میرے بابا کا خدا (1)

وہ دن بھی اس عشق اُگانے والے موسم کا ایک حسین دن تھا۔ جب آسمان خاموشی کی چادر تانے مستونگ کی گلیوں سے نکل کر میدان میں پھیلتے ہوئے معصوم بچوں کی شور مچاتی ہوئی آوازیں سُن رہاتھا۔ بالکل اُس بوڑھے بابا کی طرح جو بظاہر آنکھیں موندھے دیوار سے پیٹھ لگائے سورہا ہوتا ہے۔ مگر گھرکے صحن میں کھیلتے ہوئے بچوں کے شور میں تھوڑی دیر کے لئے اپنے ناسیٹلجیا میں سانس لیتے ہوئے…. اپنا بچپن یاد کررہاہوتا ہے۔
میدان میں کھیلتے ہوئے بچوں کی آوازیں، کلمہ شہادت کی سرگوشیوں کو توڑ توڑ کر میرے پاس آرہی تھیں۔ اور مجھ چالیس سال کے آدمی کو اُس کے چار سالہ بچپن میں گھسیٹ گھسیٹ کر لے جارہی تھیں۔ اس لئے میں باوجود بہت ضبط کے۔ اپنے Graceکو بچانہیں پایا۔ اور ایک چارسالہ بچے کی طرح پھُوٹ پھُوٹ کر رو پڑا تھا جب میرے بابا کی میت لحد میں رکھی جا رہی تھی۔
گلیوں میں کھیلتے ہوئے میں نے بھی کئی بار اس طرح کے جنازے دیکھے تھے۔ زمیں میں دفن ہوتے ہوئے باپ، اور اُن کی قبر پہ چیختے چلاتے بچے میں نے بیسیوں مرتبہ دیکھے تھے۔ اور ہر بار میں نے رات کو بابا کے بازو پر سر رکھ کر سونے سے پہلے اس منظر کو بیان کیا تھا۔ اور ہر بار میرے بابا نے مجھے اپنے سینے سے چمٹا کر خاموش ہونے کو کہا تھا۔ اس رات وہ مجھے میری نیند میں جانے تک اپنے سینے سے الگ نہیں کرتے، آج میرے گھنے بالوں والا وہ تکیہ خود زمین میں دفن ہو رہا تھا۔ اور میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کس کے سینے سے لگ کر روﺅں۔
لحد میں رکھتے وقت بابا کے جسم کا جو حصہ میں نے تھام رکھا تھا۔ یہ اُن کی پیٹھ تھی۔ جس پر کالے رنگ کا ایک دھبہ پیٹ تک پھیلا ہوا تھا۔ اس دھبے کو دیکھ کرغُسل دینے وقت مولوی صاحب گھبرا گئے تھے کہ میت خراب ہورہی ہے۔ اس لئے اس کے سرہانے بیٹھ کر بین کرنے کی بجائے اس کو راتوں رات دفنا دیا جائے۔ اُس وقت میں کراچی سے کوئٹہ جانے والی سڑک پر ڈرائیو کر رہا تھا۔ اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں کسی طرح سے اُڑ کر بابا تک پہنچ جاﺅں۔ کیونکہ آج وہ خود نہیں، اُن کی میت میرا انتظار کر رہی ہے۔ اُس وقت میرے موبائل فون پر مولوی صاحب کے اس فیصلے کی اطلاع پہنچی تو تب میں نے پہلی بار بابا کے جسم پر اُس دھبے کا راز افشا کیا تھا۔
بابا کی پیٹھ پر پھیلا ہوا وہ کالا دھبہ اس فوجی آپریشن کی دین تھی جو 1973میں بلوچ باغیوں کے خلاف کیا گیا تھا۔ ان دنوں بابا پبلک ٹرانسپورٹ چلاتے تھے اور اُستاد معراج کے نام سے جانے جاتے تھے۔ آپریشن کرنے والوں کو شک تھا کہ میرے بابا بھی اُس ”ناسور“ کو پھیلانے میں کوئی کردار ادا کررہے ہیں۔ جو بغاوت کے نام پر وڈھ سے لے کر کوہلو تک بندوق لے کر پہاڑوں پہ مورچہ بند تھا۔ بابا پہ الزام تھا کہ وہ ڈھکے چُھپے اپنی لاری میں راشن کا سامان پہنچا کر اُن باغیوں کو توانا کر رہے ہیں۔ شاید اُن پر آپریشن کرنے والی قوتوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسے باغیوں کی توانائیاں تو وہ ناانصافیاں ہوتی ہیں۔ جو آزاد زمین پر بھی غلامی کی گُھٹن بنتی ہیں۔ جہاں سونے چاندی اور تیل اور گیس سے بھرے پہاڑوں پر زندگی جھونپڑی بنا کر رہ رہی ہوتی ہے۔ بابا کے جسم پر وہ کالے دھبے خود میرے لئے کبھی بہت بڑاسوال تھے۔
