نیک نام بادشاہ گر، بد سے بدنام بادشاہ
ہمارے یہاں ہی نہیں، دنیا بھر میں ”تاثر“ کی بڑی اہمیت ہے۔ فعل اور تاثر دو الگ موضوعات ہیں۔ کسی کے بارے میں یہ تاثر قائم ہو جائے کہ وہ نیک ہے، تو اس کی بدی میں بھی خیر تلاش کر لی جاتی ہے۔ اسی طرح کوئی بدنام ہو جائے تو اس کی نیکی کو بھی مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ سپر پاور امریکا نے یہ تاثر پیدا کر کے کہ عراق کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں اور ان ہتھیاروں سے دنیا کے امن کو خطرہ ہے، عراق پر چڑھائی کر دی۔ آج عراق کو جو احوال ہے وہ سامنے ہے لیکن یہ سوال کہیں گم ہو کے رہ گیا ہے کہ عراق کے وہ کیمیائی ہتھیار کیا ہوئے جنھیں بنیاد بنا کے حملہ کیا گیا۔ یاد رہے تاثر کی بنیاد پر کم زور پر چڑھائی کی جا سکتی ہے، طاقت ور کو کچلا نہیں جا سکتا۔ ایک کم زور کے مقابلے میں اس سے طاقت ور ہی منفی تاثر ابھار کے فائدہ اٹھاتا ہے، کیوں کہ طاقت ور کے خلاف زبان کھولنے پر زبان بندی کر دی جاتی ہے۔ ”تاثر“ تخلیق کرنا مارکیٹنگ کی سائنس ہے۔
ایک نصرانی مرنے کے بعد اٹھایا گیا، تو فرشتے نے خبر دی، اس کے اچھے برے اعمال کے ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہیں، چناں چہ فیصلہ کیا گیا ہے، کہ جنت یا دوزخ میں سے کسی ایک کا چناو وہ خود کر سکتا ہے۔ اس شخص نے کہا، پہلے مجھے دوزخ اور جنت کی ایک جھلک دکھا دی جائے، تبھی انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ فرشتے نے اس کو پادری کے حوالے کیا، جو اس کو ایک دروازے پر لے گیا، کِواڑ کھولا تو مہکتے پھولوں کا باغ دکھائی دیا۔ دودھ اور شہد کی نہریں، رنگ برنگی چرند پرند، انواع و اقسام کی نعمتیں دکھائی دیں۔ پادری نے بتایا یہ جنت ہے۔ پھر دوسرے دروازے پر لے گیا، کِواڑ کھلتے ہی بدبو اور گرم ہوا کا جھونکا آیا، اندر کا منظر رونگھٹے کھڑے کر دینے والا تھا، جہنمی چیخ پکار کر رہے تھے۔ پادری نے خبر دی کہ یہ دوزخ ہے۔ اس شخص نے کہا، مجھ کو جنت میں جانا ہے۔ اس کی خواہش کا احترام کرتے، اس کو جنت کے داروغے کے حوالے کر دیا۔ جنت میں گھستے ہی سارا منظر بدل گیا، کہیں ٹوٹی ہوئی کرسیاں پڑی تھیں، کہیں بکھری ہوئی فائلیں، تو کہیں دیواروں کا اکھڑا ہو پلستر منہ چڑھا رہا تھا۔ جنتی حیرت زدہ رہ گیا، داروغے سے استفسار کیا کہ وہ جنت کیا ہوئی جس کی جھلک پادری نے دکھائی تھی؟ داروغے نے کہا، یہ وہی جنت ہے، جو جھلک دکھائی گئی تھی، وہ ہمارے سیلز اینڈ مارکیٹنگ ڈپارٹ منٹ کا کارنامہ ہے، وہ پادری اس شعبے کا نمایندہ ہے۔
پاکستان کو ایک عرصے سے جنت بنانے کے خواب دکھائے جا رہے ہیں۔ کوئی پاکستان کے تحفظ کا امین بنا پھرتا ہے، کوئی جمہوریت کا کھڑپینچ؛ کسی کو لگتا ہے اس ملک کو سیاست دان لوٹ کے کھا گئے ہیں، ایک ادارہ نہ ہوتا تو آج پاکستان پر یہود کی حکمرانی ہوتی۔ کسی کا خیال ہے سیاست دان کٹھ پتلی ہیں، ان کی ڈوریاں جن کے ہاتھ میں ہیں، ان کے خلاف تو زبان بھی نہیں کھولی جا سکتی۔ یہاں ہر ادارہ ”بقلم خود“ نیک نام ہے۔ سندھیوں کے حقوق مہاجروں نے غصب کر رکھے ہیں، مہاجروں کو پختونوں نے تنگ کر رکھا ہے۔ بلوچوں اور سرائیکی کی آزادی پنجابیوں کے پاس گروی ہے۔ پختون سب سے غیرت مند ہیں، باقیوں کی غیرت مشکوک ہے۔ اسی طرح کے تاثر لے کر کے سب گروہ اپنی بے سکونی کی وجہ تلاش کرلیتے ہیں۔ حقائق کیا ہیں ان کی تلاش تو دور کی بات، سامنے کے حقائق بھی جھٹلانے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ مخالف نقطہ نظر پیش کرنے والا بکاو ہے۔ لیجیے اب آپ مخالفت کر دیکھیے، آپ کو دیوار سے لگانے کی وجہ پیش ہے، آپ بکاو ہیں۔ اس کے علاوہ ایک الزام یہ دیا جاتا ہے، کہ جو ہم پر تنقید کرے وہ اسلام کا دشمن ہے، گویا خود ہی اسلام کے محافظ بن بیٹھے، اور خود ہی دوسرے کو کافر قرار دیا، اب جو کوئی کافر کی بات پر بھی یقین کرے وہ تو جہنمی ہی ٹھیرا۔
