کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ دنوں میں سعودیہ اور قطر کے مابین کشیدگی کی وجہ سے پاکستان جیسے ممالک کے لیے مشکل پیدا ہو گئی ہے کیونکہ پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان کا حال یہ ہے کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ یا یوں کہہ لیں کہ کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے۔اگر ایک ملک کی پالیسی کا حصہ بنیں تو دوسرے سے تعلقات خراب ہوں گے اور اگر دوسرے کی بات مانیں تو پہلا ملک اپنے اتحادیوں سمیت بائیکاٹ کرنے کو تیار ہے۔ اور بائیکاٹ بھی ایسا کہ الامان!

پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ اہم معاشی ، اقتصادی اور دفاعی تعلقات ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں کم و بیش 91 لاکھ کے قریب پاکستانی بر سر روزگار ہیں۔ علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات میں 31 لاکھ کے قریب پاکستانی مقیم ہیں۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم یہ پاکستانی پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان ممالک سے آنے والی رقم زر مبادلہ کے ذخائر کو جمع کرنے میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے ۔سینٹرل بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ساڑھے چار ارب ڈالر ارسال کیے گئے ہیں جو کہ کسی بھی دوسرے ملک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقم سے زیادہ ہیں۔اس کے بعد دوسرا نمبر متحدہ عرب امارات کا آتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی تقریبا سالانہ ساڑھے تین ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں جبکہ قطر میں مقیم پاکستانی 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ کرتے ہیں۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستانیوں کو اپنے ملک سے نکلنے کو کہیں اور ان ممالک سے آنے والی رقم کو روک دیا جائے تو اس سے پاکستان کی معیشت پر بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاکستان کے ساتھ اہم تجارتی تعلقات ہیں گذشتہ مالی سال میں متحدہ عرب امارات سے پاکستان کی درآمدات تقریباً 48.5 ارب ڈالر اور سعودی عرب سے 59.1 ارب ڈالر ہیں جبکہ برآمدات کی مد میں پاکستان متحدہ عرب امارات سے 528 ملین ڈالر اور سعودی عرب سے300 ملین ڈالر کماتا ہے۔ اس کے علاوہ مشکل حالات میں سعودی عرب نے پاکستان کی ہمیشہ مالی مدد کی ہے۔ مارچ 2014ء میں سعودی حکومت نے پاکستانی حکومت کو ڈیڑھ عرب ڈالر تحفتاً دیے تھے تاکہ پاکستان قرض سے نجات پا سکے۔

حال ہی میں پاکستان کے گزشتہ ا ٓرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مسلم اتحاد کے تحت بننے والی افواج کی باگ دوڑ سنبھالی ہے۔ اس میں پاکستان کی شمولیت سے متعلق بہت بحث ہوئی اور پاکستان کی پارلیمنٹ میں ایک متفقہ قرارداد بھی پیش کی گئی کہ پاکستان کو اس اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہیے کیونکہ اس سے مسلم ممالک کے مابین پھوٹ پڑنے کا خدشہ ہے۔ مگر کیا کیجئے وہ جو ہم اتنے احسانات تلے دبے ہوئے تھے کچھ ان کا بوجھ بھی تو ہلکا کرنا تھا۔ ویسے بھی اس قرارداد کی منظوری کے بعدسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے خوب جم کر آنکھیں دکھائیں۔ مودی صاحب کو بلا کر اعزارات سے نوازا گیا، بھارت میں پریڈ میں شرکت کی گئی، پاکستان کو دھمکایا گیا۔ بس پھر کیا تھا ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے سامنے سے آنے والی جنگ و جدل کی بلی کو نظر انداز کیے بے خطر آتشِ عشقِ آل ِسعود و برادران میں کود پڑے۔ اب جب تھو ڑی تھوڑی تپش آنے لگی ہے تو ا حساس ہو رہا ہے کہ کوئی اس آگ پر پانی نہیں ڈالے گا بلکہ تلواروں کے سائے میں ہونے والے رقص کے بعد اب بس تیل ہی تیل ہے۔

حال ہی میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے قطر پر لگائی جانے والی پابندی کے بعد پاکستان ایک مشکل دوراہے پر آ کھڑا ہوا ہے۔ جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کے اہم اتحادی ہیں وہیں قطرکے ساتھ بھی پاکستان کے برادرانہ تعلقات ہیں۔ قطر بھی ایک اہم برادر اسلامی ملک ہے جسے سعودی عرب کی جانب سے خطے میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مانا کہ سعودی عرب تیل کی دولت سے مالا مال ہے، یہ بھی قبول ہے کہ تجارتی اعتبار سے بھی سعودی عرب اہم اتحادی ہے، مقامات مقدسہ کی اہمیت سے بھی کوئی انکاری نہیں۔ مگر کیا یہ سوال پوچھنا نہیں بنتا کہ جس کعبے پر تمام مسلمانوں کا حق ہے اس کعبہ کے دیدار سے ایران اور قطر کے شہری کیوں محروم رہیں؟ کیا یہ سوال نہیں بنتا کہ آل سعود اپنے مفادات اور ترجیحات پر امت مسلمہ کے مفادات کوکیوں قربان کر دیتے ہیں؟ کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ جب اسرائیل سر عام فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا تھا اور آج بھی گولی کھا کر تڑپتی ہوئی فلسطین کی بیٹیاں جب مدد کو پکارتی ہیں تو تب اسرائیل کا بائیکاٹ کیوں نہیں کیا جاتا ؟

اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو سعودی عرب کی پالیسی کے نتائج نہ صرف سعودی عرب کے لیے خطرناک ہوں گے بلکہ یہ پاکستان جیسے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ پاکستان میں بہت مشکل سے فرقہ واریت کے عفریت پر کچھ قابو پایا گیا ہے۔ اگر پاکستان نے سعودی عرب کی خود کش پالیسیوں کی حمایت جاری رکھی اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا حصہ بنا رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان جل رہا ہو گا اورپاکستان کو اس آگ میں جھونکنے والے سعودی عرب میں پناہ لے کر چین کی بانسری بجائیں گے۔ لہٰذا پاکستان کو کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس میں کسی ایک ملک کا مفاد مگر امت مسلمہ کی رسوائی چھپی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •