میرے بابا کا خدا (2)

میں خُدا کو کتابوں میں پڑھتا تھا۔ منطق میں تلاش کرتا تھا۔ مگر بابا نے خُدا کو اُس چٹائی پر تلاش کرلیا تھا۔ جس کو جائے نماز بنا کر وہ برسوں سے اس کے سجدے کرتے آرہے تھے۔ جس پر گھنٹوں بیٹھ کر وہ درود پڑھتے اورایسے روتے جاتے جیسے اپنے پیارے کو یاد کر کے کوئی اس کا ذکر کرتے ہوئے روتا جاتا ہے۔ گھٹنوں میں سر دیئے وہ اردگرد والوں سے اپنے آنسو چُھپاتے تھے۔ مگرمیں تو جانتا تھا۔ کیونکہ میں تو اس گود میں پلا تھا جس میں وہ آنسو ٹپکتے تھے۔ ان آنسوﺅں کی گرمی میں رسول پاک کی محبت کا لمس ہوتا تھا اور اللہ کی بندگی کی نمی۔
بابا کے لئے سردرد سے لے کر جوان بھائی کی موت تک ہر دکھ و درد کا علاج وہ سجدہ تھا۔ ملازمت کی تلاش سے لیکر G.P فنڈ اور ریٹائرمنٹ کی وصولی تک ہر مشکل کا حل اُسی سجدے میں سے نکالتے تھے۔ زلزلے کے جھٹکوں کا خوف ہو یا ان جھٹکوں کے دوران ہونے والی ہوائی فائرنگ کی اندھی گولیوں کا ڈر۔ گاڑی کوئی پرزہ تڑوا کر ویرانے میں رُک جائے۔ یا کوئی عزیز دوست یا اولاد آپریشن تھیٹر میں موت سے زندگی کی جنگ لڑرہا ہو۔ نلکے میں پانی آنا بند ہوجائے یا گھر میں کھانے کے لئے اگلے وقت کی روٹی نہ ہو۔ بابا نے اُسی سجدے کا دروازکھٹکھٹانا تھا۔ اُسی دروازے پر توکل کی چادر اوڑھ کر صبر کا دامن پکڑکر بیٹھ جاتے تھے۔ ایسے وقت میں جب ہم وسیلوں، علاجوں اور پناہوں کے خُداﺅں کے آگے جُھک رہے ہوتے۔ جب ہماری بے صبری سسٹم (System)، حکومت اور قسمت کو کوسنے دے رہی ہوتی تھی۔ بابا کی لاپرواہی کی حدوں کو چھونے والی استقامت اور بے حسی جیسے نظر آنے والے سجدے تکلیف دینے لگتے تھے۔ ہمیں غصہ آنے لگتا کہ اس اضطراب اور بھاگ دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے وہ اپنی چٹائی (جائے نماز) پر ماتھا کیوں رگڑ رہا ہے۔ میری ماں جن کو وہ پیار سے عاشو بی بی (بی بی عائشہ) پکارتے تھے اپنی اولاد پر کسی مشکل وقت یا بیماری کے موقع پر ان سے بہت لڑتی تھیں۔ اور کبھی کبھار تو چڑ کر اس چٹائی کو اُٹھا کر کہیں چُھا دیتی تھی۔ اور یہی شاید استاد معراج اور عاشو بی بی کی لڑائیوں کی واحد وجہ تھی کہ میری ماں بچوں کی بیماریوں، رشتوں اور پریشانیوں پر ان کے سر پہ بیٹھ کر واویلا مچایا کرتی تھی اور بابا سجدے میں چلے جاتے تھے۔
بابا کے ساتھ میری لڑائی کی شدت میں اس وقت اضافہ ہوا۔ جب بابا شوگر(ذیابیطس) کی بیماری میں مبتلا ہوئے۔ شوگر کے مریض سے اس کا ہر پیار کرنے والا جس طرح لڑتا ہے سو ہماری بھی ویسی ہی لڑائیاں تھیں۔ اور وجہ ایک ہی ہوتی ہے بدپرہیزی۔ مگر بابا بدپرہیز ہی نہیں، ہٹ دھرم بھی تھے۔ دوائیں نہ کھانے والی ہٹ دھرمی۔ بس اپنا علاج خود سے یہ دریافت کرلیا کہ ٹرک کے اسٹیرنگ سے اُتر کر باغبانی شروع کردی۔ بیلچہ اُٹھایا، سارا گھر کھود ڈالا اور پھول اور سبزیاں لگا دیئے۔ اور سارا وقت ان کے ساتھ گزارنے لگے۔ چٹائی والی جائے نماز کبھی ایک کیاری میں پڑی ہوتی کبھی دوسری کیاری میں۔
ایک روز عصر کے بعد اسی جائے نماز پر بیٹھے تھے۔ تو میں نے شوگر کے مرض کی انتہائی حالت سے انھیں ڈرایا۔ میں نے کہا ” بابا۔ ننگے پیر مٹی میں گھومتے ہو تو کسی روز کانٹا چبھ جائے گا اور پھر بڑھتے بڑھتے ٹانگ کٹوانی پڑے گی“ خاموشی سے سر جُھکائے درود پڑھتے رہے۔ میں نے مزید خوف زدہ ہو کر کہا” آنکھوں کی بینائی چلی جائے گی۔ گُردے فیل ہوجائیں گے۔ محتاج ہوجاﺅ گے۔ اُٹھنے بیٹھنے سے رہ جاﺅ گے۔ خُدا کے لئے اپنا خیال رکھو“ اُٹھے اور بہت اطمینان سے ننگے پاﺅں کی کیاریوں میں چلنے لگے۔ میں نے ہٹ دھرمی پر چلانا چاہا تو مُڑ کر مجھ سے کہا ” تم پریشان مت ہو۔ میں صرف تمھارے کندھے کا محتاج ہوں گا جس پر تم مجھے قبرستان لے کر جاﺅ گے“ مجھے اور غصہ آیا۔ میں چلایا۔ ”آپ خُدا سے لکھوا کے لائے ہو کیا کہ یہ بیماری آپ کا کچھ نہیں بگاڑے گی ”ہاں“ بابانے بہت وثوق سے جواب دیا۔ ”میں ایسے خُدا کو نہیں مانتا بابا۔ جو آپ کو گمراہ کررہا ہے۔ جو آپ کو محتاجی کے اندھے کنوئیں میں دھکیل رہا ہے ”شہتوت سے ایک توت توڑ کر کھاتے ہوئے بولے“ظاہر ہے۔ تم کیوں میرے خُدا کو مانو گے۔ تمھارا خُدا تو ایک کہانی ہے۔ مگر میرا خُدا سچ۔ تم اس کو کتابوں میں تلاش کرتے ہو۔ اور مجھے وہ اس مٹی میں ملتا ہے تمہیں اس کے لئے چوکھٹ چوکھٹ سجدے کرنا پڑتا ہے مگر مجھے وہ اسی چٹائی پہ ملتا ہے تم وسیلوں کے محتاج ہو مگر میں اس کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں۔ تمھارے لئے وہ علم ہے۔ مگر میرے لئے ایمان۔ تم اپنا علم اپنے پاس رکھو۔ مجھے میرے ایمان کے ساتھ رہنے دو۔ کیونکہ جو اس کے آگے جُھکتا ہے اسے وہ کسی کے آگے جُھکنے نہیں دیتا“
اس دن سے مجھے اتنا غصہ آیا کہ میں جو کبھی بابا کا دل رکھنے کے لئے اس کی چٹائی پر نماز کے لئے کھڑا ہوجاتا۔ اس کے بعد ویسا کرنا بھی چھوڑ دیا۔ مجھے نعوذ بااللہ اس خُدا سے عداوت سی ہو گئی جس نے میرے بابا کو اتنا ہٹ دھرم بنا دیا کہ اسے میرے علاج کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جو اپنی ہر تکلیف کو لے کر جائے نماز پر کھڑا ہوجاتا۔
