بیوٹی پارلرز کے دھوکے

بھئی کوئی اچھا پارلر تو بتاؤ۔ کافی سارے کام ہیں۔ میرے پاس تو کوئی جواب نا تھا۔ عظمٰی نے غصے سے کہا کہ بتا بھی دو۔ اچھا راحیلہ تم بتاؤ۔ راحیلہ نے دو تین نام بتانے کی جرات کی مگر ساتھ ہی کہہ دیا کہ دیکھ لو، تمھیں پسند آتا بھی ہے کہ نہیں۔ عظمیٰ کو غصہ آ گیا کہ بھانجی کی شادی اس کے ذمے ہے۔ گھر کی سبھی خواتین کے لیے سستا اور اچھا پارلر دیکھنا تھا۔ مگر کیا کرتی میں، کوئی اچھا پارلر ہوتا تو بتاتی نا، معیاری اور سستا۔ ویسے پاکستان میں ایک عجیب تاثر پایا جاتا ہے کہ مہنگی چیز اچھی اور اصلی ہوتی ہے۔ مگر جناب پارلر کے معاملے میں یہ فارمولا فیل ہے۔

رمضان المبارک میں ایک اور مسئلہ پھن کاڑھے کھڑا ہوتا ہے اور وہ ہے بیوٹی پارلرز کا مسئلہ۔ ویسے تو جدھر بھی دیکھا جائے ملک میں من مانی کی فضا ہے۔ کس کس کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ پھلوں کی مہم سے تو کوئی کارگر نتیجہ نہیں نکل سکا، الٹا بیس بیس روپے اور مہنگے کر دیے گئے پھل سزا کے طور پہ۔ تو اب کسی مسئلے کی طرف ہمت نہیں کر پائے گا کوئی سر اٹھانے کی۔ میں کافی عرصے سے خواتین کی توجہ اس موضوع پہ دلانا چاہ رہی تھی۔ ’ بیوٹی پارلرز کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری او ر دادا گیری‘۔ ویسے آپ کسی بھی مسئلے کی جڑ پہ نظر ڈالیں تو ایک ہی بات نظر آئے گی، من مانی۔ بدمعاشی سے اینٹھے گئے پیسے، چاہے وہ گلی کا درزی لے رہا ہو یا کوئی بیوٹی پارلر۔ کسی بھی جگہ کوئی چیک نہیں۔ جب جس کا جی چاہا وہ دکان کھول لے، اپنی مرضی سے قیمت مختص کرے اور چل پڑے۔ درزی کا جب جی چاہے کسی بھی سوٹ کے 1500 روپے مانگ لیتا ہے اور گھر جا کر جب سوٹ پہنو تو غلط ناپ کا سلا ہوتا ہے۔ پھر اپنی دکان پہ لڑنے کے لیے غنڈے بٹھائے ہوتے ہیں۔ اس کی مرضی کہ جب جی چاہے تا خیر سے کپڑے سی کر دے اور جواباً آپ خاموش رہیں۔ جب جی چاہے 500 روپے بڑھا کے وصول کرے۔

تو بات ہو رہی تھی بیوٹی پارلرز کی۔ چلیں میں آپ کو راولپنڈی کے مشہور اور خوبصورت علاقے بحریہ ٹاؤن لیے چلتی ہوں، جہاں پارلرز کا انبار لگ چکا ہے۔ بحریہ ٹاؤن میں رفتار دھیرے رہے گی کیونکہ وہاں سڑکیں ہر وقت ادھڑتی بنتی رہتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پہلے ناقص مال لگایا جاتا ہے پھر اس ہی کو توڑ کے دوبارہ بنایا جاتا ہے۔ واہ بھئی خوب خدمت اور پیسہ ہے۔

قارئین، میرا اور شاید ہر خاتون کا یہی طریقہ کار ہو گا کہ جب کسی نئے پارلر میں جاتی ہیں تو تھریڈنگ کروا کے دیکھتی ہیں جو سب سے آسان اور ابتدائی کام ہے، جو کہ چھوٹے سے چھوٹے پارلر کو آنا ضروری ہے۔ مقابلے کے لیے پاکستان کے چند بڑے پارلرز نے ایک دوسرے کے آس پاس اپنی چین کھول رکھی ہیں جو ہزار روپے کے کام کا ڈھائی سے تین ہزار روپیہ لے رہے ہیں۔ میں کسی دوسرے کی مثال نہیں دونگی۔ میں ذاتی طور پہ خود ہر پارلر میں گئی اپنی سہیلی کے ساتھ۔ سچ کہوں تو عمومی طور پہ ہر لیڈی کو آٹھویں دسویں دن تھریڈنگ کی ضرورت پڑ ہی جایا کرتی ہے۔ میں مہنگے اور بڑے پارلرز کی مثال دوں گی۔

میں پہلے ایک انتہائی مشہور پارلر میں گئی کہ کراچی سے ہی میں اس پارلر کی بڑی مشہوری سنتی آئی ہوں۔ داخل ہوتے ہی رسید بنا دی گئی گویا یہ بھی آج کل کا ایک نیا طریقہ واردات ہے پارلرز کا۔ کیونکہ زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ گاہک مطمئن نہ ہو اور پھر قیمت پہ بحث ہو۔ میرے مرد قارئین کو شاید یہ بات سمجھ نا آرہی ہو۔ تو آگے کا حال سنیئے۔ خیر رسید بنوانے کے بعد مجھے ایک کمرہ دکھایا گیا۔ میں خوشی خوشی وہاں جا کے بیٹھ گئی۔ پھر ایک لاش نما، زندگی سے تنگ، بدبو سے بھرپور ایک بدتمیز سی لڑکی آئی جس نے تین منٹ کا کام تیئس منٹ میں کیا۔ ظاہر ہے مجھے اس کا تختہ مشق بنایا گیا تھا۔ وہ دھاگے کو کوستی جا رہی تھی اور کئی بار مجھے بھی کہ مجھے ٹھیک سے کھال کھینچنی نہیں آرہی۔ میں نے انتہائی عزت سے عرض کی کہ میں پہلی بار یہ کام نہیں کروا رہی ہوں۔ بدبو اور تکلیف سے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اے سی بند تھا۔ پھر وہی ہوا، میرے اپر لپس دو جگہ سے ادھڑ گئے۔ خون جو نکلا تو میں بھاگی۔ نا مجھے سوری کہا گیا نا کوئی کریم لگائی گئی۔ یہ تو تھا پہلے کا حال۔

پھر دس دن بعد دوسرے پارلر گئی۔ اس بار بھی وہی تھریڈنگ اور ساتھ میں فیس ویکس۔ پہلے رسید بنوائی اور گندے سے حبس زدہ کمرے میں لے جایا گیا۔ ایک سڑی بسی، غصے اور حجم سے بھرپور، لڑکی اندر آئی جو دیگر لڑکیوں سے ساتھ ساتھ لڑتی بھی جا رہی تھی (شاید اس کا منہ بند کرانے ادھر بھیج دیا گیا تھا) میرے سر پہ براجمان ہو گئی۔ پھر اس نے ایک چھوٹی سی نا ہونے کے برابر ویکس کی پٹی لگائی (جو عموماً چار سے پانچ بار لگتی ہے) اور کہا کہ بس ایک ہی بار لگاؤں گی باقی تھریڈنگ کروں گی۔ میں نے احتجاج کرنے کی کوشش کی کہ پیسے تو ویکس کے لیے ہیں آپ نے، تو مجھے ڈانٹ دیا گیا کہ آپ کو کیا پتہ اور یہاں بھی وہی ہوا، تھریڈنگ سے کھال اڑا دی گئی مطلب کھل کے اناڑی۔ میں جب جانے کے لیے نکلی تو ریسپشن پہ ایک نسوانیت سے بھر پور صاحب کھڑے تھے۔ انھوں نے انتہائی عاجزی سے پارلر کی سروسز کے اور میرے تجربے کے متعلق پوچھا۔ میں نے جب یہ سب احوال سنایا تو انھیں تھوڑا ناگوار گزرا مگر بڑ ی مشکل سے سوری کہہ گئے۔ یہ بھی ویسے ایک فیشن بنتا جا رہا ہے کہ پارلر میں ایک عدد لڑکا ہیئر کٹنگ کے نام پہ موجود ہو۔ اس سے بڑا اچھا اثر پڑتا ہے۔

چھونے کا تری زلف بہانہ تو ملے
زلفوں کو سنوارنے کا فن سیکھا ہے

ایک جگہ سے میں نے ہیئر کلر کروایا۔ ارے جناب آپ نے تو کچھ اور کلر دکھایا تھا تو کہتے ہیں کہ آپ کے بال ٹھیک نہیں۔ ان کا رنگ خراب ہے۔ جب ہیئر کٹنگ کرواؤ تو زیادہ انتظار نہ کیجیے کہ آپ کے بال سکھا کے سیٹ کیے جائیں گے۔ کیونکہ اس کے پیسے الگ سے ہوں گے۔ مگر یہ بات بعد میں بتائی جاتی ہے۔ بازو ویکس کرواتے کھال جل جاتی ہے یا سرخ دھبے آ جائیں تو کہتے ہیں کہ آپ کی کھال ڈھیلی ہے۔ بھئی بہت نازک ہیں آپ تو۔ فیشل کا تو نا ہی پوچھیں۔

پارلرز اور درزی رمضان المبارک میں، دو سو فیصد عام دنوں سے زیادہ کماتے ہیں اور ظلم یہ کہ قیمت بھی رمضان میں ہی بڑھاتے ہیں۔ کوئی تو ان کے ریٹ کارڈ چیک کرے۔ ان کی دادا گیری دیکھے۔ عجیب جنگل ہے، کسی چیز کی سنوائی ہی نہیں۔ کیا ساری دنیا میں یہی جنگل کا قانون ہے؟ چلیں نیو یارک چل کے دیکھتے ہیں۔ وہاں بیوٹیشن کے امتحان کے دو حصے ہوتے ہیں، ایک تھیوری دوسرا پریکٹیکل۔ تحریری امتحان بی ایس سی بیالوجی کی طرح ہوتا ہے اور اس امتحان سے قبل آپ کو 1200 گھنٹے اسکول میں پڑھائی کرنی ہوتی ہے۔ جس کی عمومی قیمت دس ہزار ڈالرز ہیں۔ عام طور پہ لوگ پریکٹیکل امتحان میں پاس نہیں ہو پاتے۔ مثلاً آپ ناخن اور بالوں کی ساخت کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ پھر صرف اس کا پریکٹیکل چار گھنٹے کا ہو گا جس میں سب سے زیادہ اہمیت صفائی اور حفظان صحت کو دی جاتی ہے۔

لاطینی امریکی اور دیسی لوگوں کے آنے سے قبل امریکیوں کو تھریڈنگ کا علم نہیں تھا (کیا خوش قسمتی ہے نا)۔ ویکس کے لیے الگ لائسنس چاہیے حالانکہ یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہیں (یہاں گھر کی کام والی بھی کر دیا کرتی ہے)۔ صفائی کے لیے آپ کو گلوز پہنناہوتے ہیں اور کلائنٹ آپ سے ہاتھ دھونے کا بھی کہہ سکتا ہے۔ وہاں کسی بھی نقصان کی صورت میں قانونی کارروائی کی جاتی ہے اور مقدمہ کر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے انشورنس کروانی پڑتی ہے۔ مثلاً ایک کلائنٹ کا ہاتھ مہندی سے جل گیا تھا تو پارلر کو 5000 ڈالرز کا جرمانہ بھرنا پڑا۔ قانونی طور پہ پارلر نے نوٹس لگایا ہوتا ہے کہ کسی کو کسی قسم کی الرجی ہونے کی صورت میں پارلر کو پہلے مطلع کیا جائے ورنہ پارلر ذمہ دار نہیں ہو گا۔ وہاں قانونی طور پہ نرخ نامہ طے شدہ ہوتا ہے اور شکایت کی صورت میں بیورو آف کنزیومر افئیر فوری نوٹس لیتا ہے۔

ہمارے یہاں تو کسی بھی صورت میں پارلر ذمہ دار نہیں ہوتا۔ میں یہ سوچتی ہوں کہ ان اونچی دکانوں کے بارے میں خاموشی کیوں نہ توڑی جائے۔ ظاہر ہے جن کی جیبیں بھری ہیں انھوں نے تو نہیں سننی میری، یہ تو مڈل کلاس لوگوں کے مسائل ہیں۔ میں حکومت اور دیگر متعلقہ لوگوں کا دھیان اس صورت حال پہ دلوانا چاہتی ہوں کہ خدارا کسی طرح کوئی کوالٹی چیک ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جائے جو ان سب شکایات کا نوٹس لے۔ ان کا بیوٹیشن لائسنس چیک کیا جائے، انشورنس چیک کیا جائے خاص کر ہر گلی گلی کھلے ہوئے پارلرز کا۔ کوئی بھی لڑکی جسے جاب نہیں ملتی یا باہر کام نہیں کر سکتی، رشتے داروں کو تختہ مشق بنا کے ہاتھ صاف کرتی ہے اور اپنا پارلر کھول لیتی ہے۔ خدارا بس کر دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words