قاتل کی تلاش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناول نگار جیمس پیٹرسن سے اپنا کوئی تعارف نہ تھا، نہ کبھی نام سنا، نہ کوئی تحریر پڑھی۔ ایک روز کچھ پڑھنے لائک پھرولتے ہوئے ان کا ناول انویزیبل چکھنے کا سوچا۔ کہانی کا آغاز پھیکا سا نکلا، کوئی خاتون شعلوں میں گھری ہیں اور یہی بیان کرنے میں کئی سطریں گھسیٹ دی گئی ہیں۔ تنگ آ کر ناول رکھنے کا سوچا ہی تھا کہ کہانی کچھ کچھ دلچسپ ہوتی معلوم ہوئی۔

کہانی کی مرکزی کردار ایمی نامی خاتون ہیں جو امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی میں تجزیہ کار ہیں۔ ان کی بہن مارتھا گھر میں آگ لگنے سے ہلاک ہو جاتی ہیں اور ایمی کو شک ہے کہ آگ حادثاتی طور پر نہیں لگی بلکہ مارتھا کو قتل کیا گیا۔ تفتیشی ادارے ایمی کے نظریے سے اتفاق نہیں کرتے اور یہ بات ان کے اعصاب پر سوار ہو جاتی ہے۔

ایمی معاملے کو مزید کریدتی ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے امریکا کے کئی اور علاقوں میں آگ لگنے کے ایسے ہی واقعات سامنے آئے ہیں، اور ان کا سلسلہ جاری ہے۔ ایمی کا خیال ہے کہ یہ ایک ہی شخص کی کارستانی ہے۔ مایوسی کے عالم میں وہ اپنے سابق منگیتر ہیریسن بک مین سے رابطہ کرتی ہیں جو ایف بی آئی میں ہی تفتیش کار رہنے کے بعد ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وہ قائل ہو جاتے ہیں کہ آگ لگنے کے چند مخصوص واقعات کے پیچھے ایک ہی شخص کا ہاتھ ہے۔

ہیریسن ایف بی آئی کے بڑوں کو تفتیش میں معاونت کے لیے قائل کر لیتے ہیں، لیکن سب سے پہلے انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ آگ کا لگنا حادثہ نہیں، واردات ہے۔ چونکہ کسی کو جرم کا شبہ نہ تھا، اس لیے مرنے والوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم تک نہ کیا گیا تھا۔ آخر پوسٹ مارٹم رپورٹ آ جاتی ہے اور تفتیشی ادارے بھی ایمی کے نظریے سے متفق ہو جاتے ہیں۔

اب قاتل کی تلاش شروع ہوتی ہے۔ وارداتوں کی تفصیلات سے کسی ترتیب کا پتہ چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تفتیشی ادارے آخر کار ایک پیٹرن تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ انہیں علم ہو جاتا کہ قاتل اگلی واردات کب اور کس شہر میں کرے گا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں علاقے کا علم نہیں ہو پاتا اور قاتل آزاد گھومتا پھرتا ہے۔

بڑے عرصے بعد ایک ایسا ناول پڑھنے کو ملا کہ جس کی کہانی اپنے ساتھ بہا لے گئی۔ کہانی کا انجام تو بہت ہی حیران کن ہے۔

سر ورق دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ناول جیمس پیٹرسن نے اکیلے نہیں لکھا بلکہ ڈیوڈ الیس بھی شریک لکھاری ہیں۔ دو ناول نگار مل کر ایک کہانی لکھیں، اس قسم کے تجربات سے پہلے واقفیت نہ تھی۔ میں اس اچھی کہانی کا تمام کریڈٹ جیمس صاحب کو دیے بیٹھا تھا جب ان ہی کا ایک اور ناول برن پڑھا۔ اس بار شریک لکھاری کوئی اور تھے، اور ناول پڑھنے کا بالکل بھی لطف نہ آیا۔ معلوم ہوتا ہے انویزیبل اگر اتنا اچھا ہے تو اس میں تمام کمال ڈیوڈ الیس کا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عمیر محمود

عمیر محمود ایک خبری ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہیں، اور جو کچھ کرتے ہیں اسے صحافت کہنے پر مصر ہیں۔ ایک جید صحافی کی طرح اپنی رائے کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اپنی سنانے میں زیادہ اور دوسروں کی سننے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ عمیر محمود نوک جوک کے عنوان سے ایک بلاگ سائٹ بھی چلا رہے ہیں

omair-mahmood has 47 posts and counting.See all posts by omair-mahmood