ٹی وی چینلز علما کی ریٹنگ کو انڈر ایسٹیمیٹ نہ کریں
ہم پرزور احتجاج کرتے ہیں۔ یہ لوگ سارا سال ناچتے ہیں، گاتے ہیں، اور ڈراموں، فلموں اور اشتہاروں میں اداکاری کرتے ہیں۔ کیمرے کے سامنے صنف مخالف کے ساتھ کیسی کیسی قابل اعتراض حرکتوں سے ہماری مذہبی غیرت کو للکارتے ہیں۔ غرضیکہ مزے اڑاتے ہیں اور ہم یہ سب کچھ کسی نہ کسی طرح برداشت کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ اگر کسی سے اکیلے ملاقات ہو جائے تو ان کا دل رکھنے کے لیے تعریف بھی خوب کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ ہمارے ساتھ سخت زیادتی کر رہے ہیں۔ خاص طور یہ میڈیا کی خواتین، سارا سال کیسا کیسا اشتعال انگیز لباس پہن کر ہمارے صبر کا امتحان لیتی ہیں۔ اور ہم وہ سب بھی کھلی آنکھوں اور بھینچے ہونٹوں سے برداشت کر ہی لیتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ رمضان میں جو حرکت کرتے ہیں وہ کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں ہے۔
ادھر رمضان آیا اور ادھر انہوں نے ٹوپی پہنی یا دوپٹہ لیا اور ٹی وی پر وعظ شروع کر دیا۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ آخر ہم بھی انسان ہیں۔ ہماری بھی ضرورتیں ہیں، بیوی بچے ہیں بلکہ دوسروں سے تو کچھ زیادہ ہی ہیں۔ ہم نے بھی روزی کمانی ہوتی ہے۔ کسی کے پاس کوئی حق نہیں کہ ہماری روزی پر لات مارے۔ یہ وعظ کرنا ہمارا ہنر ہے، ہمارا حق ہے اور ہمیں کو کرنا چاہیے۔ ہم کسی اور کو مذہبی کاروبار کہ اجازت نہیں دے سکتے۔ خاص طور پر جب اس میں ہمارا کوئی حصہ نہیں جو وہ سارا سال کرتے ہیں تو ہم انہیں وعظ کی اجازت کیوں دیں، جو کہ خالصتاً ہمارا شعبہ ہے۔
جناب مولانا صاحب، یہ پروگرام مذہبی نہیں ہیں۔ ان کا مقصد مذہب کو استعمال کر کے اپنی بکری بڑھانی ہوتی ہے۔ اور ٹی وی چینل پر بکری سے مراد یہ ہے کہ جتنے زیادہ لوگ انہیں دیکھیں گے اسی سے ان کی ریٹنگ اور ریٹ بڑھیں گے۔ اور بکری کرنے کے لیے مجمع لگانا پڑتا ہے۔ لہذہ وہ ان لوگوں کو یہ نوکری دیتے ہیں جو مجمع لگانے کے ماہر ہوں۔ باقی رہا مجمع برقرار رکھنے کا فن اور اس کے لیے مواد، تو وہ فنکار لوگ ہیں انہیں تو سکرپٹ یاد کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ وہ اپنے سکرپٹ میں کچھ احادیث بھی شامل کر لیتے ہیں۔ اور مشہور احادیث اور حکایتیں تو بہت سوں کو ویسے بھی یاد ہوتی ہیں کیونکہ وہ سارے بھی تو ماشا اللہ پیدائشی مسلمان ہیں اور انہوں نے بھی مسلمان گھروں میں پرورش پائی ہے۔ سب باتیں پہلے سے لکھی ہوئی مذہبی لٹریچر میں موجود ہیں۔ انہوں نے کوئی نئی چیز ایجاد تو کرنی نہیں ہوتی ہے کیونکہ مذہب تو صدیوں پہلے مکمل ہو گئے تھے اور ان میں کسی طرح کی کمی یا اضافہ تو ویسے ہی غلط ہے۔ اس لیے فن کار بھی یہ کام بالکل ٹھیک کر رہے ہیں۔
نہیں میں آپ کی بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ یہ مذہبی تعلیم کے معاملات ہیں۔ ان معاملات پر علمائے کرام کے علاوہ بھی لوگوں نے وعظ شروع کر دیے تو قوم کے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے۔ اس لیے ہمارا احتجاج بالکل ٹھیک ہے۔ یہ رمضان پروگرام والے تمام فنکاروں سے مائیک چھین کر ہمارے یعنی علمائے کرام کے حوالے کرنے ہوں گے۔ ورنہ اس بے راہروی سے مذہب، ملک اور قوم سبھی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
جناب کون سی ایسی نئی بیماری ہے جو فنکاروں کے مذہبی وعظ کرنے سے پھیل جائے گی اور علما کے وعظ سے نہیں پھیلی۔ علما کے صدیوں کے وعظ سے قوم کس حال میں ہے یہ تو کسی سے چھپا نہیں۔ فرقہ واریت، مذہبی روداری اور قوم کی اخلاقیات کا حال تو دیکھیں، یہ سارا کچھ علما کے وعظ کا ہی تو نتیجہ ہے۔ کیسی پرورش کی ہے آپ نے صدیوں تک مسلمانوں کی۔ یہ رمضان پروگرام شروع ہونے سے پہلے تو آپ ہی کی اجارہ داری تھی۔ اس پر بھی تو ذرا غور کریں۔
اگر قوم فرقوں میں بٹ گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ دوسروں کی سازشوں کا شکار ہو گئے ہیں اور ہمارے فرقے یعنی اصلی دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس میں گھاٹا ان لوگوں کا اپنا ہی ہے۔ کیونکہ تمام دینی تعلیمات سے بالکل واضح ہے کہ ہمارا عقیدہ اسلام کے عین مطابق ہے اور باقی سارے غلطی پر ہیں۔ ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
لیکن یہ جو فنکار مرد اور عورتیں ہیں وہ تو بالکل بھی مذہبی پروگرام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کی وضع قطع اور چال ڈھال ہی مذہبی نہیں لگتی۔ ان کا مذہب سے کیا تعلق ہے۔ ان کا کام ناچنا، گانا اور ڈرامے کرنا ہے۔ سارا سال وہ ان گناہ کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ لمبے نوٹ کماتے ہیں۔ مشہور ہوتے ہیں۔ اپنے فین بناتے ہیں۔ اور ہمیں رمضان میں بھی اس کا موقع نہیں دیتے۔
وعظ کرنا نیک لوگوں کا کام ہے۔ اور مستند نیک لوگ صرف علمائے کرام ہی ہیں۔ یہ فنکار لوگ نہ صرف یہ کہ نیک اور صالح نہیں بلکہ سارا سال گناہ میں مشغول رہتے ہیں اور رمضان میں مذہبی پروگراموں کو لیڈ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ہمارا حق مارتے ہیں۔ انہیں اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اور ہاں جہاں تک مجمع لگانے کی صلاحیت اور چینل کی آمدنی بڑھانے کا تعلق ہے تو اس میں بھی ہمیں Underestimate نہ کیا جائے۔ جب مائیک ہاتھ میں اور کیمرہ سامنے آتا ہے تو کوئی مائی کا لعل (یا لعلڑی) ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔


