کس برانڈ کا نوجوان تیار کر رہے ہو؟

اسی فیصلے پر ہمارے مستقبل کا انحصار ہے۔ ریاست اپنی پسند کے گروپ کو پروان چڑھانے کے لئے خاص ماحول پیدا کرنے کا اختیار اور طاقت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ آئین، قانون اور پالیسیاں بناتی ہے اور اس کا اطلاق کراتی ہے۔ سکول، کالج، مدرسے، مسجدیں (یا عبادت گاہیں)، اخبار، ٹی وی اور باقی میڈیا اس کے اہم آلہ کار ہوتے ہیں۔ ساری دنیا ہمارے سامنے ہے۔ ہر ملک میں آئین، پالیسیاں، قانون، تعلیمی درس گاہیں اور میڈیا ہے۔ کہیں مذہبی دہشت گردی کا حامی نوجوانوں تیار ہو رہا ہے اور کہیں لبرل اور سیکولر سوچ کا نوجوان۔ ایک وقت میں صرف ایک ہی برانڈ تیار ہو سکتا ہے۔ فیصلہ ہمارا ہے۔ قدرت کا قانون واضح ہے۔ آج جو بوئیں گے کل وہی کاٹیں گے۔

دوسری طرف لبرل اور سیکولر سوچ کے حامی ہیں۔ وہ لاشیں گرانے کے قائل نہیں بلکہ زندگی کے خواہاں ہیں۔ ان کے نزدیک تمام عقائد قابل احترام ہیں۔ اپنے عقیدے کا انتخاب انسان کا بنیادی حق ہے اور اس کا احترام سب پر لازم ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ سب کو اپنی مرضی کا عقیدہ چننے اور اس کی پریکٹس کرنے کے لئے خوف سے پاک ماحول مہیا کرے۔ ایک وضاحت کرتا چلوں، لبرل یہ نہیں کہتے کہ لوگ اپنا مذہب یا عقیدہ ترک کر دیں اور ملحد ہو جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے عقیدے کو عزیز رکھیں اور عقیدے کے معاملے میں دوسروں کو بھی یہی حق دیں۔ مزید یہ کہ مذہبی آزادی ہو تاکہ کسی بھی شخص کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر اپنے بنیادی انسانی اور شہری حقوق حاصل کرنے میں کسی تفریق کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لبرل کوئی نئی بات نہیں کر رہے بلکہ یہ "لا اقراہ فی دین” کا اصول ہے جو چودہ سو سال پہلے طے کر دیا گیا تھا۔ مذہبی تعلیمات کے مطابق روز حساب آپ سے یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ اگر آپ کا پڑوسی باقاعدگی سے مسجد نہیں جاتا تھا یا گائے کی پوجا کرتا تھا یا یوم عاشور میں گلیوں میں ماتم کرتا تھا یا داتا دربار قوالی سننے جاتا تھا تو آپ نے اسے قتل کیوں نہیں کر دیا یا لوگوں کے جذبات بھڑکا کر قتل کیوں نہیں کروا دیا۔ بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ آپ نے ایک انسان کا قتل کیوں کیا یا ایک انسان کے قتل کا موجب کیوں بنے۔ ریاست کے ذمہ داروں کا معاملہ بھی یہی ہو گا۔

کچھ لوگ لبرل حلقوں کے ان سوالات سے بہت پریشان ہو تے۔ ان کے نزدیک یہ سوالات کرنا جرم ہے اور اس جرم کی سزا موت ہے۔ لہٰذا وہ پاکستان کے آئین، تعلیمی نصاب یا پالیسیوں پر اٹھائے گئے سوالات کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکائیں اور نتیجے میں انہیں کچھ لاشیں مل سکیں۔ یہ سنگین جرم، وہ، کھلے عام کرتے ہیں اور قانون خاموش رہتا ہے۔ حالانکہ نفرت پھیلانے کے خلاف قانون موجود ہے اور سیکڑوں امام مساجد نفرت بھری تقریریں کرنے اور لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزام میں مقدمات بھگت رہے ہیں اور جیلیں بھی کاٹ رہے ہیں۔
لبرل طبقے کے مطالبات بالکل واضح ہیں۔ انسانوں میں رنگ و نسل، مذہب اور جنس کی بنیاد پر تفریق نہ ہو اور ریاست مذہب کے معاملے میں غیر جانب دار ہو۔ یہ بنیادی لوازمات پورے ہوں گے تو امن اور ترقی کے سفر کا آغاز ہو گا۔ یہ آئیڈیئل حاصل ہونے تک سوالات تو اٹھتے رہیں گے۔ جنونی یہ نہیں جانتے کہ گولیوں، دھماکوں، اغوا اور پھانسیوں کا خوف تھوڑی دیر کے لئے آوازوں کو چپ کرا دے گا لیکن سوال تو وہیں رہیں گے۔ سوال مرتے نہیں بلکہ مزید پھیلتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کرنے والے بے پناہ طاقتور مذہبی جنونی انسانی سوچ کا سفر نہیں روک سکے۔ جو آج ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ پکڑ دھکڑ سوچ کا راستہ روک نہیں سکے گی۔

