منیرا مر گیا ہے

اس کی برادری میں اس کی تجہیز و تکفین پر بھی عجیب تماشے ہوئے اس کی بہنوں بھائیوں اور سسرال کی اس بات پر لڑائی شروع ہو گئی کہ اس کی میت کس کے گھر رکھی جائے اور جنازہ کہاں سے اٹھایا جائے نیز جنازہ کس مسلک کے تحت پڑھایا جائے؟ اس ایک مسئلے پر دوپہر سے شام تک کئی بار آپس میں توتکار اور منہ ماری ہوتی رہی لیکن کسی کو خیال نہ آیا کہ اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے۔۔ منیرا مر کر زیادہ اہم ہو گیا تھا اصل میں اہم وہ ہسپتال کی ڈسچارج سلپ تھی جس کو دونوں فریق آجروں کی طرف دیا جانے والا امدادی چیک سمجھ رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی اور کے ہاتھ لگے ۔۔ شام گئے جب میں گھر پہنچا تو صورتِ حال واضح ہو چکی تھی۔ چیک کا معمہ حل ہو گیا تھا
اور منیرا حسبِ معمول دونوں فریقین کے لیے بوجھ بن چکا تھا ۔۔ مجھے فوری طور پر اس کے کفن دفن کا انتظام کرنا پڑا۔۔ اس کی برادری اب محض تماشائی تھی اور منیرا تماشا جو سب دیکھ چکے تھے۔ اب انہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔۔ میں نے دونوں دھڑوں کو ایک ساتھ بٹھانے کی پوری کوشش کی لیکن دونوں طرف جھوٹی انا غالب تھی ۔۔ کچھ نام نہاد سرپینچوں کی سبکی ہوئی تھی جنہیں اب یہ گوارا نہیں تھا کہ صلح صفائی ہو جائے۔ کچھ سابقہ رنجشیں تھیں جن کا بدلہ منیرے کی میت سے لیا جارہا تھا۔ خیر خدا خدا کر کے قبرستان پہنچے جنازہ ہوا اور دفن کے لیے قبر تک گئے تو پتا چلا گورکن نے قبر کا پاٹ اتنا گہرا اور چوڑا کر دیا ہے کہ وہ ایک خیمہ کی شکل اختیار کر گئی ہے اس میںت اتارنے کے بعد جب سیمنٹ کی سلیٹوں سے اسے بند کرنے لگے تو ایک صاحب کا پاؤں پڑنے سے سلیٹ درمیان سے ٹوٹ گئی ۔۔۔ اب ہر طرف سے ماہرانہ تبصرے شروع ہو گئے ۔ کوئی کہتا ایک ٹی آر گارڈر ہو تو سلیٹیں محفوظ رہ سکتی ہیں کوئی کہتا پکی اینٹوں اور سیمنٹ سے چنائی کی جائے تو ٹھیک رہے گا ۔۔۔ کوئی کہ رہا تھا مٹی کے انبار تلےیہ سلیٹیں ہر حال میں ٹوٹ جائیں گی خواہ جتنی کوشش کر لیں۔ کوئی گورکن کو قصور وار ٹھہرا رہا تھا کوئی مزدوروں کو اور یہ سارے لوگ وہ تھے جو دوپہر سے شام تک کفن دفن کا انتظام نہیں کرسکے تھے اور اب رات کے بارہ بجے تبصرے فرما رہے تھے ۔۔ میں نے گورکن کو نئی قبر کھودنے کو کہا تو یہ اعتراض شروع ہو گیا کہ یہ بد شگونی ہو گی پہلی قبر کا کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔ میں نے انہیں بہتیرا سمجھایا کہ زمین کا یہ ٹکڑا کسی اور کے لیے مختص ہے یہ منیرے کے لیے نہیں ہے ورنہ قبر ٹھیک بن جاتی اب اس گہری خندق میں اسے کس طرح دبا دیا جائے ۔۔۔ خیر خدا خدا کر کے نئی قبر کھودی گئی اور اسے دفنا دیا گیا۔ منیرا زندہ رہا تو بھی مختلف گھروں میں سر چھپاتا پھرا۔ اب مرنے کے بعد بھی اسے دو گھر بدلنے پڑے ۔۔۔۔ مجھے فرحت اللہ بیگ کا مضمون مردہ بدست زندہ شدت سے یاد آتا رہا اور ایک پنجابی لوک کہاوت درد سے لبریز دل پر بار بار دستک دیتی رہی:
چڑیاں موت گنواراں ہاسا
منیرے کے دفنانے کے بعد دونوں فریقین نے دیگیں چڑھائیں۔ علاحدہ علاحدہ ستھر سجائے اور شریکے برداری میں اپنی ناک اونچی کرائی ۔۔ کاش منیرا نہ مرتا ہماری جھوٹی انا ، حرص اور ہوس مر جاتی لیکن افسوس کہ منیرے بے موت مرتے رہیں گے۔۔۔