بچپن میں تو بابا اُسے جن بھوتوں کی کہانیوں سے وابستہ کرکے ہر بار کوئی نئی کہانی سُنا کر ٹال دیئے تھے۔ مگر کچھ عرصہ پہلے میں نے زور دے کر اُن سے پوچھا کہ آیا وہ الزام صحیح تھایا غلط؟ تو اُنھوں نے بہت سوچ کر جواب دیا ”بچہ، اُس وقت کی لڑائی میں ڈرائیور کو بھی معلوم تھا کہ اُس نے کیا کرنا ہے۔ مگر آج کی لڑائی میں تمھارے پڑھے لکھوں کو بھی نہیں معلوم کہ ہو کیا رہا ہے“ پھر بابا نے اپنے بہت سارے قصے اور واقعات سُنائے تھے۔ اور پھر اُداس ہو کے ان واقعات کی گرمجوشی سے نکلتے ہوئے کہا تھا ”کل کی لڑائی اُمید کی لڑائی تھی آج کی لڑائی مایوسی اور بے بسی کی لڑائی ہے“۔ کل کا نوجوان ایک اُمید بن کر پہاڑوں پہ گیا تھا۔ آج کا نوجوان اپنے لوگوں سے مایوس ہوکر مورچہ باندھے بیٹھا ہے۔ کل کی لڑائی کا کوئی حل تھا مگر آج کی لڑائی کا کوئی تصفیہ نہیں ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو خود بجھنے تک جلتی رہے گی۔ سب جل جائے گا بس ایک سڑک باقی رہ جائے گی۔
میں نے بابا کی اُس داغ دار پیٹھ کو بہت دھیرے سے اُس مٹی میں رکھ دیا۔ جس مٹی کے لئے وہ داغ دار ہوئی تھی۔
بابا کے دل پہ بھی داغ تھے۔ جو غسل دینے والے مولوی یا اس کے اردگرد کے لوگوں کو نظر نہیں آئے وہ داغ جو بابا کی پیٹھ پر لگنے والے داغوں سے زیادہ گہرے تھے۔ مگر وہ داغ اپنوں نے دئے تھے۔ آخر اُمید سے مایوسی اور بے بسی تک کا سفر اُستاد معراج نے بھی تو طے کیا تھا۔ اس جذبے کو اس نے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے لئے لڑتے جھگڑتے دیکھا تھا۔ ان قربانیوں کو اس نے بلڈوزروں کے گھنٹوں کے تلے روندتے ہوئے دیکھا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپریشن کرانے والوں نے اُس آپریشن سے کچھ نہیں سیکھا۔ آپریشن کے بعد وہ ایک غیر ملکی طاقت کی طرح فتح کے نشے میں سرشار چند لاشوں اور گرفتاریوں کی ضرب جمع ساتھ لے کر گئے۔ ایک بار بھی رک کر نہیں سوچا کہ اپنے ہی ملک میں اُن کے خلاف ہتھیار اُٹھانے والا جذبہ کن وجوہات کی پیدوار ہے۔ ان میں سے اگر ایک بھی ذمہ دار آدمی اس مٹی کی ایک مُٹھی گھر لے جا کر اس کو غور سے دیکھتا تو شاید وہ جذبہ دوبارہ اس کے آگے بندوق تاننے کی بجائے اس کے ساتھ کھڑے ہوکر اس کا بازو بنتا۔
بابا سیاستدان تھے نہ انقلابی نہ مجاھد۔ وہ ڈرائیور تھے۔ سیدھے سادھے ڈرائیور تبھی ان کا دکھ ان کے دل پر کسی تشدد کرنے والے حوالدار کے چھتر کی طرح برستا رہا اور داغ بناتا رہا۔ وہ اس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کرتے تھے۔ تبھی ان کے پاس ایک سیاستدان، انقلابی اور مجاہد سے زیادہ بڑا اور سچا وژن تھا۔ وہ لوگوں کے مسائل کو سیاستدانوں کی طرح اخبارات میں نہیں پڑھتے تھے۔ اور نہ ہی انقلابیوں کی طرح غیر ملکی انقلابیوں کی کتابیں پڑھ پڑھ کر اپنے لوگوں کو مارکس، لینن، ماوزے تنگ، چے گوویرا اور نیلسن منڈیلا کے ترازو میں تولتے تھے۔ اور نہ ہی کسی مجاہد کی طرح وہ کسی کے دکھائے ہوئے خواب کے تعاقب میں مذہب کے نام پر انسانیت کو روندنے کے حق میں تھے۔ وہ صرف ڈرائیور تھے جو ہر شہر، ہر گاﺅں، ہرسڑک اور ہر پگڈنڈی کی اونچ نیچ کی طرح وہاں کے لوگوں کے مزاج اور مسائل سے واقف تھے۔ وہ گوادر سے لیکر چمن تک ہر میر معتبر سردار اور ٹکری کو جانتے تھے۔ ہر خان اور پھنے خان سے ملے تھے۔ امیر غریب، ظالم، سخی، چور ڈاکو، عقیدت منداور بزرگ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ٹکراتے تھے۔ انھوں نے اُجڑے ہسپتالوں، ویران اسکولوںاور آباد بیٹھکوں اور اوطاقوں میں راتیں گزاری تھیں۔ جوہڑ کے پانی اور سوکھی روٹی کے نوالوں کا ذائقہ چکھا تھا،، کہتے تھے۔
