داعش نے کوئٹہ میں پولیس پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی


کوئٹہ میں نامعلوم حملہ آوروں کی ایک کارروائی کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش سے وابستہ ایک مقامی گروہ نے قبول کر لی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ گیارہ جون بروز اتوار موٹر سائیکل پر سوار کچھ حملہ آوروں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ایک پولیس چیک پوائنٹ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہاں ڈیوٹی پر موجود تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ جاں بحق اہلکاروں کی شناخت عاشق علی، غلام مصطفی اورمحبوب کے نام سے ہوئی، زخمی راہگیر گل محمد کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے. بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

کوئٹہ کے ایک اعلیٰ پولیس اہلکار عبدالرزاق چیمہ نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ اتوار کے دن یہ تازہ واقعہ کوئٹہ کے اہم سریاب روڈ پر رونما ہوا۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ ایک بم دھماکا تھا۔ مقامی ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹر فرید سلیمانی نے اس حملے کی تصدیق کر دی ہے۔

کالعدم جنگجو گروہ لشکر جھنگوی کی ایک شاخ العالمی کے ایک ترجمان علی بن صفیان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی اس کے جنگجوؤں نے سر انجام دی ہے۔ صفیان کی طرف سے اے ایف پی کو موصول ہونے والے ایک ٹیکسٹ پیغام میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی اتوار کے دن کوئٹہ میں اسی کے ممبران نے کی۔

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں ایسے پُرتشدد واقعات کا الزام بلوچ علیحدگی پسندوں پر بھی عائد کیا جاتا ہے۔ تاہم حال ہی میں اس صوبے میں داعش کے حامی جنگجو گروہوں نے بھی اپنی مبینہ کارروائیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ لشکر جھنگوی اور جماعت الحرار نامی شدت پسند عسکری تنظیموں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ داعش سے وابستہ ہو چکی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی داعش نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے بلوچستان میں دو چینی باشندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان چینی شہریوں کو گزشتہ ماہ اغوا کیا گیا تھا۔ داعش کی نیوز ایجنسی اعماق نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی تھی تاہم پاکستان یا چین کی طرف سے اس دعوے پر کوئی سرکاری بیان نہیں دیا گیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ داعش کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

Facebook Comments HS