میرا اور بابا کا جھگڑا برسوں تک چلتا رہا۔ اس کا خُدا اسے مزید بچپنے کی طرف دھکیلتا رہا۔ کسی ایسے بزرگ کی طرح میرے بابا کی پشت پناہی کرتا رہا۔ جو کسی ضدی، ہٹ دھرم اور شریر بچے کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اور میں کیا، میرے علاوہ بیسیوں ایسے لوگوں کو بھی بابا پر غصہ آنے لگا جو شوگر کے مریض تھے مگر اُس مرض کا ہر نخرہ اُٹھانے کے باوجود اس کے شر سے محفوظ نہیں تھے۔ وہ بابا کو بد پرہیزیاں اور ’مستیاں‘ کرتے دیکھ کر احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ اور بابا ان کی ہر حیرت کے جواب میں مُسکرا کر آسمان کی طرف دیکھتے اور کہتے ”اللہ“۔
آہستہ آہستہ میرا غصہ گہرا ہونے لگا تھا۔ میں نے اُلجھ کر بابا کو اس کے خُدا کے ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی توجہ اور دوستی کو لیکر دور ہوگیا۔ بابا کو بھی شاید میری ضرورت نہیں رہی۔ میرا بیٹا مراد اور بھتیجا عمر، اُن کے بچپنے کا بھر پور ساتھ دینے لگے باباغلیلیں بنانے اور پتنگ اُڑانے کے ساتھ ساتھ ان کی عمر کے کھانے پینے اور ہنسی مذاق کے مزے بھی لوٹنے لگا۔ میں محسوس کرنے لگا کہ جیسے بابا نے اپنا بڑھاپا مجھے سونپ دیا اور خود بچہ بن کر مزے کر رہا ہے۔ مجھے دوستیوں، رشتہ داریوں اور عیال داریوں کی ذمے داریاں سونپ کر سجدوں، بچوںاور پھولوں میں گم ہوگئے ہیں۔ مجھے ایسا لگنے لگا کہ جیسے بابا کاخُدا ن کو اپنے سجدوں کے لئے Spareکرکے باقی سب ذمہ داریاں میرے اوپر ڈال چکا ہے۔ اور بابا اپنے خُدا کے پیچھے چھپ کر مجھے منہ چڑا رہے ہیں۔ مگر ایسا نہیں تھا۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا۔ کہ ایک شخص جو زندگی بھر چڑیوں کی طرح ایک ایک دانہ اُٹھااُٹھا کر اپنے بچوں کے منہ میں ڈالتا رہا ہو۔ اب ان کی ذمہ داریوں سے کیسے بیگانہ ہو گیا ہو۔ مگر اپنی کہانیوں کی دنیا میں گم مجھے کب یہ دکھائی دیتا کہ بابا آج بھی کسی چھت کی طرح کھڑے تھے۔ مگر بہت خاموشی سے۔ وہ آج بھی اپنی اولاد کو دے رہے تھے اور وہ کچھ دے رہے تھے جس کی اس وقت اولاد کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور وہ تھی ان کی دعائیں۔
بیٹوں کی ملازمت، بیٹیوں کے رشتے، کوئی سفر پہ جانا۔ کسی کو رزلٹ کا انتظار ہوتا، کوئی سسرال کی شکایتیں لے کر آئی، کوئی کاروبار کے جھمیلے لے کر آتا، بابا کا کمرہ نہیں، ہائیڈپارک تھا۔ جہاں ہر کوئی آکر بولتا۔ بابا سنتے۔ رونے والے کے ساتھ روتے اور ہنسنے والے کے ساتھ ہنستے اور ہر کسی کے مشکل کا ایک ہی حل۔ دُعا۔ تہجد کی خاموشیوں میں کئی بار میں نے ان کے رونے کی آواز سُنی۔ استاد معراج کے ہاتھ جو کبھی مضبوطی سے اسٹیرنگ کو تھام کر اپنے بچوں کی روٹی کے لئے بھاگ دوڑ کرتے تھے اب ایک دوسرے کے ساتھ ہتھیلیاں جوڑکر اپنے خُدا کے حضور اُٹھتے تھے۔ اتنی دیر تک جب تک اُنھیں یقین نہیں ہوجاتا کہ خُدا نے قبول کرلی۔
