سرحد پر ہمارے جوان لڑ رہے ہیں۔۔۔۔


 فراغت کے لمحات دستیاب ہوں تو فلم دیکھنے سے اچھا مشغلہ کیا ہو سکتا ہے۔ آج بھی کچھ ایسے لمحے دستیاب تھے۔ اپنی پسندیدہ سیریز pirates of the caribbean کی چوتھی قسط دیکھ رہا تھا کہ ایک دوست نے وٹس ایپ پر ایک تصویر ارسال کی۔ کسی پروگرام میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ ہمارے ممدوح حامد میر صاحب کھڑے تھے۔ تصویر بھیجنے والے دوست نے حامد میر صاحب پر لطیف چوٹ کرتے ہوئے تصویر پر کیپشن لگائی تھی’ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز‘۔ جواب میں ابن انشاءکے نظم سے مصرعہ لکھ بھیجا ’ بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے۔۔سب مایا ہے‘۔ ایک خیال وارد ہوا کہ حامد میر صاحب کی یہ تصویر ابن انشاء کے اسی مصرعہ کے ساتھ فیس بک پر لگا دی جائے مگر پھر احساس ہوا کہ پوشیدہ ہے کچھ اس میں زیاں سود سے زیادہ۔ ایک تو میر صاحب ناراض ہو جاتے اور دوسرے فیس بک موجود محب وطن احباب بھی ناراض ہوتے اور تان اسی سرحد والی لائن پر ٹوٹتی۔

یہ سرحد والی لائن کی کہانی دلچسپ ہے۔کنال کامرا ہندوستان کے مشہور کامیڈین ہیں۔ اپنے ایک پروگرام میں وہ بھارت میں حب الوطنی کے موضوع پر بات کرتے ہیں۔ کنال کہتا ہے آپ جب کہیں دلیل کے ساتھ اپنے ملک پر تنقید کریں تو ایک آدمی کہیں سے آواز لگاتا ہے ’ سیاچن میں ہمارے جوان لڑ رہے ہیں‘۔ہندوستان میں مودی سرکار نے جب بڑے نوٹ منسوخ کئے تو کروڑوں لوگ بینکوں کی لائن میں نوٹ تبدیل کرانے کے لئے گھنٹوں کھڑے رہتے تھے۔ کنال ایسی ایک لائن کی کہانی بیان کرتا ہے۔ کہتا ہے، ’میں لائن میں کھڑا تھا تو ایک اور صاحب جو میرے پیچھے کھڑا تھا کہنے لگا، کیا گھٹیا ملک ہے ہندوستان۔ مجھے آدمی پسند آیا ۔ میں نے کہا ساتھ میں غیبت کرتے ہیں۔ اتنے میں ایک ہندوستانی انکل کہنے لگے، ہمارے جوان ہمارے لئے سیما پر کھڑے ہیں اور آپ دونوں اے ٹی ایم کی لائن میں کھڑے نہیں ہو سکتے؟ اس پر اس دوسرے آدمی نے کہا، میں ہی ہو ں وہ جوان۔ پہلے سیما پہ کھڑا تھا۔ اب فیملی کے ساتھ چھٹی منانے آیا ہوں تو اب اس لائن میں کھڑا ہوں۔ اور انکل آپ کو کھڑے ہونے کا اتنا ہی شوق ہے تو سیما پر آﺅ نا‘۔

 بس اسی خیال سے وہ تصویر فیس بک نہیں لگائی کہ کہیں سے آواز آ سکتی تھی کہ سیاچن پر تو ہمارے جوان بھی لڑ رہے ہیں اور آپ فیس بک پر بیٹھ دانشوری جھاڑ رہے ہیں۔ بندہ پوچھے تو بھائی کیا سرحد بیٹھ کر دشمن کے فوجیوں کو گیان بانٹنا چاہیے؟ اسے موقعوں پر مگر کیپٹن جک سپیرو کی حکمت یاد آجاتی ہے۔ مشہور زمانہ کیپٹن جیک سپیرو خطرے کے وقت اکثر و بیشتر اوقات گوشہ عافیت میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ pirates of the caribbean کی چوتھی قسط میں کیپٹن جیک سپرو کو جب آب حیات لینے جانا ہوتا ہے تو ایک جگہ ان پر سمندر کی خوبصورت دوشیزائیں مرمیڈز حملہ کر دیتی ہیں۔ اس مشن میں ایک پادری بھی بدقسمتی سے پھنسا ہوتا ہے۔ جیک سپیرو کو اندازہ ہوتا ہے کہ حالات خراب ہو رہے اس لئے وہ پادری کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے،

’ Clergyman, on the off chance that this does not go well for me, I would like it noted here and now that I am fully prepared to believe in whatever I must, so that I may be welcomed into that place where all the "goody-goodies” get to go‘

 اس کا آسان ترجمہ اگر منا بھائی سٹائل میں کیا جائے تو یوں ہو گا ’ دیکھ پادری سن! اگر کوئی لوچا ہو جائے تو اپن تیرے کو بتا رہا ہے کہ اپن ابھی اچ وہ سب کچھ مانتا ہے جو دھارمک ہے۔ اپن کو مرنے کے بعد ادھر اچ جانے کا ہے جدھر سب کچھ چھکاس ہوتا ہے‘۔

تصویر کی یہ ابڑم دڑم ابھی چل رہی تھی کہ پیر عید گاہ شریف نقیب الرحمن کے بیٹے پیر حسیب الرحمن نے اپنی فیس بک چند تصاویر اپ لوڈ کیں۔ ان تصاویرمیں پیر نقیب الرحمن اور ان کے بیٹے پیر حسیب الرحمن آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب کے ساتھ خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے ہیں۔پیر حسیب الرحمن وہی ہیں جن کو پچھلے دنوں موٹروے پر ایک جسٹس صاحب پر حملہ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد ان کے والد پیر نقیب الرحمن کا اخبارات میں ایک معافی نامہ شائع ہوا تھا جس میں پانچ پانچ لاکھ روپے کی دو رسیدیں بھی شائع ہوئی تھیں جو پیر صاحب نے معافی کے طور خیراتی اداروں کو دیئے تھے۔ معلوم نہیں اس کیس کا کیا بنا اور معافی کے پیسے خیراتی اداروں کو کیوں دئیے گئے۔ تاہم تازہ تصاویر سے لگ رہا ہے پیر حیسب الرحمن اب رہا ہو چکے ہیں اور ان کے فیس بک کے بقول آرمی ہاﺅس میں چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ دعوت افطار میں شرکت کر رہے اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اپنے مرشد کیپٹن جیک سپیرو کی طرح خاکسار بھی خطرے کے وقت گوشہ عافیت میں پناہ لینے کو بہتر سمجھتا ہے۔اس لئے آرمی چیف کے بارے میں تو تبصرے سے عاجز ہے ۔ اپنے مرشد کیپٹن جیک سپیرو کے بقول تو ’Goody-Goodies‘ کی چابی تو ہوتی ہی Clergyman کے پاس ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ Clergyman نے یہ تصاویر کیوں لگائی ہیں؟ تصاویر اگر کسی فوجی ذرائع سے سامنے آتیں تو بندہ سوچ بھی سکتا تھا کہ Clergyman کے ساتھ تو بندہ goody-goodies for the sake ofکے لئے ملتا ہے۔ مگر خیر! ممکن ہے پیر صاحب آرمی ہاﺅس کو the place of goody-goodies سمجھتے ہوں۔ خاکسار بھی سمجھتا ہے۔ آخر سرحد پر تو ہمارے جوان بھی لڑ رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah