جمہوری ثقافت کے فروغ میں جنسی تعلیم کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری عمر چون برس ہے۔ میں دو بچوں کا باپ ہوں اور گزشتہ تیس برس سے بڑی حد تک خوش و خرم زندگی گزار رہا ہوں۔ تاہم مجھے معلوم ہے کہ میری خوشی میں اتفاقات کو زیادہ دخل ہے۔ معاشرے نے ایک شہری ہونے کے ناتے میری خوشی، آزادی اور تحفظ کی کوئی خاص ضمانت نہیں دی۔ میری خواہش ہے کہ میرے بچے ایک ایسی دنیا میں بڑے ہوں جہاں ان کی خوشیاں کسی اتفاق یا حادثے پر منحصر نہ ہوں بلکہ ریاست اور معاشرے میں اس کے لئے ادارہ جاتی بندوبست کیا گیا ہو۔ میری خواہش ہے کہ میرے بچے ایک جمہوری، مہذب اور روشن خیال معاشرے میں پروان چڑھیں۔ جمہوریت محض ایک نظام حکومت نہیں بلکہ ایک اقداری نظام ہے جس کے چار بنیادی نکات ہیں۔ علم، پیدوار، تخلیق اور محبت۔ ”ہم سب“ سے تعلق کے ناتے مجھے معلوم ہے کہ حالیہ عرصے میں یہاں کچھ ایسی آرا پڑھنے میں آئیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے اور باشعور افراد بھی جمہوری ثقافت میں محبت کی اہمیت سے بڑی حد تک ناواقف ہیں۔ جنسی تعلیم ان کے لئے ایک اجنبی تصور ہے اور یہ کہ ہم میں سے اکثر لوگ جمہوریت کے استحکام میں جنسی تعلیم کی اہمیت سے ناآشنا ہیں۔

یہ سامنے کی باتیں تو ہم سب جانتے ہیں کہ بلوغت کی عمر میں داخل ہونے والے بچوں کو جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔ اس سے ان کی اخلاقی اور جسمانی صحت بہتر ہو سکتی ہے، وہ بے جا خوف اور تجسس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ بالغوں کی جانب سے کیے جانے والے ممکنہ جنسی استحصال (child molestation) سے بھی خود کو بچانے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ جسمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں غیر ضروری تشویش یا احساس گناہ کا شکار ہونے کی بجائے تعلیم اور دوسرے معاملات زندگی کی طرف ٹھیک سے توجہ دے سکتے ہیں۔ بری صحبت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ انہیں احساس ذمہ داری کے ساتھ اچھے اور برے میں فرق سمجھا سکتے ہیں۔ لیکن جنسی تعلیم محض حیاتیاتی معاملات سے تعلق نہیں رکھتی۔ ایچ جی ویلز نے کہا تھا کہ ”انسانی تاریخ تہذیب اور پسماندگی کے درمیان ایک دوڑ کی کہانی ہے“۔ میں اس میں صرف یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ جن لڑکے اور لڑکیوں کو درست جنسی تعلیم سے استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ یہ دوڑ جیتنے کی بہتر صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔ گزشتہ صدی کے معروف ماہر تعلیم پالوو فریرے نے تعلیم کے بارے میں ایک بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ تعلیم غیر جانبدار نہیں ہوتی۔ تعلیم یا تو کسی پر بالادستی حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے یا انسانوں کو آزادی سے ہمکنار کرنے کا بندوبست۔ جنسی لاعلمی، توہمات اور فرسودہ خیالات کے اندھیرے میں شرمندہ زندگی گزارنے والے آزادی کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ چنانچہ تعلیم کو انسانوں کے لئے اختیار کا سرچشمہ بنانا مقصود ہو تو جنسی تعلیم کو نظام تعلیم کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔

