سرحد پر ہمارے جوان لڑ رہے ہیں۔۔۔۔

یہ سرحد والی لائن کی کہانی دلچسپ ہے۔کنال کامرا ہندوستان کے مشہور کامیڈین ہیں۔ اپنے ایک پروگرام میں وہ بھارت میں حب الوطنی کے موضوع پر بات کرتے ہیں۔ کنال کہتا ہے آپ جب کہیں دلیل کے ساتھ اپنے ملک پر تنقید کریں تو ایک آدمی کہیں سے آواز لگاتا ہے ’ سیاچن 
بس اسی خیال سے وہ تصویر فیس بک نہیں لگائی کہ کہیں سے آواز آ سکتی تھی کہ سیاچن پر تو ہمارے جوان بھی لڑ رہے ہیں اور آپ فیس بک پر بیٹھ دانشوری جھاڑ رہے ہیں۔ بندہ پوچھے تو بھائی کیا سرحد بیٹھ کر دشمن کے فوجیوں کو گیان بانٹنا چاہیے؟ اسے موقعوں پر مگر کیپٹن جک سپیرو کی حکمت یاد آجاتی ہے۔ مشہور زمانہ کیپٹن جیک سپیرو خطرے کے وقت اکثر و بیشتر اوقات گوشہ عافیت میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ pirates of the caribbean کی چوتھی قسط میں کیپٹن جیک سپرو کو جب آب حیات لینے جانا ہوتا ہے تو ایک جگہ ان پر سمندر کی خوبصورت دوشیزائیں مرمیڈز حملہ کر دیتی ہیں۔ اس مشن میں ایک پادری بھی بدقسمتی سے پھنسا ہوتا ہے۔ جیک سپیرو کو اندازہ ہوتا ہے کہ حالات خراب ہو رہے اس لئے وہ پادری کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے،
’ Clergyman, on the off chance that this does not go well for me, I would like it noted here and now that I am fully prepared to believe in whatever I must, so that I may be welcomed into that place where all the "goody-goodies” get to go‘
اس کا آسان ترجمہ اگر منا بھائی سٹائل میں کیا جائے تو یوں ہو گا ’ دیکھ پادری سن! اگر کوئی لوچا ہو جائے تو اپن تیرے کو بتا رہا ہے کہ اپن ابھی اچ وہ سب کچھ مانتا ہے جو دھارمک ہے۔ اپن کو مرنے کے بعد ادھر اچ جانے کا ہے جدھر سب کچھ چھکاس ہوتا ہے‘۔
تصویر کی یہ ابڑم دڑم ابھی چل رہی تھی کہ پیر عید گاہ شریف نقیب الرحمن کے بیٹے پیر حسیب الرحمن نے اپنی فیس بک چند تصاویر اپ لوڈ کیں۔ ان تصاویرمیں پیر نقیب الرحمن اور ان کے بیٹے پیر حسیب الرحمن آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب کے ساتھ خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے ہیں۔پیر حسیب الرحمن وہی ہیں جن کو پچھلے دنوں موٹروے پر ایک جسٹس صاحب پر حملہ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد ان کے والد پیر نقیب الرحمن کا اخبارات میں ایک معافی نامہ شائع ہوا تھا جس میں پانچ پانچ لاکھ روپے کی دو رسیدیں بھی شائع ہوئی تھیں جو پیر صاحب نے معافی کے طور خیراتی اداروں کو دیئے تھے۔ معلوم نہیں اس کیس کا کیا بنا اور معافی کے پیسے خیراتی اداروں کو کیوں دئیے گئے۔ تاہم تازہ تصاویر سے لگ رہا ہے پیر حیسب الرحمن اب رہا ہو چکے ہیں اور ان کے فیس بک کے بقول آرمی ہاﺅس میں چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ دعوت افطار میں شرکت کر رہے اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اپنے مرشد کیپٹن جیک سپیرو کی طرح خاکسار بھی خطرے کے وقت گوشہ عافیت میں پناہ لینے کو بہتر سمجھتا ہے۔اس لئے آرمی چیف کے بارے میں تو تبصرے سے عاجز ہے ۔ اپنے مرشد کیپٹن جیک سپیرو کے بقول تو ’Goody-Goodies‘ کی چابی تو ہوتی ہی Clergyman کے پاس ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ Clergyman نے یہ تصاویر کیوں لگائی ہیں؟ تصاویر اگر کسی فوجی ذرائع سے سامنے آتیں تو بندہ سوچ بھی سکتا تھا کہ Clergyman کے ساتھ تو بندہ goody-goodies for the sake ofکے لئے ملتا ہے۔ مگر خیر! ممکن ہے پیر صاحب آرمی ہاﺅس کو the place of goody-goodies سمجھتے ہوں۔ خاکسار بھی سمجھتا ہے۔ آخر سرحد پر تو ہمارے جوان بھی لڑ رہے ہیں۔