ان کی موت سے ڈیڑھ ماہ قبل میری اور ان کی آخری لڑائی ہوئی۔ میں ان کو اپنے ساتھ کراچی لے جانا چاہتا تھا۔ چیک اپ کروانے کے لئے۔ مگر لڑائی کا وہی انجام۔ کہنے لگے۔ ’خُدا خیر کرے گا۔ تم مجھے میرے مٹی اور میرے پودوں سے دور مت کرو۔ بے فکر رہو مجھے کچھ نہیں ہوگا“
اور پھر وہی ہوا۔ جیسا بابا نے کہا۔ ان کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایک ذراسی بھی کسی کی محتاجی نہیں کی۔ شام تک خود پیروں پر کھڑے ہو کر پودوں کو پانی دیتے رہے۔ رات کو سوئے اور صبح سویرے بھائی کا فون آیا کہ آج بابا نے فجر کی نماز نہیں پڑھی کیونکہ اسی وقت وہ اپنے خُدا کے پاس چلے گئے۔
آماچ کے دامن میں جب سب لوگ بابا کو مٹی کا ڈھیر بنا کر روانہ ہوئے۔ تو میں تڑپ کر پھر لوٹ کر آیا۔ اکیلا۔ اس ڈھیر کی مٹی کو مٹھیوں میں بھر بھر کر بابا سے باتیں کرتا رہا۔ وہ باتیں جن کے الفاظ نہیں تھے۔ ایک کم سن بچے کا رونا تھا۔ جس کو اس کا باپ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔ اُس بچے کے پاس کوئی گود نہیں تھی۔ جس میں سر رکھتا۔ کوئی دامن نہیں تھا جس کو پکڑتا۔ کوئی انگلی نہیں تھی جس کو تھام لیتا۔ تنہائی کی شدت ہچکیاں بن کر سانس روکنے لگی۔ میں اُٹھا۔ بے اختیار دوڑتا ہوا بابا کے کمرے میں گیا۔ دیوار سے لٹکی جائے نماز والی چٹائی اُتاری۔ اور نیت باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ اور جب میں سجدے میں گیا۔ تو میری اپنے بابا سے ملاقات ہو گئی۔ اُن کی مُسکراتی ہوئی آنکھیں مجھے چند لمحے دیکھتی رھیں اور پھر آسمان کی جانب پلٹ گئیں۔ ان میں ایک فخر بھری خوشی تھی۔ جیسے کہ وہ ﷲ سے کہہ رہی ہوں۔
”دیکھا میرے ﷲ۔ میرا بیٹا میرے پیچھے چھپ کر تیری حکم عدولیاں کرتا رہا۔ مگر آج وہ میری طرح تیرے سجدوں میں جُھکا ہوا ہے۔ جب تک باپ زندہ ہوتے ہیں تو بیٹے اُن کے سائے میں خُدا کے خوف سے بھی لاپرواہ رہتے ہیں۔ مگر اُن کے جانے کے بعد جب وہ زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں اکیلے کھڑے ہوتے ہیں تب وہ دوسرے سارے خُداﺅں سے مُنہ موڑ کر اُس ایک خُدا کے آگے سر جُھکا دیتے ہیں جس کا نام ”اللہ“ ہے۔
میں اب اُن پھولوں کی کیاریوں کے بیچ میں اپنے بابا کی چٹائی والی جائے نماز پر سجدے کرتا ہوں۔ تو مجھے اپنے بابا کی خوشی سے مُسکراتی ہوئی آنکھیں نظرآتی ہیں۔ ویسی مسکراہٹ جو اپنا ہوم ورک Completeکرنے والے بچے کے باپ کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ اور جس وقت میں یہ سجدے کر رہا ہوتا ہوں۔ اُس وقت مُراد (میرا بیٹا) میری پشت پر کہیں کرکٹ کھیل رہا ہوتا ہے۔ اور اُس کی بال میری جائے نماز پر کئی مرتبہ ٹپے کھاتی ہے۔ وہ بے پرواہ ہے۔ کیونکہ اُس کا بابا اپنے خُدا کے آگے اُس کے لئے دُعا مانگ رہا ہے۔

