میاں صاحب کی احتسابی نوحہ گری
سپریم کورٹ نے جب سے پانامہ کیس کا فیصلہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کیا ہے۔ تب سے 20 کروڑ عوام وزیراعظم اور ان کے اہل و عیال کو کبھی سوشل میڈیا کی خبروں میں تو کبھی اخباروں کی سرخیوں کی زینت بنتے دیکھ رہے ہیں۔ میاں صاحب اور ان کے اہلِ و عیال بار بار ٹی وی اور اخباروں میں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے کہ ہمارا احتساب ہو رہا ہے۔ سبحان اللہ۔ قربان جاؤں اس ملک کے حکمرانوں کے احتساب دینے پر اور غریب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے پر۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں۔ کہ ہم عوام اور عدالت کے سامنے اپنے سارے اثاثے رکھ چکے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں آج تک ایسا نہیں ہوا ہے۔ تو میاں صاحب آپ کو شاید پتہ نہیں ہے کہ تاریخ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی ہے۔ یہ تاریخ ہی کا تو کام ہے۔ اپنے آپ کو بدلنا۔
JIT کے سامنے محترم وزیراعظم پہلی دفعہ پیش ہو چکے ہیں اور وہاں تین گھنٹے کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ میں ابھی JIT کے سامنے اپنا مؤقف پیش کر کے آیا ہوں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آئین اور قانون کی سربلندی کے حوالے سے آج کا دن سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
میاں صاحب! آپ بار بار یہ کہتے ہیں کہ میں اور میرا پورا خاندان پچھلے تین نسلوں کا حساب دے رہے ہیں۔ ہمارا احتساب ہر دور میں ہوا ہے۔ کبھی فوجی آمریت نے کہا ہے تو کبھی جمہوری حکمرانوں نے۔ اگر ہر دور میں آپ کو کلین چٹ مل جاتی تھی تو ہر بدلتے حکومتی ادوار آپ کا احتساب دوبارہ سے کیوں کھول کر بیٹھ جاتی ہے۔ یا تو پھر یہ فاضل عدالتوں کی نا اہلی ہے یا پھر آپ اور آپ کا خاندان ہمیشہ گردشِ دوراں میں رہتے ہیں۔
وزیراعظم صاحب! آپ حکومت میں ہیں۔ بلکہ حکومت کیا۔ حکومت تو خود آپ کے ماتحت ہے۔ اس 20 کروڑ ذہنی معذور عوام نے آپ کو تیسری بار ملک کے وزیراعظم کی کرسی کے لیے نامزد کیا ہے۔ آپ پچھلے ادوار میں وزیراعلیٰ کے منصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ آپ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ادوار حکومت میں ہمیشہ پاکستان میں سرمایہ کاری تیزی سے ہوئی ہے اور پاکستان نے ہمیشہ معاشی اور اقتصادی طور پر ترقی کی منزلیں طے کی ہیں۔ آپ اور آپ کے حامی کارکنان پاکستان کا جو نقشہ کھینچتے ہیں۔ بخدا وہ پاکستان ہم غریب عوام کو کبھی نظر نہیں آیا جس ترقی کی منزلوں کی بات آپ کرتے ہیں۔ ہمیں وہ پاکستان اُن منزلوں کی پہلی سیڑھی پر بھی قدم رکھتا نظر نہیں آیا
آپ ہی کے حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینٹ میں تحریری بیان میں بنایا تھا کہ پاکستان کا مجموعی غیر ملکی قرصہ 55 کھرب سے زائد ہے۔ جبکہ مقامی قرضوں کی مد میں 131 ارب روپے ادا کرتے ہیں۔ مناہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بیرونی قرضوں کے بوجھ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اگر قرضے لینے کا رحجان ایسے ہی رہا اور اقدامات نہ کیے گئے تو موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے تک قرضوں کا حجم خام ملکی پیداوار کے 65% تک پہنچ جائے گا۔ پاکستان اس وقت موٹروے سے لے کر اپنے تمام بڑے ریاستی اداروں کو گروی رکھ چکا ہے۔ آپ کے ان حکومتی قرضوں نے ہمارے ان بچوں کو بھی مقروض بنا دیا ہے۔ جو ابھی تک پیدا ہی نہیں ہوتے ہیں۔ اور آپ اپنی سیاسی تقاریر میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ وہ کون سا پاکستان ہے جس کی آپ بات کرتے ہیں کیا آپ کا پاکستان جاتی امراء کی حد تک ہے۔ وہاں وہ سب سہولتیں درکار ہے آپ کو اور آپ کے خاندان کو جن کی آپ بات کرتے ہیں لیکن یقین جانیے! غریب عوام کو جاتی امراء باہر سے دیکھنے کی بھی رسائی نہیں ہے۔
کسی بھی ملک میں آئین عوام کی حکمرانی کا نام ہوتا ہے۔ لیکن جب اشرافیہ اور حکومت آئین اور قانون سے بالاتر ہو تو وہاں عوام کی حکمرانی نہیں ہوا کرتی۔ وہاں آئین اور قومیں تماشا بن جاتی ہے۔ میری خدائے بزرگ و برتر سے دعا ہے کہ جس پاکستان کا نقشہ آپ کھینچتے ہیں۔ اسے ہم عوام ایک دفعہ اپنی جیتی جاگتی آنکنوں سے دیکھ سکیں اور اللہ تعالیٰ آپ کے احتساب میں بھی آسانی پیدا فرمائے اگر وہ برحق ہے تو۔ (آمین)


