قصّہ ارون دھتی رائے کے ناول کا


بات اتنی ہے کہ کتاب مجھے مل گئی۔ اس کتاب کو میں ہاتھوں میں لیے لیے یوں پھررہا ہوں کہ غالب کے شعر والے غیر کا سا حال ہو گیا:

غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر

کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے

میں تو چاہتا ہوں کہ لوگ ادبدا کر پوچھیں۔ سو بار پوچھیں تو میں ایک بار بتائوں۔ آپ چاہے مجھے اس شعر کے لحاظ سے غیر قرار دے دیں لیکن میں اس کتاب کے ساتھ سلوک وہ محبوب کے خط والا کروں گا۔

نہیں، غالب کے زمانے کا کوئی مخطوط میرے ہاتھ نہیں آ گیا ہے لیکن پتہ قریب قریب کا ہے غالب کے زمانے کی دہلی۔ ارون دھتی رائے کا نیا ناول میرے ہاتھ لگ گیا ہے، اسی لیے میں گھبرایا ہوا سا ہوں۔ کروں تو اب کیا کروں۔ جائوں اور سب کو دکھلائوں۔ لیکن میں یہ کیوں سوچ رہا ہوں۔ کتاب مل جاتی ہے تو اور کیا کرتے ہیں، اسے پڑھ ڈالتے ہیں، مگر اس کتاب کے ساتھ اتنی معمولی بات کیسے ہوسکتی ہے۔ اس کتاب کا حاصل کر لینا اور اس وقت، یہ بھی کامیابی کی کوئی دلیل بن گئی ہے جس کا اس کی ادبی قدر و قیمت سے بس دور کا تعلّق ہے۔

یہ اس کتاب سے پھیلنے والی سنسنی کا حصّہ ہے۔ ایک بار آپ نے کتاب دیکھ لی تو پھر یہ صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گی۔ اس کے بعد کے مرحلے تو کتاب کی اپنی حیثیت پر مُنحصر ہوں گے اور یہ مرحلے بہت کڑے ہوتے ہیں۔

میں چُھپا نہیں سکتا کہ اس کتاب کو حاصل کرنے کے لیے بےتاب ہو رہا تھا۔ بس کسی طرح مل جائے۔ پچھلے ہفتے لندن کی دکانوں میں پوچھ دیکھا۔ انھوں نے ٹکا سا جواب دے دیا کہ چھ جون کو بین الاقوامی اجراء ہوگا۔ اسی شہر میں۔ آپ تب آئیے گا اب اُن سے کیا کہتا کہ اتنی دور سے میں کیسے آؤں۔ چناں چہ ہاتھ ملتا ہوا آگیا۔ ساری دنیا کے میڈیا پر اس کتاب کی اشاعت جس طرح خبر بن رہی ہے، میں وہ بھی بڑی دل چسپی سے دیکھ رہا ہوں۔ مصنّفہ کی تصویر، بیانات، انٹرویو ذرا ذرا سے وقفے کے ساتھ سامنے آرہے ہیں کہ شوق کو مہمیز ملتی رہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کی قیاس آرائیاں، چند ایک تبصرے۔ لندن کے گارجین اخبار نے ابتدائی صفحات پہلے سے چھاپ دیے اور میں نے وہ فوراً کمپیوٹر سے پرنٹ کیسے، بستر میں لیٹ کر اسی اہتمام سے پڑھ ڈالے جس طرح میں کوئی بھی اچھے سے اچھا ناول پڑھتا ہوں۔

مصنّفہ کی تصویریں متاثر کن مگر انٹرویو بھی ایک سے ایک عمدہ۔ مان لیجیے کہ اسے گفتگو کا فن آتا ہے۔ اس کی ناول نگاری کے بارے میں آپ دو رائے رکھ سکتے ہیں مگر حالات حاضرہ اور ناول کے فن کے بارے میں وہ اس طرح بات کرتی ہے کہ آپ توّجہ دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ پھر خالی خولی چونکانا نہیں۔ اس میں گہری نکتہ آفرینی بھی خوب ہوتی ہے۔ دنیا کے بدلتے حالات اور اپنے ملک کی دگرگوں صورت کے بارے میں وہ کوئی لگی لپٹی نہیں رہتی۔ وہ جو کچھ بھی کہتی ہے، اسے لوگوں کی توجہ حاصل کر لینا آتا ہے۔ اور یہ کوئی معمولی فن نہیں۔

لوگوں کی قیاس آرائیاں سب کے اشتیاق کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ کسی کو یقین ہے کہ اس کے قلم سے شاہکار کے علاوہ کچھ اور نہیں نکل سکتا۔ ایک صاحب دوسروں کو باور کرا رہے ہیں کہ اب وہ ادب تخلیق کرنے کے کام سے گئی۔ فیس بک پر ہمارے ایک ادیب دوست نے ارشاد فرما دیا کہ ایسے ناول تو دنیا بھر میں روزانہ چھپتے رہتے ہیں، اردو میں بھی اچھے ناول چھپ رہے ہیں لیکن ان کو دنیا کی توجہ حاصل نہیں ہونے پاتی۔ چلیے صاحب، معاملہ ہی صاف ہوگیا۔ اس ناول کے بارے میں تمام خوش فہمی کا قلع قمع کر دیا۔ ظاہر ہے کہ کتاب کو پڑھے بغیر۔

اب تو ہم جیسوں کو بھی کتاب پڑھنے کا موقع مل گیا ہے۔ آٹھ سات چھ پانچ چار تین دو ایک__ جس طرح فضا میں راکٹ چھوڑا جاتا ہے اسی طرح یہ کتاب بھی لانچ ہوگئی۔ اب اسے دنیا دیکھ سکتی ہے۔

ظاہر ہے کہ بہت کامیاب مارکیٹنگ کی حکمت عملی اس سارے سلسلے کے پیچھے کام کررہی ہے۔ میڈیا پر ہائپ کس طرح قائم کیا گیا، اس میں تھوڑی تھوڑی انفورمیشن وقفے وقفے سے ریلیز کی گئی، لوگوں کی توقعات قائم کی گئیں، تجسّس کو بیدار کیا گیا__ یہ سب کتاب کے سامنے آنے سے پہلے۔ سب نے یہ قصّہ سُن لیا ہے کہ اس نامعلوم ہندوستانی خاتون کے پہلے ناول نے دھوم مچا دی۔ نامعلوم نام کو بین الاقوامی اسٹار بنا دیا۔ بُکر پرائز مل گیا اور بین الاقوامی حیثیت بھی۔ اس کے بعد وہ ایکٹی وزم کی جنگ لڑتی ہے۔ حکومت کے خلاف بات کرتی ہے اور بیس سال کے بعد اگلا ناول لکھتی ہے۔ ناول سے پہلے بنا بنایا قصّہ تو آپ کو مل گیا۔

اس کے حلقہ اثر میں آپ بھی آگئے۔ جیسے مارکیٹ میں کوئی نئی پروڈکٹ لانچ کی جاتی ہے۔ چلیے، ہم اسی میں خوش ہیں کہ یہ سلوک کتاب کے ساتھ بھی برتا جا سکتا ہے۔

اس کتاب کے چھپنے سے پہلے اس کی کامیابی کی تیاری کرلی گئی۔ یاد آیا انتظار صاحب ایک کتاب کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے۔ چھپنے سے پہلے اس کا پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا کہ آخر کار ایک عظیم ناول سامنے آرہا ہے، انھوں نے کہا تھا۔ اور اس مہم کے پیچھے اس کا ناشر تھا۔ اب اس کے بعد یہ بات محض ایک ضمنی تفصیل رہ جاتی ہے کہ انتظار صاحب کی عمومی ناپسندیدگی کے باوجود مجھے وہ کتاب اب بھی خاصی پسند ہے۔ میری اس رائے کو یہ کہہ کر وہ ایک طرف کر دیتے تھے کہ تم نے یہ سب نہیں دیکھا ہے، باقاعدہ تیاری کی گئی تھی عظمت کا ڈھول بجانے کے لیے۔

چلیے مان لیا۔ ناولوں کے قصّے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں سب کچھ ممکن ہے، ہر بات قرین قیاس ہے۔ ارون دھتی رائے نے یہ ثابت کر دکھایا ہے۔

میرے اشتیاق کا یہی عالم تھا کہ دوچار دفعہ جاکر کتابوں کی اس دکان پر پوچھ آیا جہاں سے عام طور پر کتابیں خریدا کرتا ہوں۔ وہ ہر بار یہی کہتا، آئے گی تو بتا دیں گے۔ مگر اس نے آخر وقت تک بتایا نہیں۔

