جمہوریت کی لچکدار شاخ اورآمریت کا بے لچک تنا

جمہوری دور میں یوسف رضا گیلانی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیے گئے ،آمریت میں کیا یہ ممکن تھا؟ آمریت ہوتی ہے تو ججز پی سی او کے تحت حلف اٹھاتے ہیں ،نظریہ ضرورت کے تحت انصاف کے ممبر پر بیٹھ کر قانون کا جنازہ نکالتے ہیں اور جمہوریت ہوتی ہے تو وزیراعظم کے خاندان کو گاڈفادر ،حکومت کوسسلی مافیا کہنے کی جرات دکھاتے ہیں۔ یہ فرق ہو تا جمہوریت کی لچکدار شاخ اورآمریت کے بے لچک تنے میں۔
دوتہائی نشتوں سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کے بیٹے حسن اورحسین نواز عدالتوں کا طواف کر رہے ہیں، دو دو گھنٹے انتظار اور چھ چھ گھنٹے تک جے آئی ٹی کے تلخ سوالوں کا جواب دے رہے ہیں۔ کیا عدالتی فیصلوں پر عمل داری اور احکامات کا پاس کبھی آمریت میں بھی ہوتا ہے۔ مشرف کے بیٹے بلال کیا کبھی ایسے گردن جھکاتے۔ یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں کہ آج ہم بڑے بڑے ناموں کو عدالت کے سامنے پیش ہوتے اور ان کا محاسبہ ہو تے دیکھ رہے ہیں۔ پرویز رشید، مشاہد اللہ، نہال ہاشمی جیسے لوگوں کو گھر جاتا دیکھ رہے ہیں۔ عدلیہ کی یہ بالا دستی ہرگز آمریت میں ممکن نہیں۔ آمر کسی کو جواب دہ نہیں ہو تا جب کہ منتخب نمائندوں کو ہر پانچ سال بعد عوام سے ووٹ مانگنے ہو تے ہیں اس لئے وہ عوامی امنگوں کا احساس رکھتے ہیں۔ جب عوام اپنے نمائندوں سے ناراض ہوتے ہیں توپھر ان کا حال پیپلز پارٹی جیسا ہوتا ہے۔ الیکشن 2007میں وفاقی حکومت کا پھل کھانے والی پارٹی 2013کے عام انتخابات میں پنجاب سے صرف دو نشتیں حاصل کر سکی۔ اور اب وہ سندھ میں خود کو بہتر کرنے ،سیاسی مشینری کو بروئے کار لانے ،عوام میں مقبول ہونے اور اپنے بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہے۔
آمریت پورے معاشرے کو چوس کر رس نکالتی ہے اور قصیدہ گو اس مشروب کا مزہ لیتے ہیں۔ مخصوص طبقہ جس کے آمرانہ نظام سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں صرف وہی انگلیوں پراس کے کلمے کی تسبیح چلاتے ہیں۔ اہل نظر ،اہل قلم اور اہل زبان جہاں ٹٹول ٹٹول کر جمہوریت کی شاخ سے کیڑے نکالتے ہیں ،کیا بہتر نہ گا وہ آمریت کے بے لچک تنے کو جنت کا پھل دار درخت ثابت کرنے والوں پر بھی دلائل سے حقائق واضح کریں۔

