جمہوری ثقافت کے فروغ میں جنسی تعلیم کا کردار


جنسی تعلیم ہمیں فیصلہ سازی کی تربیت مہیا کرتی ہے۔ انتخاب کی آزادی موجود ہو تو نوجوان بے بسی کے عالم میں نامناسب فیصلے کرنے پر مجبور نہیں ہوتے۔ فیصلہ سازی کی یہ تربیت جمہوری فیصلوں اور پالیسیوں میں انتخاب کا بنیادی تقاضا ہے جو افراد انفرادی فیصلوں میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں وہ لوگ معاشرے میں اجتماعی طور پر درست ترجیحات کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ جمہوریت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں دوسروں کے حق انتخاب کا احترام کرنا چاہیے۔ جمہوری ثقافت میں انسانوں کو شیطان اور فرشتے میں بانٹنے کا چلن نہیں پایا جاتا۔ جنسی تعلیم کے نتیجے میں نوجوانوں کے ذہنی رویوں میں ناگزیر انسانی تنوع کے لیے احترام پیدا ہوتا ہے۔

یہ نکتہ قابل غور ہے کہ صنفی مساوات کے بغیر جمہوریت کا مقدمہ ہی استوار نہیں ہوتا۔ جمہوریت کا بنیادی اصول شہریوں کے درمیان رتبے اور حقوق کی مساوات ہے۔ عورت اور مرد میں امتیازی اقدار قائم رکھتے ہوئے مساوات کا یہ درجہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جمہوریت کے لئے صنفی مساوات لازم ہے۔ تاریخی طور پر ہم جانتے ہیں کہ کم عمر لڑکے اور لڑکیوں میں جنسی تعلیم نہ ہونے کے باعث امتیازی رویے فروغ پاتے ہیں۔ لہٰذا جنسی تعلیم صنفی مساوات کی اقدار کو مضبوط کر کے جمہوری ثقافت کو فروغ دیتی ہے۔

مانع حمل ادویات اور اشیاءتک بہتر رسائی کے نتیجے میں بغیر خواہش کے حمل کا امکان کم ہو گیا ہے۔ صدیوں سے عورت اور مرد کے تعلقات میں Unwanted Preganancy کا عنصر کشیدگی کا باعث رہا ہے۔ مانع حمل ادویات اور طریقوں کے بارے میں جانکاری جنسی تعلیم کا لازمی عنصر ہے۔ گزشتہ سو برس میں انسانی آبادی دو ارب سے بڑھ کر ساڑھے سات ارب تک جا پہنچی ہے۔ ایٹمی تصادم کے استثنیٰ کے ساتھ نسل انسانی کے نابود ہونے کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہا چنانچہ یہ اصول بھی اپنے معانی کھو بیٹھا ہے کہ جنسی عمل صرف تولیدی مقاصد کے لیے جائز ہے۔ جنسی عمل انسانوں کے لیے خوشی کا ایک بنیادی ذریعہ ہے اور یہ ایک ایسی معنویت ہے جس سے بہرہ مند ہو کر انسانی زندگیوں میں خوشیوں کا تناسب بڑھایا جا سکتا ہے۔

جنسی تعلیم ہمیں عقل اور خرد کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مثلاً یہ کہ ہمارے گھرانے میں کتنے بچوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں کس عمر میں بچے پیدا کرنا ہیں۔ قریبی رشتہ داروں میں شادی کے نتیجے میں بچوں کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خود لذتی زندگی کے معمولات کا حصہ ہے یا کج روی۔

جنسی تعلیم ہمیں صنف مخالف سے قابل قبول لب و لہجے اور باہم احترام پر مبنی زبان کا استعمال بھی سکھاتی ہے۔ مثال کے طور پر دفتر یا کام کی جگہ پر کس قسم کی زبان استعمال کرنا جائز ہے۔ عوامی مقامات پر کون سا لب و لہجہ قابل قبول ہے۔ گھر کے اندر گفت و شنید کے کیا اصول ہیں۔ دوسروں کی خلوت کے بارے میں رائے زنی اور قیاس آرائی سے کیوں گریز کرنا چاہیے۔ کسی کے جسمانی خدوخال کو موضوع بحث بنانا کیوں غلط ہے۔ جنسی تعلیم کا یہ حصہ ہمارے جیسے ملک میں اس لیے بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ ہمارے ہاں عوامی جلسوں میں حتیٰ کہ پارلیمنٹ میں بھی گالی دشنام تک نوبت جا پہنچتی ہے۔ جمہوریت اپنی رائے کے اظہار میں ضبط کا درست دیتی ہے اور جنسی تعلیم اس رویے کو پروان چڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

جنسی خلجان اور منتشر خیالی کے باعث ہماری ابلاغ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ایسے معاشروں میں جہاں صنف کی بنیاد پر فاصلے کا رواج پایا جاتا ہے۔ عورتیں اور مرد ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو میں بلاغت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ سپیچ پرابلمز مثلاً توتلا پن یا ہکلاہٹ عام طور پر جنسی الجھنوں ہی کا نتیجہ ہیں۔ جنسی تعلیم کے دوران بچے اپنے انتہائی ذاتی معاملات پر اعتماد کی فضا میں بات کرنا سیکھتے ہیں چنانچہ انہیں اپنے خیالات مرتب کرنے میں بہتر مہارت حاصل ہوتی ہے۔ جمہوری مکالمے کا ایک بنیادی حصہ اپنے موقف کو موثر انداز میں دوسروں تک پہنچانا ہے۔ جنسی تعلیم ہمیں مفادات کے ٹکراؤکو ذاتی عداوت کا رنگ دیے بغیر ایک دوسرے کے سامنے پیش کرنے کا سلیقہ دیتی ہے۔ جنسی تعلقات میں بھی جمہوری مکالمے کی طرح عداوت اور دشمنی کی بجائے قابل عمل سمجھوتے کی جستجو کی جاتی ہے چنانچہ جنسی تعلیم پانے والے شہری جمہوری ثقافت میں زیادہ بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جمہوری عمل مخالفین کو ملیا میٹ کرنے کا نام نہیں بلکہ ایسے اجتماعی بندوبست کی جستجو کرتا ہے جس میں ممکنہ حد تک تمام گروہوں اور طبقات کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ جنسی تعلیم ہمیں اپنے شریک حیات کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ دو افراد میں مفاہمت کا یہ رویہ جمہوری ثقافت کو مستحکم کرتا ہے۔

جمہوری ثقافت شفافیت کا تقاضا کرتی ہے۔ غیر جمہوری معاشرے ریاکاری، منافقت، اخفا اور سازش کے بل پر چلتے ہیں۔ جنسی تعلیم انسانی رویوں میں شفافیت کو فروغ دینے کا بہترین طریقہ ہے۔

جمہوریت میں ہمیں یہ اصول تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ہماری رائے میں غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے۔ اسی سے ضمنی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے مخاطب کی رائے بھی درست ہو سکتی ہے۔ اس سے خود راستی اور نرگسیت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ جنسی تعلیم ہمیں اپنے رویوں پر غور و فکر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہم اپنی خامیوں پر قابو پا کر زیادہ خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔ اپنے رویوں اور خیالات پر نظرثانی جمہوریت ثقافت اور جنسی تعلیم میں قدر مشترک ہے۔ جنسی تعلیم میں قول اور فعل کی ٹھیک ٹھیک حد بندیوں سے آگاہ کرتی ہے مثلاً رضامندی کا مفہوم کیا ہے؟ خلوت کے معاملات کو سرعام بیان کرنے سے گریز کیوں ضروری ہے؟ جنسی تعلق اور باہم احترام میں کیا تعلق ہے؟ جمہوری بندوبست بھی اسی طرح کچھ اصول اور ضابطوں کی پابندی کا نام ہے۔ تعزیری قوانین میں نواہی معاملات کا تعین کیا جاتا ہے۔ آئینی اداروں میں اختیارات کی تقسیم کا اصول جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے۔ جنسی تعلیم میں سکھائی گئی حدود و قیود کی پابندی جمہوری بندوبست کی تحدیدات کو سمجھنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ جنسی تعلیم اور جمہوریت کا بنیادی درس آزادی کا احترام ہے اور آزادی ایک صوابدیدی دائرے کا مفروضہ ہے۔ اس دائرے سے قدم باہر نکالنا جنس اور جمہوریت دونوں میں ممنوع ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2