اس کیفیت میں آج پھر وہاں پہنچ گیا۔ کتابوں کی دکان نہ ہوئی محبوب کا کوچہ ہو گیا، کسی نہ کسی بہانے وہاں پہنچ جاتا۔ کائونٹر پر کوئی اور شخص بیٹھا ہوا تھا۔ چاروں طرف دیکھ لیا اور کتاب کی جھلک بھی دکھائی نہیں دی تو اس سے پوچھ بیٹھا۔

سر سے پائوں تک مجھے گھور کر دیکھنے کے بعد اس نے پوچھا، آپ نے بُکنگ کرائی ہے؟

بُکنگ؟ میں ہکلا کر رہ گیا۔ اگر بکنگ کرا سکتا تو پلاٹ کی نہ کرتا، بحریہ ٹائون کی بہتی گنگا میں ہاتھ خوب ہاتھ دھوتا۔

’’آپ پرانے کسٹمر ہیں‘‘ اس نے مجھ پر احسان جتاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ آخری دو کاپیاں رہ گئی ہیں، ان میں سے ایک اٹھالیں۔۔۔‘‘

اس نے بتایا کل جتنی کاپیاں نکالی تھیں، سب کی سب محض ایک گھنٹے میں بک گئیں۔ لوگ مانگتے ہوئے آئے اور ہاتھ ملتے ہوئے چلے گئے۔ وہ شکایت کرنے لگا کہ ہیڈ آفس سے جتنی کاپیاں مانگ رہے ہیں، اس کی آدھی ہماری برانچ کو الاٹ ہو رہی ہیں۔ اب کاپیوں کی ڈیمانڈ لکھوا دی ہے، تین چار دن کے بعد مل سکیں گی۔۔۔‘‘

ڈیمانڈ اور سپلائی کی پوری کہانی اس نے مجھے سمجھا دی۔ لندن میں کتاب ریلیز ہوتی ہے اور کراچی میں بیسٹ سیلر بن جاتی ہے۔

کتاب سامنے ڈسپلے پر نہیں رکھی تھی۔ سیلز مین نے کسی دراز میں سے نکال کر دی۔ اور تھیلی میں رکھ کر کہ کسی کی نظر نہ پڑے۔ جیسے کتاب نہ ہو کوکین کی پُڑیا ہو۔ ’’لوگ دیکھ لیتے ہیں تو مانگنے لگتے ہیں۔۔۔‘‘ وہ کہنے لگا۔

اپنے حصّے کی کتاب تھام کر میں پلٹا تو یاد آیا آج فیس بک پر بینا سرور نے وڈیو کلپ لگایا ہے کہ جب ارون دھتی رائے 2002ء میں کراچی آئی تھی تو آواری ہوٹل میں کیا زور دار تقریر کی تھی۔ میں بھی اس جلسے میں موجود تھا۔ پہلا ناول پڑھ کر جس قدر گرویدہ ہوا تھا، اس سے زیادہ اس تقریر کے بعد ہوگیا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان دو ضدی بچّوں کی طرح پٹاخے پھوڑ چکے تھے اور اندوہ ناک تباہی کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ پاکستان کے سائنس داں نے ان شہروں کے نام گنوا دیے تھے جن کو چند سیکنڈ میں تباہ کیا جا سکتا تھا۔ میں ایسا سہم گیا کہ ایک ٹوٹی پھوٹی کتاب کا خاکہ جو کاغذ پر بن رہا تھا، خاک ہو کر اُڑ گیا۔ ’’تخیّل کی موت‘‘ کی دلیر اور نڈر مصنّفہ نے ببانگِ دہل کراچی میں اعلان کیا کہ اگر اس کو کسی طرح پتہ چل جائے کہ اس کا ملک ہندوستان، پاکستان کے کس شہر کی جانب ایٹمی بم بار میزائل پھینک رہا ہے تو وہ پسند کرے گی کہ اس میزائل کو وصول کرنے کے لیے پاکستان میں موجود ہوں اور سامنا کریں۔ ہمارے آنسوئوں کی دھندلاہٹ تالیوں کی گونج کو نہ دباسکی۔ پورا مجمع کھڑے ہو کر جانے کتنی دیر تک تالیاں بجاتا رہا۔

ایک کے بعد ناول تو اور نہیں آیا لیکن میں بڑے شوق سے ارون دھتی رائے کے مضامین پڑھتا۔ سرمایہ دارانہ نظام اور کارپوریٹ حرص و ہوس کے کتنے پہلو اس کی تحریر سے روشن ہو جاتے اور جدید ریاست کی ستم گری صاف ظاہر۔

