بیرون ملک مقیم پاکستانی، بن بلائے مہمان


چلیں بھئی لندن حملے کا منصوبہ ساز پاکستانی نژاد نکلا۔ اس سے پہلے ایک بڑا گینگ بھی پکڑا گیا تھا جو پاکستانی نژاد تھا اور وہاں بچوں کو ریپ کرتا تھا؟ پاکستانی نژاد بیرون ملک مقیم لوگوں اور مسلمانوں سے ایک عجیب رشتہ محسوس ہوتا ہے۔ لندن کے میئرکا پاکستانی ہونے کا سن کر یہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں جیسے کوئی ہمارا ہی عزیز میئربن گیا ہو۔ باکسر عامر خان کو بھی پاکستانی نژاد کی بجائے پاکستانی کہہ کر ہی خوشی ملتی ہے۔ یہاں تک کہ سٹیو جابز کے ان جینز پر فخر کرنے کی کوشش بھی کر لی جاتی ہے جو اس کا شامی باپ اس کی گوری ماں کے حوالے کر کے کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کنارہ کش ہو گیا تھا۔ مگر جب دھماکوں اور خنجر گھونپنے جیسی خبریں آتی ہیں تو ہمیں کیسا لگتا ہے؟

گزشتہ برسوں میں ہمارے جاننے والوں میں سے بیسیوں لوگ بیرون ملک منتقل ہو گئے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہر پاکستانی بس بیرون ملک ہی جانا چاہتا ہے۔ ہماری اپنی کچھ سوچ اور ترجیحات ہیں، ہم نہیں گئے مگر بعض اوقات لوگوں کا رویہ کچھ اس طرح سے ہوتا ہے، کہ جا نہیں سکتے ناں بیرون ملک تو کہتے ہیں کہ ہم جانا ہی نہیں چاہتے، جا سکتے ہوتے تو چلے جاتے۔

بیرون ملک جانے سے پہلے لوگ یہاں کی شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔ معاشی ناہمواری ہے، کوئی سسٹم نہیں، رشوت چلتی ہے، آگے بڑھنے کا کوئی موقع نہیں، کرپشن بہت زیادہ ہے، بس باہر نوکری مل جائے تو یہاں پلٹ کر کبھی نہ آئیں۔

میرے جاننے والوں میں جو لوگ ملک چھوڑ گئے ہیں ان میں تین طرح کے رویے میں نے محسوس کئے۔ بہت ہی کم تناسب میں وہ لوگ ہیں جو باہر جا کر وہاں کی ثقافت میں ضم ہو سکے۔ اپنے بچوں کو گوروں کی طرح ہی پالتے ہیں اور انگریزی ہی سکھائی ہے۔ اس ملک کو چھوڑ گئے تو چھوڑ گئے۔ ہمیں دنیا کا تیسرے درجے کا باسی سمجھتے ہیں مگر خود وہاں کی ثقافت میں خوش رہتے ہیں۔

زیادہ تر وہ لوگ جن کی توجہ بچوں کی تربیت پر بھی ہے اور تعلیم پر بھی۔ بچے وہاں پر ان کے نظام کے مطابق چلتے اور سخت محنت کرتے ہیں اور پاکستان آ کر رشتہ داروں سے اپنے انگریزی لہجے میں صاف ترین اردو بھی بول لیتے ہیں اور پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہاں دھکے کھا رہے تھے، نہ اچھا پڑھے نہ لکھے، کسی طرح سے باہر پہنچ گئے مگر باہر جاتے ہی یہ یاد آتا ہے کہ ہمیں تو اپنی روایات بہت عزیز ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی وہاں پر جا کر سکہ مشین میں ڈالنے کی بجائے سکے پر دھاگہ باندھ کر کھینچ لیتے ہیں، ہر سسٹم جس کو ’کھینچا‘ لگا کر کسی طرح غلط استعمال کر سکتے ہوں کرتے ہیں۔ ان ملکوں کے وظائف کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لئے بچے پر بچہ پیدا کرتے ہیں۔ ان گوروں کے حلال کے طریقوں سے کمائے گئے ٹیکس کے پیسوں سے سہولتیں لیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مغرب کی بے حیائی اور گوریوں کی ننگی ٹانگوں پر ہر روز لعنت بھی بھیجتے ہیں۔

میں بیرون ملک رہی نہیں مگر سیرو تفریح کی غرض سے گئی ہوں۔ صاف ستھری سڑکیں، بڑے فٹ پاتھ، ہر اشارہ کام کرتا، ترتیب سے رکھے ڈھکن لگے کوڑے کے ڈبے، مجال ہے جو ان کے پاس سے گزر کر تھوڑی سی بو بھی آ جائے، زیر زمین ریل کا نظام ایک ترتیب کا پابند اور وقت کا تابع، ان سہولیات میں پل کر بڑے ہوئے شائستہ لوگ، جو رک کر راستہ دیتے ہیں، آپ کے چہروں پر سیاح ہونے کی پریشانی بھانپ کر سفر اور راستہ کی تلاش میں مدد دیتے ہیں، جو صرف محنت اور سیدھا راستہ جانتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ ان لوگوں کے ملک میں جا کر، ان لوگوں کا نمک کھا کر، ان کی آمدنی اور ٹیکس کے پیسوں پر عیش کر کے انہیں گالیاں دینا کیسا لگتا ہو گا؟

یہاں پر کہتے ہیں سسٹم نہیں، چیزیں ٹھیک نہیں ، ٹھیک ہوں تو ہم تہلکہ مچا دیں۔ جب وہاں جاتے ہیں تو اپنا سارا علیحدہ تشخص کیوں یاد آ جاتا ہے؟ آخر احساس برتری کو تقویت دینے کا کوئی اور طریقہ بھی تو ہو گا ناں۔ محنت کا راستہ مشکل کیوں لگتا ہے؟

جانے سے پہلے ہی سوچ لیں، وہاں پر ننگی ٹانگیں بھی ہیں اور ترقی بھی کر رہے ہیں وہ لوگ۔ خدا کے لئے انہیں ان کے رواجوں کے مطابق جینے دیں، یہاں اپنے حال میں رہ سکتے ہیں آپ۔ انہوں نے نہ تو آپ کو بلایا ہے اور نہ آپ کو واپس آنے سے روک رہے ہیں۔ آپ منتوں مرادوں اور کوشش سے ان کے ملک میں گئے ہیں۔ کچھ کرنا ہی ہے تو ان کے ملک کی بہتری کے لئے کام کریں جس کا آپ اس مشکل سے حصہ بنے ہیں۔ ان کو جا کر تبدیل مت کریں۔ اتنا برا لگتا ہے تو یہاں ہی رہیں۔

Facebook Comments HS

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے maryam@maryamnasim.com

maryam-nasim has 65 posts and counting.See all posts by maryam-nasim