”ہمارے لوگوں کی سب سے بڑی بد قسمتی ان کی معصومیت اور سادگی ہے۔ جس کو مُلا، معتبر، سرکار اور سیاستدان نے ہمیشہ استعمال کیاہے۔ میں نے ہمیشہ اس جذباتی معصومیت کو مُلا کے خوف، معتبر کے احترام، سیاستدان کے نعروں اور سرکار کے وعدوں کے آگے بے بس دیکھاہے۔ آج بھی وہی معصومیت ہے جو کہیں بم بن کر پھٹ رہی ہے اور کہیں بم پھاڑ کے ماری جارہی ہے۔
بابا کی میت ایمبولنس میں رکھے جب ہم کوئٹہ سے مستونگ جارہے تھے۔ تو ترقی اور خوشحالی کے نام پر زیر تعمیر چینی سڑک کے ہچکولوں سے میری روتی ہوئی آنکھیں خوفزدہ ہوگئیں۔ اور میں نے کئی بار بابا کی اسٹر یچر پہ پڑی ہوئی میت کو سنبھالا کہ کہیں وہ گِر نہ پڑے۔ مجھے اور رونا آیا کہ اُستاد معراج نے زندگی بھر بلوچستان کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پہ ہچکولے کھا کھا کے ڈرائیونگ کی۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اسٹیرنگ سنبھال کر ان سڑکوں کے گڑھوں کے جھٹکے کھاتے رہے۔ اور آج ان کی میت بھی جھٹکے کھا رہی ہے۔ میں باپ کی میت سنبھالے اُس ٹوٹی پھوٹی سڑک کے کنارے دیواروں پر لکھے ہوئے سُرخ اور سیاہ نعروں کو پڑھ رہا تھا۔ مذہبی اور غیر مذہبی پارٹیاں پرانے لفظوں میں نئے خواب دکھارہی تھیں اور دوسری جانب سبز سرکاری رنگ کے بورڈز پر ترقیاتی کاموں والے دعوے درج تھے۔ سب کچھ دیواروں پرلکھا ہواہے۔ اور زمین پہ کچھ بھی نہیں۔
ابھی ایک سال پہلے الیکشن کا ایک اُمید وار۔ جو آج کل منتخب ہونے کے بعد حکومت کے مزے لوٹ رہا ہے۔ بابا کے پاس ووٹ مانگنے آیا اس نے کامیابی کے بعد بہت ساری خوشحالی کے وعدے گنوانے شروع کردیئے۔ تب بابانے اس کو روک کر کہا ”میر صاحب ہمیں سڑک چاہئے نہ بجلی، نہ پانی۔ ہم اپنے گدانوں میں رہ لیں گے، جو ہڑ کا پانی پیئں گے اور لالٹینوں پہ گزارہ کر لیں گے۔ اگر آپ ہمارے لئے کچھ کرسکتے ہیں تو ہمیں ان چور اُچکوں اور رہزنوں سے نجات دلائیں جو ہماری خالی جیبیںٹٹول ٹٹول کر ہمیں بے عزت کررہے ہیں“
آج بابا کا خوف بھی اس کے ساتھ دفن ہونے جارہا تھا۔ جو ان چوروں اور رہزنوں کی وجہ سے میرے لئے ہوتا تھا جب رات کو میں دیر سے گھر کو لوٹتاتو بابا گیٹ پہ پریشان کھڑے ملتے۔ میں نے ایک رات چڑ کر ان سے کہا ” آپ میرے لئے مت ڈریں بابا۔ میں بچہ تو نہیں ہوں“ جواب دیا۔ ”اسی لئے تو ڈرتا ہوں۔ کہ تم اب بچے نہیں رہے ہو۔ بچوں والے ہوگئے ہو۔ جب تک بچہ بچہ رہتا ہے تو باپ اسے ڈراکر مطمئن ہوجاتا ہے۔ مگر جب بڑا ہوتا ہے تو اس کے لئے ڈرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا “ تب میرا دل چاہا کہ میں ان سے کہہ دوں کہ مجھے اب بھی ان سے ڈرلگتا ہے۔ ان کی گرجدار آواز اور گہری آنکھوں کے آگے آج بھی میں نہیں بول سکتا ہوں۔
(جاری ہے)

