ڈاکٹروں کا گند بھی ہوگا جنہوں نے سول اسپتال عمرکوٹ میں، گٹر کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے بیھوشی کے بعد لائے گئے عرفان، فیصل، یعقوب اور شوکت مسیح کا یہ کھ کر علاج کرنے سے انکار کردیا کہ۔ ہمارا روزہ ہے، گٹر سے نکالے گئے یہ لوگ گندے اور ناپاک ہیں۔

کسی نے ان کو آکسیجن تک نہیں دی۔

ڈاکٹر صاحبان کا ایمان سلامت رہا، ان کا روزہ بھی نہیں ٹوٹا مگر لائے گئے چار میں سے ایک تیس سالہ نوجوان عرفان کی زندگی کی ڈور ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا۔

باقی تین کو تشویشناک حالت میں پہلے حیدرآباد، پھر وہاں سے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔

نوجوان کے جاں بحق ہونے پر اس کے ساتھی اور رشتہ دار مشتعل ہوگئے، ایمرجنسی میں توڑ پھوڑ کی اور لاش کو پریس کلب کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا۔ مسیحی برادری کے سینکڑوں افراد جن میں مرد، عورتیں، بچے، عمر رسیدہ سب شامل تھے احتجاج کرنے لگے۔ روڈ بند کیا اور ٹائر جلائے۔

غربت کی چکی میں پسے ہوئے ان جدی پشتی بھنگیوں کو ہم نے انگریزی میں سینیٹری ورکر پکارنا تو شروع کیا ہے مگر ان کے ساتھ ہمارا رویہ تبدیل نہیں ہوا بلکہ پہلے سے بھی بد تر ہو گیا ہے۔

اپنے نوجوان کی لاش پر فریادیں کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ایک تو ان کو بغیر احتیاطی سامان کے گٹر میں اتارا جاتا ہے اور پھر ہم مر رہے ہوتے ہیں تو ہمارا علاج بھی نھیں کیا جاتا۔

سندھ حکومت نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ چھ افراد کے خلاف جن میں تین ڈاکٹر ہیں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جام کمبھر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ باقی پانچ افراد کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

مگر بات اتنی سادہ نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم جا کس سمت رہے ہیں۔ کیا ڈاکٹر بھی ایسے ہو سکتے ہیں؟ کہ مریض مر رہا ہے، اور ڈاکٹر اس کو ہاتھ بھی نہ لگائیں کہ اس کو گٹر سے نکال کر لائے ہو، ہمارا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

ان ڈاکٹروں سے تویہ سینیٹری ورکر ہزار گنا زیادہ آفرین کے مستحق ہیں جو کم از کم ایمانداری سے اپنی گٹر صاف کرنے والی ڈیوٹی تو کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحبان نے تو باوجود روزے سے ہونے کے اپنی ڈیوٹی تک ایمانداری سے نھیں کی جس کی ان کو تنخواہ ملتی ہے۔ مسیحا ان ڈاکٹروں کہ نھیں، مسیحا ان غریب بھنگیوں کو کہنا چاہیے۔

ہمارے علماء کو ایسے ڈاکٹروں پر ایک ایسا فتوٰی جاری کرنا چاہیے کہ آئندہ مذہب کو آڑ بنا کر اپنی ڈیوٹی نہ کرنے والے حرام خوروں کو آئندہ ایسا کرنے کی جرئت نہ ہو۔

حکومت کو ذمہ داروں کے خلاف کرمنل کیسز درج کرنا چاہیے اور پاکستان میڈیکل کاؤنسل کو چاہیے کہ ان ڈاکٹر صاحبان کی بطور ڈاکٹر رجسٹریشن کیسل کرے۔ یہ اس پیشے کے لائق نہیں۔

Facebook Comments HS