توہین مذہب کے الزامات، مشتعل ہجوم ۔ غور و فکر کی ضرورت (2)

2009ء میں ایک ان پڑھ، مزدور کرسچن عورت، آسیہ بی بی پر توہین ِ رسالت کا الزام لگایا گیا۔ وہ پچھلے 8 سال سے جیل میں ہے۔ وہ کئی بار معافی مانگ چکی ہے۔ اُسو معافی دلانے کی کوشش میں اور توہین مذہب کے قانون پر نظر ثانی کی تجویز پیش کرنے پر اُس وقت کے پنجاب کے گورنر، سلمان تاثیر اپنے باڈی گارڈ کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں ۔ اُنہوں نے بار بار اس بات کی وضاحت کی تھی کہ وہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے توہین ِ رسالت کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ اُن کے خلاف آج تک کوئی بھی اس الزام کو ثابت نہیں کر سکا ۔ اس کے باوجود مولوی حضرات کی اکثریت نے اُن کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے انکار کیا اور دوسروں کو اُن کے جنازے میں شرکت سے منع کیا۔ اُسی سال 12ربیع الاول کو ایک خبر کے مطابق، فیصل آباد میں بریلوی اور دیوبندیوں کے دو گروپوں کی لڑائی ہو گئی جس میں اُنہوں نے ایک دوسرے کے پوسٹر اور پمفلٹ غصے سے نذرِآتش کیے ۔ اُن پر قرآنی آیات اور احادیث شریف درج تھیں ۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف دفعہ 295-C(توہین مذہب )کے تحت مقدمہ درج کیا جو کہ بعد میں صلح کر کے یہ مقدمہ واپس لے لیا۔
مذہبی گروپ اور مذہبی جماعتیں نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف الزامات واپس لے لیتے ہیں بلکہ جس شخص پر توہین ِرسالت کا الزام ہوتا ہے اُسے معافی بھی دے دی جاتی ہے ۔ اس کے ثبوت کے لئے ایک معافی نامہ موجود ہے جو کہ ایک مشہور مولوی صاحب کے لئے ہے۔ اس پر مختلف فقہ سے تعلق رکھنے والے کئی علما نے دستخط کیے ہیں ۔ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے جنید جمشید مرحوم پر ایک یوٹیوب ویڈیو کے بعد توہین مذہب کا سنگین الزام لگا۔ اُن کے مسلک کے ایک عالم نے بیان دیا کہ اگرچہ اُس سے توہین ہو گئی ہے مگر 
مندرجہ بالا مثالوں سے شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ پاکستانی مولوی حضرات کو مکمل یقین ہے کہ گستاخ مذہب کے لئے معافی کی گنجائش موجود ہے۔ وہ اس معافی کا حق اُن لوگوں کو تو دینے کو تیار ہیں جو مذہب کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوئے گستاخی کرتے ہیں مگر وہ اُن لوگوں کو معافی کا حقدار نہیں سمجھتے جو لا علمی، جہالت یا دماغی بیماری سے ایسی بات کر جاتے ہیں ۔ و ہ غریب اور بے بس لوگوں کے لئے صرف قتل کی سزا پر مصر ہیں اور اُن کی معافی کی درخواست کرنے والوں کو بھی قتل کی سزا سناتے ہیں ۔ان حقائق کی روشنی میں یہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارے مولوی حضرات اُن لوگوں کے قتل کے فتوے جاری کرتے ہیں جن سے اُن کو سیاسی، فروعی یا نظریاتی اختلاف ہوتا ہے ۔ شیعہ، سیکولر اور اعتدال پسند مسلمان خصوصاًان فتوؤں کا نشانہ بنتے ہیں ۔ ان کو حقیقتاً حرمت ِ دین سے سروکار نہیں ہے ۔ اُنہیں اس بات کی بھی پروا نہیں ہے کہ جس دین کے عشق کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، اُسکی بدنامی کا سب سے بڑا سبب اُن کے اس طرح کے غیر منصفانہ افعال ہیں ۔ اس وقت یہ عالم ہے کہ ہمارے پاکستانی علماءکی اکثریت کو اسلام کے انصاف کے اصولوں سے زیادہ سیاست عزیز ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اسلام کے انصاف کے اصولوں کو سر بلند کرنے کے لےے ان لوگوں کی رہائی کی خود کوشش کرتے جو معافی مانگ چکے ہیں یا پھر اُن کی نیت توہین کی نہیں تھی یا اُن پر جھوٹا الزام لگایا گیا ہے۔ وہ عوام کواسلام کے انصاف کے اصولوں سے متعارف کرواتے اور ایسی ناانصاف قوتوں کے خلاف ڈٹ جاتے جو اُن کے دین کی بدنامی کا باعث ہیں کہ اصل ہتک اسلام کی انہی ناانصافیوں کی وجہ سے ہو رہی ہے ۔
پاکستان میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل، لوگوں کو زندہ جلانے اور اُن کے گھروں کو آگ لگانے کی خبریں پل بھر میں دنیا کے کونے کونے میں پھیل جاتی ہےں جسی وجہ سے پاکستانی مسلمان دنیا بھر میں شدت پسندی کی علامت بن چکے ہیں ۔ پاکستان اس وجہ سے اب اس اخلاقی پوزیشن میں بھی نہیں رہا کہ وہ دوسرے ملکوں کی مسلمان اقلیتوں کے حق میں آواز اٹھا سکے ۔ اس وقت پاکستانی ریاست پر لازم ہے کہ وہ ان معاملات میں اشتعال دلانے والوں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کا سخت محاسبہ کرے ۔ جھوٹے الزام لگانے والوں کو سخت سزا دے ۔ اگر ریاست کے کچھ ادارے اس قانون کو اپنے مخالفین کو خاموش کروانے کے لےے استعمال کر رہے ہیں تو اُنہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایک نہایت خطر ناک کھیل ہے جس کی لپیٹ میں کوئی بھی کسی وقت آسکتا ہے۔ اور اس کی وجہ سے ریاست کی بقا خطرے میں پڑ چکی ہے ۔ اس مسئلے کا اصل حل یہ ہے کہ یہ ادارے اپنے اندر جمہوری نظام کے مطابق ریفارم کا عمل فوری طور پر شروع کریں کہ یہ وقت کی اشد ضرورت ہے ۔وہ اسی صورت میں ہی اپنے اداروں کی عزت بحال کر سکتے ہیں کہ اس دور میں ناقدین کو ایسے حربوں سے دبانا ناممکن ہے۔
پاکستان کی پارلیمنٹ میں مشال خان کے ظالمانہ قتل کے بعد اس قانون کے اثرات پر بحث چلی ہے جو خوش آئند ہے۔ اُن کو چاہیے کہ وہ اس قانون میں اسلامی احکامات کے مطابق ترامیم کریں اور اس میں نیت، علم و فہم، سوجھ بوجھ اور معافی کی شقیں ڈالی جائیں ۔ وہ وکیل جو ایسے لوگوں کی پیروی کریں اور جو جج ثبوت کو مد ِنظر رکھ کر منصفانہ فیصلہ دیں، اُن کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے ہجوم کو اکٹھا کر کے مشتعل کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں ۔ بلوائیوں کیلئے ہر شہر میں پولیس کے خصوصی یونٹ قائم ہوں جوکہ ہتھیاروں سے لیس ہوں اور مختصر نوٹس پر موقع پر پہنچ کر ہجوم سے متاثرہ شخص کی جان بچائیں ۔ اس کیلئے ایک خاص ایمرجنسی فون نمبر مقرر کیا جائے۔ بلوائیوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسی درندگی کی ہمت نہ ہو۔ اگر اس وقت پاکستانی ریاست ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ دنیا کی اقوام کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہ ہوگی اور اس کے تاریخ میں اس دور کو تاریک ترین دور سے یاد رکھا جائے گا۔


