پاک بھارت میچ پر اہم سیاسی و غیر سیاسی شخصیات کے تبصرے

محمود خان اچکزئی نے گہرے دکھ اور تاسف سے کہا، ”جب تک پشتونوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جائے گا، ہم یونھی ہارتے رہیں گے. فاٹا کا مسئلہ حل ہو جاتا تو ایک دو شاہد آفریدی، ایک آدھ یونس خان ٹیم کا حصہ ہوتے، تو یہ ٹیم کبھی نہ ہارتی۔“
قائم علی شاہ نے کہا، ”جو یہ کہتے ہیں، میری ٹیم ہر شعبے میں ناکام رہی، وہ جھوٹ کہتے ہیں، مراد علی شاہ نے صرف میچ جیتا ہے، ٹاس کے شعبے میں میرا پلڑا بھاری رہا.“
ادھر لندن سے نمایندہ خصوصی نے بتایا ہے کہ جلا وطن رہ نما نے میچ ہارنے پر افسوس کا اظہار یوں کیا ہے، ”ہمارے بزرگوں نے تقسیم ہند کا فیصلہ کر کے بہت بڑی غلطی کی؛ اس کا احساس آج انڈیا پاکستان میچ دیکھنے کے بعد مزید گہرا ہوگیا.“

مولانا فضل الرحمان نے کہا ”تہتر کے آئین کے تناظر میں ہم آخری دم تک نواز شریف کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ اور عوام سن لے، یہ کرکٹ ٹیم عوام کو نہیں، اپنے اللہ کو جواب دہ ہے.“
رانا عابد شیر علی نے ”ہم سب“ کے نمایندے کو خود کال کی اور اپنا بیان رکارڈ کروایا، ”اٹھارویں ترمیم کے بعد کرکٹ ٹیم بنانا صوبائی حکومت کا معاملہ ہے. صوبائی حکومتیں اپنے کرکٹر خود پیدا کریں.“
اس بیچ میں اے آر وائے کے ایک تحقیقاتی رپورٹر نے انکشاف کیا کہ ”وزیر اعظم نے مری میں جس بھارتی تاجر سے ملاقات کی تھی, اس کے ساتھ مل کے یہ میچ فکس کیا گیا.“ سرفراز نواز بھی وہیں موجود تھے، انھوں نے تائید کی ”یہ میچ فکس تھا۔“ نیز یہ بھی کہا، ”ریورس سوینگ انھی کی ایجاد تھی، عمران خان کو انھوں نے ریورس سوینگ کرنا سکھایا۔ جسے وہ اب یوٹرن کا نام دے کر اپنا کہتے ہیں۔“
نمایندہ خصوصی نے جب جنرل مشرف سے اس ہار کے بارے میں سوال کیا، تو انھوں نے فرمایا، ”میرے دور میں پاکستان ہر شعبے میں 
شیخ رشید نے میچ کے بعد ایک ٹویٹ کی، ”مجھے تو یہی سمجھ آتا ہے، کہ ٹیم اتنا آسان ٹارگٹ چیز نہیں کر سکی تو نواز شریف ہی نے میچ ہارنے کے لیے کہا ہوگا. سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لے کر جے آئی ٹی تشکیل دینا چاہیے.“
عمران خان نے ”گو نواز گو“ کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا، کہ ”میں تو پہلے ہی کہتا تھا، تبدیلی نہ آئی تو ہم ورلڈ کپ کبھی نہیں جیت سکیں گے۔ پھٹیچر لڑکے ٹیم میں شامل ہیں، میں انھیں اپنی ٹیم میں ریلو کٹا بھی نہ رکھوں۔“ اس موقع پر بیگم فردوس عاشق اعوان ان کے ساتھ تھیں، انھوں نے سر ہلا کے عمران خان کے بیان کی پر زور تائید کی۔

ٹیم کے کپتان سرفراز نے میچ کے بعد گلوگیر لہجے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا، ”الحمد للہ ہمارے لڑکوں نے پورے روزے رکھے ہیں۔ اگر لڑکے آج روزے سے نہ ہوتے تو انڈیا کی ٹیم کو کبھی نہ جیتنے دیتے۔“ انھوں نے اس بات پر بھی شکوہ کیا کہ ”جس ٹیم کو تین دن فروٹ سے دور رکھا گیا ہو، وہ پکوڑا چاٹ کھا کے ایسی ہی کارکردگی دکھا سکتی ہے.“