پاناما اسکینڈل ہی کو لے لیجیے، جتنے منہ اتنی باتیں۔ عدالت کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ وہ تاثر پہ نہیں، ثبوت پر فیصلہ سناتی ہے۔ عدالت کو کوئی مناسب ثبوت فراہم نہیں کیے جا سکے، تو اس نے جے آئی ٹی تشکیل دی، جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ الزامات کے ثبوت اکٹھے کرے۔ یہ کمیشن اپنا کام کر رہا ہے، متضاد خبریں آتی رہتی ہیں۔ جہاں کسی کو لگتا ہے کہ کوئی بات قانون سے متصادم ہے، نا مناسب ہے وہ اپنے تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔ طریقہ کار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، اس طرح کہ معزز عدالت کے تقدس کا بھی خیال کیا جائے۔ ان صحافیوں کی کمی نہیں، جو عدلیہ کے سامنے پیش ہونے کو وزیر اعظم کی اخلاقی جیت قرار دیتے ہیں اور وہ صحافی بھی پیچھے نہیں جو بنا عدالتی فیصلے کے وزیراعظم کو مجرم بنائے ہوئے ہیں، ایسے میں وہ ماضی میں عدالت حملے کی خبریں دیتے نہیں تھکتے، مزید یہ کہ جو ان کے موقف سے اختلاف کرتا ہے، اس کے بارے میں واویلا کیا جاتا ہے کہ اس کو حکومت نے خرید لیا ہے۔ اس خرید و فروخت کا کوئی ثبوت طلب کرنے یا فراہم کرنے میں کسے دل چسپی، کتا کان لے گیا، اتنا سن کے بھاگ اٹھنے والوں کی کمی تو نہیں ہے۔ کیا کہیے کہ ایک وہی ایمان دار ہے جس کی قیمت حکومت وقت نہیں دے سکی، یا یہ کہیں کہ اس کی قیمت حکومت مخالف قوت ادا کرتی ہے؟ عدالت تک ثبوت جائیں نہ جائیں، تاثر تو قائم کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا سب سے بدعنوان وزیر اعظم یہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہر سیاست دان کی مٹی پلید کرنا ایک کھیل بن چکا ہے۔ یہ تاثر ہی کا کھیل ہے، جس کو گزشتہ ڈیڑھ سال سے کھیلا جا رہا ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا جا رہا کہ سیاست دان صاف دامن ہیں، لیکن کیا ہم اپنا دامن بھی دیکھتے ہیں؟
پاناما اسکینڈل کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے، عدالت جو بھی فیصلہ دے اس کو تسلیم کرنا ہی عدل ہے۔ ایسے میں نقار خانے میں کوئی مجھ سا بول اٹھے کہ اصغر خان کیس کا فیصلہ آیا تھا، اس کا کیا؟ کیوں کارروائی نہیں کی جا رہی؟ آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ ایک وزیر اعظم نے عدالت کے کہنے پر بر وقت خط نہیں لکھا تھا، وہ توہین عدالت کا مرتکب پایا گیا، برطرف تو ہوا سو ہوا، دو سال کے لیے نا اہل بھی قرار دیا گیا۔ اس کے بعد اگر نگران وزیر اعظم کو چھوڑ بھی دیا جائے تو یہ دوسرے وزیر اعظم ہیں، جن سے عدالت یہ پوچھ کے نہیں دیتی، کہ اصغر خان کیس پر ہم نے جو ہدایات دی تھیں، اس کا کیا ہوا؟ ایک تاثر یہ ہے کہ حکومتیں بنانے اور گرانے والی قوتیں اتنی طاقت ور ہیں، کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی ممکن ہی نہیں۔ خیر یہ نرا تاثر نہیں کیوں کہ رکارڈ روم میں کسی فائل کے نیچے دبااصغر خان کیس پر عدالت کا یہ فیصلہ، اس تاثر کی توثیق کرتا ہے، کہ کارروائی اپنے سے کم زور کے خلاف ہی کی جا سکتی ہے۔ ایسے تاثرات کو زائل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ عدالتوں سے انصاف ملنے لگے، تا کہ لوگ عدالتی فیصلوں کو بنیاد بنا کے بات کریں، نہ کہ عدالتیں تاثرات تو پھیلائیں، فیصلے دینے سے گریزاں رہیں، ایسا ہی ہے تو ہر کوئی اپنے تاثر ہی کو مکمل سچ مان کے چلے گا۔ یہاں بادشاہ گروں کو عدالت کے فیصلے سے غرض ہی کیا ہے، اصل میں تو برسوں کے تخلیق کیے تاثر کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔


