صدر ٹرمپ کا خطرناک رویہ


امریکہ ایک طرف عرب ملکوں کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کررہا ہے کہ قطر پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ آمد و رفت میں حائل مشکلات رفع ہو سکیں لیکن دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے اس مؤقف کی تائد کی ہے کہ قطر طویل عرصہ سے دہشت گرد گروہوں کو مالی وسائل فراہم کررہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر صدر ٹرمپ نے کل وہائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے قطر کے خلاف دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے کے الزام کو دہراتے ہوئے کہا کہ اب یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہو جانا چاہئے۔ لیکن انہوں نے اپنے ہی وزیر خارجہ کے اس بیان کا کوئی ذکر نہیں کیا جس میں انہوں نے سعودی عرب اور دیگر ملکوں کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ کی پالیسی کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی بات کی تھی۔ امریکہ کی یہ غیر واضح پالیسی اور صدر ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات مشرق وسطیٰ میں صورت حال کو کشیدہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس ہفتے کے شروع میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، مصر اور دیگر ملکوں کی طرف سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور اس کا زمینی، ہوائی اور بحری بلاکیڈ شروع کرنے کے اعلان کے بعد سے یہ خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ سعودی عرب مصر کے ساتھ مل کر قطر پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے امریکہ کے اشارہ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت دفاع اس قسم کے کسی اقدام کی متحمل نہیں ہو سکتی کیوں کہ داعش کے خلاف جنگ کے لئے اس کا کمانڈ سنٹر قطر میں موجود ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات صورت حال کو پیچیدہ اور مشکل بنا رہے ہیں۔ اس غیر واضح صورت حال میں کسی بھی وقت کسی بڑی غلطی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے بائیکاٹ کی خبر سامنے آنے کے بعد ایک ٹویٹ پیغام میں کہا تھا کہ یہ قدم ان کے دورہ سعودی عرب کا نتیجہ ہے۔ جہاں عرب لیڈروں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف سخت قدم اٹھانے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ عرب رہنماؤں نے اس موقع پر انہیں قطر کی طرف سے دہشت گردوں کی مدد کے بارے میں بھی بتایا تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس عرب اسلامی امریکی کانفرنس میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی بھی موجود تھے اور اس موقع پر ان کی صدر ٹرمپ سے بات چیت بھی ہوئی تھی۔ اگر قطر کے خلاف دہشت گردی کے حوالے سے الزامات موجود تھے تو اس موقع پر ہی بات واضح ہو جانی چاہئے تھی۔

امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں اثر ورسوخ حاصل ہے ۔ سعودی عرب کے علاوہ قطر کے ساتھ بھی امریکہ کے دوستانہ اور تجارتی تعلقات استوار ہیں۔ اگر امریکی صدر نے قطر کو تنہا کرنے کی حکمت عملی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھا تو اس سے علاقے میں سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو ایک نئی علاقائی جنگ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ قطر بحران کے حوالے سے ترکی نے قطر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے اور ترک پارلیمنٹ نے مزید فوجی دستے بھی قطر میں ترک فوجی اڈے پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے باوجود ترک صدر طیب اردوان قطر اور اس کے ہمسایہ عرب ملکوں کے درمیان مفاہمت کروانے کے لئے کوششیں کررہے ہیں لیکن امریکی صدر نے اگر اپنا وزن سعودی عرب کے پلڑے میں ڈالا تو اس سے کسی عرب یا دوسرے علاقائی ملک کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

سعودی عرب اور اس کے حلیف ملک قطر سے اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے اور الجزیرہ کی نشریات کو بند کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ قطر کی حکومت نے ابھی تک اپنی پالیسی تبدیل کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم قطر کو سعودی عرب کی طرف اس ملک کو خشکی سے ملانے والا واحد زمینی راستہ بند ہونے کی وجہ سے فوری طور پر غذائی قلت کا سامنا ہے اور دیگر فوری ضرورت کی اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس بلاکیڈ سے انسانی صورت حال بھی خراب ہوئی ہے۔ بہت سے خاندان جبری طور سے تقسیم کردیئے گئے ہیں اور اسکولوں کے طالب علم بھی متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ بائیکاٹ جاری رہنے سے دہشت گردی کے خلاف آپریشن اورعلاقے میں امریکی تجارت بھی متا ثر ہو سکتی ہے۔

تاہم اس تنازعہ کو حل کروانے کے لئے امریکی کوششیں اسی وقت بارآور ہو سکتی ہیں اگر امریکی صدر بھی ہوش مندی کا مظاہرہ کریں گے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے قطری امیر سے ٹیلی فون پر بات کرکے اس بحران کو حل کروانے کے لئے کوشش کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن دو روز سے ان کی طرف سے جو باتیں کی جا رہی ہیں وہ انتہائی خطرناک نتائیج کا سبب بن سکتی ہیں۔ قطر فی الوقت مصالحت کی بات کررہا ہے اور وہ عرب ملکوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازعہ حل کرنا چاہتا ہے لیکن اگر عرب ملکوں کے ساتھ امریکہ نے بھی اس کے خلاف دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو مشرق وسطیٰ میں ایک نئی تقسیم کے آثار پیدا ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران تہران میں دہشت گرد حملہ کے بعد ایرانی لیڈر بھی سخت اشتعال میں ہیں اور وہ امریکہ اور سعودی عرب کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

قطر کو باقی عرب ملکوں سے علیحدہ کیا گیا تو اس کے لئے ترکی اور ایران کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس طرح امریکی صدر ایران کو محدود کرنے کے جس منصوبہ پر سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، وہ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکامی کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی جنگ کے آثار پیدا ہوں گے جو طویل اور اندوہناک ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali