توہین مذہب کے الزامات، مشتعل ہجوم ۔ غور و فکر کی ضرورت (1)

1986ء سے لے کر اب تک پاکستان میں ہزاروں لوگوں پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا ہے۔ سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور درجنوں پر جسمانی تشدد کر کے اُنہیں جان سے مار دیا گیا ہے ۔ ان میں سے اکثریت پر اُن کے مخالفین نے اپنی ذاتی رنجش یا کاروبار کا حساب برابر کرنے یا اُن کی جائیداد غصب کرنے کیلئے جھوٹا الزام لگایا ہوتا ہے کہ ایک بار کسی پر توہین ِ مذہب کا الزام لگ جائے تو اُسے ہمیشہ کے لےے اپنا گھر بار چھوڑ کر کسی محفوظ جگہ پر پناہ لینا پڑتی ہے ۔ ان میں کچھ نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور دماغی توازن درست نہ ہونے کے باعث نبوت وغیرہ کے دعوے کر بیٹھتے ہیں۔ ان لوگوں کو اگر عدالت اس الزام سے بری بھی کر دیتی ہے تو اُن کو جیل سے آزادی ملنے کے بعد مار دیا جاتا ہے ۔ جس وکیل نے اُن کا کیس کیا ہوتا ہے اور جس جج نے یہ فیصلہ دیا ہوتا ہے، اُن کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر جنید حفیظ 2013ء سے اس الزام میں جیل میں ہیں۔ اُن کے وکیل راشد رحمان کو اُن کا دفاع کرنے پر قتل کر دیا گیا ہے۔ ایک انٹرنیشنل تنظیم کے مطابق اس وقت پاکستان میں جتنے لوگ اس الزام کی وجہ سے جیل میں ہیں، کسی اور ملک میں نہیں ہیں۔

پاکستان میں توہین مذہب کے مجرم کی سزا موت ہے اس میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس میں سے نیت کی شق بھی نکال دی گئی ہے۔ لہٰذا یہ قانون ملزم کی نیت کو مد ِنظر نہیں رکھتا کہ آیا اُس نے مذہب کی جان بوجھ کر توہین کی ہے یا وہ بے دھیانی اور لاعلمی میں توہین آمیز بات کر گیا ہے۔ ایسے قانون کو اگر اسلامی تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی 1400سالہ تاریخ میں جن اکا دکا افراد کو سزا دی گئی تو اُس کی اصل وجہ اُن لوگوں کا اسلامی ریاست کے خلاف سازشی یا سرکش ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کے مولوی حضرات کی اس بات کو درست سمجھ لیا جائے کہ توہین مذہب کے مجرم کو توبہ کا حق بھی حاصل نہیں تو اس منطق کے مطابق سارے کفارِ مکہ کو قتل ہو جانا چاہیے تھا۔ یا پھر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ اُنہیں اسلام کے اصولوں پر رسول کریم ﷺاور صحابہ کرام ؓ سے بھی زیادہ عبور حاصل ہے؟
دنیا میں کوئی ریاست اپنے شہریوں خصوصاً اقلیتوں کو انصاف فراہم کیے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کی اسلامی ریاستوں میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا خاص خیال رکھا جاتا تھا ۔ توہین مذہب جیسے واقعات اُس زمانے میں بھی ہوتے تھے ۔ اس معاملے میں امام ابو حنیفہ اور امام غزالی جیسے پائے کے علماءاور فقیہان دین کی آرا قابل غور ہیں۔ امام ابوحنیفہ کی رائے کے مطابق ایک غیر مسلم کو اس جرم میں قتل کی سزا نہیں دی جاسکتی، اس لیے کہ اُس کا اللہ اور رسالت پر ایمان ہی نہیں ہے۔اورایک غیر مسلم پر حد نافذ نہیں کی جا سکتی ۔ البتہ اگر وہ شخص کھلے عام، بار بار اس جرم کا مرتکب ہو تو عدالت اُس کی سزا متعین کر سکتی ہے۔ تاکید بار بار اور عدالت پر ہے۔ کسی گروپ یا فردِ واحد کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔ امام غزالی کی رائے میں سزا دینے سے پہلے اُس شخص کی نیت، علم و فہم اور سمجھ بوجھ کو مد ِنظر رکھنا ضروری ہے ۔ اس کی علاوہ اس کا جرم ثابت ہونے کے بعد توبہ کرنے کیلئے تین دن دینا ضروری ہیں اور اگر وہ توبہ کر لے تو اُسے معاف کر دیا جائے (فاصل التفریکہ)
مسلمانوں کے سپین میں 700سالہ دورِ حکومت میں یہی اسلامی قوانین توہین مذہب کے مجرموں پر لاگو کیے گئے۔ اُس دور میں صرف چند گنے چنے لوگوں کو اس جرم کی سزا ملی۔ ایک مغربی مورخ اس بارے میں لکھتا ہے کہ سپین میں مسلمانوں کی حکومت کے دور میں اسلامی عدالت نے صرف اُن ایک یا دو مسیحیوں کو اس جرم کی سزا دی جو کہ ”شہادت “کے شوق میں بار بار سرراہِ کھڑے ہو کر علی الاعلان توہین کرتے تھے اور عدالت کی بار بار سرزنش کے باوجود باز نہ آتے تھے ۔ اُس کے برعکس اُس دور کی یورپ کی حکومتیں اور عوام اسی طرح کے بے شمار مقدمات میں اپنے شہریوں کی ایذا رسانی میں مشغول تھیں۔ اُس دور میں لوگوں پر مذہب کی توہین کے الزامات پر زندہ بھی جلایا جاتا تھا ۔ اسی لئے یورپ کے اُس دور کو تاریخ کا ایک تاریک دور سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مغربی مورخوں کی اکثریت مسلمانوں کے اُس دور کو مقابلتہً، منصفانہ اور روشن خیال قرار دیتی ہے۔
(جاری ہے)

