منیرا مر گیا ہے


وہ ایک مزرور تھا اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بندہ مزدور کے اوقات کیسے تھے ۔ کل صبح سویرے بس کی چھت پر سوار ہو کر حسب معمول فیصل آباد مزدوری کرنے گیا ۔ میں نے یونیورسٹی جاتے ہوئے اسے گیٹوں پر دیکھا وہ بہت کمزور لگ رہا تھا شاید نہیں یقیناً اس نے ناشتا نہیں کیا ہوا تھا ۔ میں چاہتے ہوئے بھی اسے نہ مل سکا تاسف اور تشکر کے ملے جلے احساس کے ساتھ یونیورسٹی چلا گیا تاءسف اس کے لیے اور احساس تشکر اپنے لیے کہ وہ ایک دیہاڑی کی تلاش میں سرگرداں مزدور تھا اور میں شہر کی اہم یونیورسٹی میں اعلا عہدے پر فائز۔ یہ سب کچھ کل ہوا اور کل ہی اسے دس بجےتک طویل انتظار کے بعد پانچ سوکی دیہاڑی ملی اسے شام سے پہلے ایک دیوار کھڑی کرنا تھا اس کے پاس وقت بہت کم تھا شام تک اسے پانچ بچوں کے لیے دال آٹا لے کر گھر پہنچنا تھا دو بجے اسے مالکوں نے دال روٹی دی. اس نے ناشتے کی کسر بھی پوری کی اور آخری لقمہ حلق سے اتارتے ہی اپنے کام پر لگ گیا اس کے ساتھی مزدور نے اسے تھوڑا آرام کرنے کا مشورہ دیا لیکن اسے شام سے پہلے گھر پہنچنا تھا اس لیے بغیر کسی وقفے کے کام پر جت گیا ۔ وہ شام سے کچھ پہلے ہی گھر پہنچا۔ اس کی بس چھوٹ گئی تھی۔ مالکوں نے اس کے لیے ایمولینس بک کرائی وہ عجیب شان سے گھر آیا۔ اپنے اصلی گھر اسے دفنانے کے لیے مجھے گاؤں کے قبرستان آنا پڑا۔ منیرے کی موت کا کھانا سارے گاؤں نے کھایا لیکن اس کے بچے اس کا انتظار کرتے کرتے بھوکے سو گئے۔۔۔ منیرا میرا دوست میرا بھائی ایک عام مزدور آج مر گیا۔ آج میرے اندر بھی کوئی مر گیا ہے۔ آج منیرا مر گیا ہے۔۔۔

اس کی برادری میں اس کی تجہیز و تکفین پر بھی عجیب تماشے ہوئے اس کی بہنوں بھائیوں اور سسرال کی اس بات پر لڑائی شروع ہو گئی کہ اس کی میت کس کے گھر رکھی جائے اور جنازہ کہاں سے اٹھایا جائے نیز جنازہ کس مسلک کے تحت پڑھایا جائے؟ اس ایک مسئلے پر دوپہر سے شام تک کئی بار آپس میں توتکار اور منہ ماری ہوتی رہی لیکن کسی کو خیال نہ آیا کہ اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے۔۔ منیرا مر کر زیادہ اہم ہو گیا تھا اصل میں اہم وہ ہسپتال کی ڈسچارج سلپ تھی جس کو دونوں فریق آجروں کی طرف دیا جانے والا امدادی چیک سمجھ رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی اور کے ہاتھ لگے ۔۔ شام گئے جب میں گھر پہنچا تو صورتِ حال واضح ہو چکی تھی۔ چیک کا معمہ حل ہو گیا تھا

اور منیرا حسبِ معمول دونوں فریقین کے لیے بوجھ بن چکا تھا ۔۔ مجھے فوری طور پر اس کے کفن دفن کا انتظام کرنا پڑا۔۔ اس کی برادری اب محض تماشائی تھی اور منیرا تماشا جو سب دیکھ چکے تھے۔ اب انہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔۔ میں نے دونوں دھڑوں کو ایک ساتھ بٹھانے کی پوری کوشش کی لیکن دونوں طرف جھوٹی انا غالب تھی ۔۔ کچھ نام نہاد سرپینچوں کی سبکی ہوئی تھی جنہیں اب یہ گوارا نہیں تھا کہ صلح صفائی ہو جائے۔ کچھ سابقہ رنجشیں تھیں جن کا بدلہ منیرے کی میت سے لیا جارہا تھا۔ خیر خدا خدا کر کے قبرستان پہنچے جنازہ ہوا اور دفن کے لیے قبر تک گئے تو پتا چلا گورکن نے قبر کا پاٹ اتنا گہرا اور چوڑا کر دیا ہے کہ وہ ایک خیمہ کی شکل اختیار کر گئی ہے اس میںت اتارنے کے بعد جب سیمنٹ کی سلیٹوں سے اسے بند کرنے لگے تو ایک صاحب کا پاؤں پڑنے سے سلیٹ درمیان سے ٹوٹ گئی ۔۔۔ اب ہر طرف سے ماہرانہ تبصرے شروع ہو گئے ۔ کوئی کہتا ایک ٹی آر گارڈر ہو تو سلیٹیں محفوظ رہ سکتی ہیں کوئی کہتا پکی اینٹوں اور سیمنٹ سے چنائی کی جائے تو ٹھیک رہے گا ۔۔۔ کوئی کہ رہا تھا مٹی کے انبار تلےیہ سلیٹیں ہر حال میں ٹوٹ جائیں گی خواہ جتنی کوشش کر لیں۔ کوئی گورکن کو قصور وار ٹھہرا رہا تھا کوئی مزدوروں کو اور یہ سارے لوگ وہ تھے جو دوپہر سے شام تک کفن دفن کا انتظام نہیں کرسکے تھے اور اب رات کے بارہ بجے تبصرے فرما رہے تھے ۔۔ میں نے گورکن کو نئی قبر کھودنے کو کہا تو یہ اعتراض شروع ہو گیا کہ یہ بد شگونی ہو گی پہلی قبر کا کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔ میں نے انہیں بہتیرا سمجھایا کہ زمین کا یہ ٹکڑا کسی اور کے لیے مختص ہے یہ منیرے کے لیے نہیں ہے ورنہ قبر ٹھیک بن جاتی اب اس گہری خندق میں اسے کس طرح دبا دیا جائے ۔۔۔ خیر خدا خدا کر کے نئی قبر کھودی گئی اور اسے دفنا دیا گیا۔ منیرا زندہ رہا تو بھی مختلف گھروں میں سر چھپاتا پھرا۔ اب مرنے کے بعد بھی اسے دو گھر بدلنے پڑے ۔۔۔۔ مجھے فرحت اللہ بیگ کا مضمون مردہ بدست زندہ شدت سے یاد آتا رہا اور ایک پنجابی لوک کہاوت درد سے لبریز دل پر بار بار دستک دیتی رہی:

چڑیاں موت گنواراں ہاسا

منیرے کے دفنانے کے بعد دونوں فریقین نے دیگیں چڑھائیں۔ علاحدہ علاحدہ ستھر سجائے اور شریکے برداری میں اپنی ناک اونچی کرائی ۔۔ کاش منیرا نہ مرتا ہماری جھوٹی انا ، حرص اور ہوس مر جاتی لیکن افسوس کہ منیرے بے موت مرتے رہیں گے۔۔۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر اصغر علی بلوچ

ڈاکٹر اصغر علی بلوچ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد میں شعبہ اُردو کے چیئرمین ہیں۔

asghar-ali-baloch has 4 posts and counting.See all posts by asghar-ali-baloch