ایسٹ انڈیا کمپنی سے سی پیک تک، کیا سیکھا ہے؟
میرے پسندیدہ بھارتی مئورخ ”تپن رائے چوہدری“ نے لکھا ہے کہ جب پرتگالیوں نے بحر ہند پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے حکم جاری کیا کہ تمام ایشین جو اس سمندر میں سفر کریں گے ان کے پاس پرتگالی اجازت نامہ ہونا چاہیے تب ہی وہ سفر کے قابل ہیں۔ اس پر مغل حکمران بہت سٹپٹائے، انہوں نے احتجاج کیا مگر شنوائی نہ ہو ئی۔
مغل حکمران کے مشیروں نے اسے مشورہ دیا کہ ہم کیوں گھبرا رہے ہیں؟ ان پرتگالیوں کی ساری فیکٹریاں تو زمین پر ہیں ناں۔ اگر انہوں نے سمندر میں کوئی چھیڑ چھاڑ کی تو ہم انہیں یہاں زمین پر دیکھ لیں گے۔ سمندر پر نہ سہی زمین پر تو جہاں پناہ کی شاہی ہے۔
تپن رائے کے مطابق یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان میں مغل حکمران مضبوط بھی تھے اور انہیں ٹھیک ٹھاک ریونیو اکٹھا ہو رہا تھا۔ مگر ان کاہلوں نے اس وقت بھی مضبوط بحری فوج کا آئیڈیا نہ سمجھا۔
خیر آگے جا کر تپن رائے ایک دلچسپ سوال بھی کرتا ہے وہ یہ کہ اگر مغلوں کے زوال کے دور میں بحری فوج ہوتی بھی تو وہ کیا کر لیتے جبکہ ان کے پاس زمینی فوج تو موجود تھی مگر معیشت کے زوال کے سبب فوج کو مضبوط رکھنا ممکن نہ رہا تھا کیونکہ دینے کے لئے فوجیوں کو تنخواہ بھی نہیں ہوتی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ اگر زمینی فوج مغل بادشاہ کے لئے لڑنے پر تیار نہیں تھی تو بحری فوج بھی نہ ہوتی۔ مغل سلطنت اول معاشی زوال دوم انتظامی زوال کے سبب ہی منہدم ہوئی مگر بدقسمتی سے ان دونوں اسباب کی اہمیت دریافت کرنے میں ہم ناکام ہی ہیں۔
اس سلسلے میں ایک واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ پلاسی کی جنگ سے کافی وقت پہلے بنگال کے حکمران نے انگریزوں کو بندرگاہ سے ”فری پاس ” کا اختیار دے دیا کہ اب کوئی بھی بنگالی افسر ان کے جہازوں کی تلاشی نہیں لے سکے گا۔ انگریزوں نے ٹیکسز سے بچنے کے لئے، چیزیں چھپا کر امپورٹ ایکسپورٹ شروع کر دی۔ مقامی تاجروں نے شکایت کی کہ جہاں پناہ فری پاس کی اجازت دینی ہی ہے تو سب کو دیں صرف انگریزوں کو کیوں؟ دیکھیں وہ کیا کچھ کر رہے ہیں اور ان کی وجہ سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے۔ جہاں پناہ نے انگریزوں سے بات کی اور انھوں نے کہا سمندر تو ہمارے ہیں، زمین خیر آپ کی ہوئی۔ جہاز سمندر میں ہو گا تو آپ کاہے کا اس پر ٹیکس لیں گے۔ جہاں پناہ کو خاموشی میں ہی پناہ ملی۔
ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ جو میرا دل کرتا ہے ہندی مسلمانوں کے گھروں کی دیواروں پر کنندہ کرواؤں تاکہ ہم کوئی سبق سیکھ سکیں۔ اس واقعہ کو ہمارے فکری سرمایہ کے انتہائی معروف اور قابل احترام نام ڈاکٹر عزیز احمد نے اپنی کتاب برصغیر میں اسلامی جدیدیت (ترجمہ جمیل جالبی) میں لکھا ہے وہ یہ کہ جب وسطی ایشیا کی تیموری سلطنت کے زوال کے سبب حجاز کا بحری راستہ غیر محفوظ ہو گیا تھا تو اب صرف بری راستہ ایک ہی بچا تھا ایران یعنی فارس کا۔ اس وقت فارس میں صفوی شیعہ سلطنت قائم تھی، صفوی شیعوں نے ہندوستانی سنیوں کو راستہ دینے سے انکار کر دیا۔ تب تین سو سال یعنی سولھویں صدی سے انیسویں صدی تک پہلے پرتگالی پھر انگریز مسلمانوں کو بحری جہازوں میں لاد لاد کر حج کرواتے رہے اور ثواب دارین کے ساتھ ساتھ جہاز کرایہ کی آمدنی بھی کماتے رہے۔ سولہویں صدی کے آخری عشروں میں اکبر کی حکومت تھی۔ اس کے تقریبا ایک سو سال بعد عالمگیر کی بھی حکومت آئی کسی نے بھی (نہ رند نے اور نہ مؤمن نے ) بحریہ کی طرف توجہ کی اور نہ ہی انگریزوں کی آمد تک ایرانیوں کو ہندوستانی مسلمانوں پر رحم آیا۔
ماضی کے ان واقعات کا ہمارے حال پر ایک مضبوط اثر تو قائم ہے۔ سستی کاہلی اور مقابلہ سے عار کی فطرت بھی نہیں گئی۔ مشہور بھارتی مصنفہ رومیلا تھاپر ہندوستانی تاریخ پر اپنی ایک انتہائی خوبصورت کتاب کا عنوان Past as Present رکھتی ہیں۔ یہ ایک دلچسپ کتاب ہے اور ہندوستانی تاریخ کے طالب علموں کو اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
مجھے یہ واقعات کیوں یاد آ رہے ہیں؟ اس لئے کہ کل بھی ہم نے بدلتے ہوئے مغرب کو نہیں سمجھا تھا۔ آج بھی ہم بدلتے ہوئے چین کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ چینی جب پاکستان آئیں گے تو ترقی کی کچھ بوریوں کا منہ ہماری طرف بھی کھل جائے گا ویسے ہی جیسے مغل حکمران سمجھے تھے کہ جب پرتگالی اور انگریز بین الاقوامی تجارت کرتے رہیں گے تو نتیجے میں ڈھیر سارا ٹیکس اکٹھا ہوتا رہے گا۔ پورے چار سو سال مغلوں نے اس ٹیکس کی آمدنی سے مزے لوٹے مگر اپنے ملک کی ترقی کی سائنس سمجھنے سے قاصر رہے ہم بھی چینی بزنس مین حضرات کے ٹیکسز کی آس لگائے بیٹھے ہیں مگر اپنے ملک میں اپنے مقامی شہریوں کی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں نہ حکومت کو کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی سول سوسائٹی کو۔ ہندوستان میں پرتگالی اور انگریز اس وجہ سے کامیاب رہے کہ مغلوں نے انہیں ان کے کاروباری سیکٹر میں اجارہ داری (مناپلی ) دے دی تھی ہم بھی اطلاعات کے مطابق چینی کمپنیوں کو مقامی کمپنیوں پر اجارہ داری دے رہے ہیں۔ آج نیشن اسٹیٹ کا عہد ہے چینی ایسٹ انڈیا کمپنی کی کہانی نہیں دہرا سکتے، مگر ترقی و خوشحالی تو خود کرنی ہو گی کون آپ کی یا میری جھولی میں اسے ڈالے گا؟ کل بحری جہازوں کی ٹیکنالوجی فیصلہ کن تھی تو آج انڈسٹریالائزیشن (صنعت کاری ) اور صنعتی تمدن کی ٹیکنالوجی اہم ہے۔ کل بھی معاشی و انتظامی زوال نے ایک عظیم الشان سلطنت کو زمین بوس کر دیا تھا اور آج بھی یہ دونوں عوامل ویسے ہی پراثر ہیں۔ ہمیں ضرور دیکھنا ہو گا کہ کل ہم کہاں کھڑے تھے تو آج ہم کہاں کھڑے ہیں یہ ہماری آنے والی نسلوں کی خوشحالی و مسرت کا سوال ہے۔