ہمارے معاشرے میں تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کا تصور موجود نہیں۔ جب کہ والدین اور بزرگوں کی طرف سے جنسی معاملات میں بچوں کی باضابطہ رہنمائی کا چلن نہیں ہے۔ خدا معلوم کس بقراط نے یہ اصول طے کر دیا تھا کہ یہ وہ معاملات ہیں جو بچے بالغ ہونے پر خود بخود جان لیں گے۔ اس بے معنی تصور کا انجام دیکھنا ہو تو اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے اور یہ جاننے کی کوشش کیجئے کہ شادی شدہ افراد میں خوشی اور ناخوشی کا تناسب کیا ہے۔ لڑکوں میں جنس کے بارے میں گمراہ کن تصورات کا کچھ اندازہ تو ملک بھر کی دیواروں پر لکھے اشتہارات سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ المیہ شاید ہی کوئی جان پائے کہ بے جا خوف اور گھٹن کی فضا میں پرورش پانے والی لڑکیوں کو شادی شدہ زندگی میں کس پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ اظہار اور سپردگی کا راستہ اختیار کریں تو ان پر بے راہ روی کا شک کیا جاتا ہے۔ اور اگر جھجھک کا شکار ہوں تو ان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شریک حیات کو خوش رکھنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔ اس تحریر سے میرا مقصد جنسی تعلیم اور جمہوری اقدار میں مشترک نکات بیان کرنا ہے تو آئیے مختصر طور پر اس موضوع کا جائزہ لیتے ہیں۔

جنسی تعلیم پانے والے بچوں میں اپنی ذات کے بارے میں زیادہ اعتماد پایا جاتا ہے۔ انسان کے حقوق اور احترام کا گہرا تعلق گوشت پوست سے بنے انسانی جسم کے احترام سے منسلک ہے۔ جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی جسمانی خصوصیات کے بارے میں احساس کمتری یا برتری کا شکار ہوں وہ حقوق اور آزادیوں کے مباحث کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ دنیا میں ایک بھی ایسا جمہوری ملک نہیں دکھایا جا سکتا جو انفرادی آزادیوں کا احترامکیے بغیر جمہوریت کے ثمرات سے بہرہ ور ہوا ہو۔

انسانوں کے جنسی رویوں میں بھی سیاسی اور معاشرتی خیالات کی طرح بے پناہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ پسماندہ معاشروں میں یک رنگی پر زور دیا جاتا ہے۔ مہذب معاشرہ انسانوں کے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کا احترام سکھاتا ہے۔ اختلاف اور تنوع کا احترام رواداری کہلاتا ہے۔ رواداری ایک بنیادی جمہوری قدر ہے اور جنسی تعلیم ہمیں رواداری سکھاتی ہے۔

جمہوری معاشرے میں شہری آزادیوں کا ایک بہت بڑا حصہ انفرادی انتخاب سے تعلق رکھتا ہے۔ لباس سے لے کر پیشے کے انتخاب تک انفرادی انتخاب کا احترام جمہوری معاشرے کا حسن ہے۔ جنسی تعلیم ہمیں انفرادی انتخاب کی اہمیت سے آشنا کرتی ہے۔ جس معاشرے میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جنسی معاملات میں انفرادی انتخاب کا احترام کرنا سیکھ لیتے ہیں ان معاشروں میں رتبے کی مساوات کا اصول اور انفرادی انتخاب یعنی منفرد ہونے کا حق روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

درست جنسی تعلیم سے بہرہ ور ہوئے بغیر انسان جنسی مسرت سے کماحقہ طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ جنسی تعلیم معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی خوشی کی شرح میں اضافہ کرتی ہے۔ دنیا میں ہر برس World Happiness Index رپورٹ شائع کی جاتی ہے۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ مرتب کرتا ہے۔ سال 2017 ءکے لیے دنیا کے پانچ خوش ترین ممالک بالترتیب ناروے، ڈنمارک، آئس لینڈ، سوئٹزر لینڈ اور فن لینڈ قرار پائے۔ کل 157 ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 92 رہا۔ افغانستان، ٹوگو، بے نین، شام اور برونڈی آخری پانچ درجوں پر آئے۔ شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ خوشی کے اعلیٰ معیار رکھنے والے ممالک میں جنسی تعلیم کا بندوبست بھی مثالی ہے اور جمہوری استحکام میں بھی یہی ممالک اوپر کے درجوں میں آتے ہیں۔

جنسی تعلیم ہمیں دو طرفہ طور پر اطمینان بخش ازدواجی تعلقات کی حرکیات سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ گھریلو زندگی میں ناخوشیوں کا شکار ہونے والے افراد جمہوری معاشرے کے نصب العین کو فروغ نہیں دے سکتے بلکہ اپنی الجھنوں اور مایوسیوں کے باعث جمہوری اقدار میں غیر ضروری تناؤ، فرقہ وارایت اور انتہا پسندی پیدا کرتے ہیں

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •