نواز-غنی اعلامیہ اور تبدیلی سے خوف زدہ لوگ

مئسلہ کشمیر پر ہماری خارجہ پالیسی اس کی ایک شہکار مثال ہے۔ ہمارا دعوی ہے کہ ہم گزشتہ ستر سال سے اس پالیسی پر گامزن ہیں۔ اور یہ ایک انتہائی کامیاب پالیسی ہے۔ حالانکہ یہ سامنے کی بات ہے کہ اگر ہم ائندہ ستر سال بھی اس پالیسی پر گامزن رہیں تو بھی مئسلہ کشمیر حل نہیں ہو سکتا۔ اورجو پالیسی ایک سو چالیس سال تک ایک مئسلہ حل نہیں کر سکتی اس کو کامیاب قرار دینے کے لئے درکار دل گردہ صرف وزارت خارجہ میں بیٹھے ہوئے کسی بابو کے پاس ہی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کی ہماری ایک اور شہکار اور کامیاب پالیسی ہماری افغان پالیسی ہے۔ اس پالیسی پر ہم گزشتہ ستر سال سے بڑی مستقل مزاجی سے قائم ہیں۔ اس پالیسی پر ہم نے کبھی کسی کو رخنہ اندازی یا تنقید کی اجازت نہیں دی۔ اس پر ہماری پارلیمنٹ میں کھل کر تنقید نہیں سکتی۔ میڈیا میں اس پر گفتگو نہیں ہو سکتی۔ یہ اسرار کے پردوں میں لپٹی ہوئی پالیسی ہے۔ اس کے بارے میں عوام تو کیا خواص بھی کچھ نہیں جانتے۔ اور اگر کوئی کچھ جانتا ہے تو بس اتنا جتنا کچھ بابو لوگوں نے اس بارے بتانے کی زحمت کی ہے۔ اور ان صاحبوں نے بس اتنا بتایا ہے کہ افغانستان کے حکمران طبقات روز اول سے ہی ہمارے دشمن رہے ہیں۔ انہوں نے شروع میں تو پاکستان کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیاتھا۔ اس کے برعکس افغان حکمران اکثر و بیشتر بھارت کے بہت قریب رہے ہیں۔ اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ وہ اکثر پاکستان توڑنے کے حامی رہے ہیں۔ اس لیے یہ حکمران سرحد اور بلوچستان میں قوم پرست قوتوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ شروع دن سے ہی ہماری افغان پالیسی کا بنیادی نقطہ یہ رہا ہے کہ چونکہ افغان حکمران ہمارے دشمن ہیں لہذا ان سے کوئی معاملہ کرنے کے بجائے وہاں کے عوام سے براہ راست معاملات طے کیے جائیں۔ اور دشمن حکمرانوں کو ہٹا کر اپنے دوستوں پر مشتمل حکومت قائم کی جائے اور اس حکومت کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ اس بنیادی اصول کے طے ہو جانے کے بعد ظاہر ہے ھماری افغان حکمرانوں سے کیا بنتی؟

جنرل کے۔ ایم عارف نے اپنی کتاب میں اس سیل کی موجودگی اور اس کے اغراض و مقاصد کو تسلیم کیا۔ ان ہی اغراض و مقاصد کے تحت جنرل نصیراللہ بابر اٖفغان بنیاد پرست قوتوں کو ڈھونڈتے اور ان کی مدد کرتے رہے۔ سویت یونین کے اٖفغانستان میں داخل ہونے سے بہت پہلے بھٹو صاحب کے دور میں گلبدین حکمت یار اور برہان الدین ربانی کے پشاور میں ڈیرے ہماری اسی پالیسی کا عکس تھے۔ افغانستان کے حکمرانوں کے بجائے ان کے مخالف اسلام پسند گروپوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کی پالیسی پر ہم آج بھی عمل پیرا ہیں۔ اس پالیسی کے نتائج آئے روز مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے اتے رہتے ہیں۔ نواز شریف اور اشرف قاضی چاہے جتنی ملاقاتیں کر لیں، وعدے اور اعلانات کریں، جب تک ہم افغان پالیسی میں بنیادی تبدیلی نہیں لاتے اس وقت تک کچھ نہیں ہو سکتا۔ اور لفظ تبدیلی سے ہمیں خوف اتا ہے۔ اس لیے اس باب میں ہم یونہی ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے۔