یہ بھی کسی اخبار میں پڑھا کر وہ گھنے جنگلوں میں جنگ جو سورمائوں سے ملنے گئی ہے۔ ریاست کے جبر وتشدد کے خلاف اس کو احتجاج کرتے اور سینہ سپر ہوتے دیکھا۔ میں نے بڑی خوشی سے قبول کیا جب شہ بانو علوی نے مجھ سے جنگل میں باغیوں سے ملاقات کا احوال اردو میں ترجمہ کرنے کے لیے کہا۔ ترجمے کی شرط کڑی تھی۔ مصنّفہ خود کسی سے پڑھوا کر سُنیں گی اور فیصلہ کریں گی کہ ترجمے ان کے معیار کے مطابق ہے۔ میری محنت وصول ہوگئی جب ان کی طرف سے اطلاع ملی کہ ترجمے کا کام جاری رکھیں، وہ اشاعت کے لیے منظور کر رہی ہیں۔

ان کو یاد بھی نہیں ہوگا کہ ایک اور موقعے پر ایک دوست کے فلیٹ میں بڑی عمدہ ملاقات ہوئی تھی جہاں وہ مختصر سفر کے دوران ٹہری ہوئی تھیں۔ ان کے انداز میں سادگی تھی مگر گفتگو نہایت عمدہ۔ اس کے بعد ساری ملاقاتیں کتابوں میں ہوئی ہیں، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ان کے بارے میں باخبر ہوں۔ یہ ناول حاصل کرنے کے لیے بے تابی اسی وجہ سے تھی۔ اور اسی انتظار میں، مَیں اس کے بارے میں شائع ہونے والی خبریں پڑھتا رہا۔

ناول کی اشاعت سے پہلے ہی اس پر تبصرے آنے لگے۔ ایک سے ایک تعریفی، زیادہ تر رُعب میں آکر لکھے ہوئے۔ ایک آدھ تبصرہ کسی نے بُرا مُنھ بنا کر لکھا۔ بعض میں تو ایسا لگا کہ کتاب کے بجائے مصنّفہ کے روّیوں پر اعتراض کیا جارہا ہے۔ آج ہی صبح کلیر میسڈ Claire Messud کا تبصرہ پڑھا جو خود ذہین و زیرک ناول نگار ہیں۔ انھوں نے پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے دوچار دھموکے بھی جڑ دیے ہیں۔

ان اخباری تبصروں کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کی ضرورت نہیں، میں نے سوچا۔ ناول تو بہرحال پڑھ کر دیکھوں گا۔ اس کا ناول کچھ اور نہیں تو سنجیدگی سے پڑھے جانے کا تقاضا کرتا ہے۔ زبان و بیان پر اسے غیرمعمولی قدرت حاصل ہے۔ اس بار موضوع ایسا ہے کہ میرے لیے بہت اہم ہوگیا ہے__ پرانی دلّی، محلّے اور عمارتیں، ہندوستانی مسلمان، کشمیر کی جدوجہد، معاصر صورت حال کے خلاف احتجاج کے انداز۔ کسی کا یہ اعتراض بھی نظر سے گزرا کہ ناول کا بہت گہرا تعلق مصنّفہ کے ایکٹی وزم سے ہے اور اپنی اس عملی دل چسپی کو انھوں نے ناول میں ٹھونس دیا ہے۔ پتہ نہیں ہم ایکٹی وزم کو گالی کیوں سمجھنے لگے ہیں۔ میں تو یہ ضرور دیکھنا چاہتا ہوں کہ ارون دھتی رائے نے ان سماجی معاملات کو ناول میں کیسے ڈھالا۔ ناول کی فارم میں ان معامات سے نمٹنے کے لیے گنجائش کیسے پیدا کی۔ اس نے ناول کو کیا سے کیا بنا ڈالا، یہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔

 

اس بھاگ دوڑ کے بعد ناول تو میں نے حاصل کر لیا ہے۔ اس کے بارے میں اپنی رائے پکّی سیاہی سے لکھ دی ہے۔ خدا نے چاہا تو ایک نہ ایک دن یہ ناول پڑھ بھی لوں گا۔ لیکن یہ ارون دھتی رائے کے ناول کے قصّے میں ایک ضمنی تفصیل ہے۔

Facebook Comments HS