پیروں کی گلاسی میں سیاست ڈوب مرتی ہے

تحقیق پارٹی بہت اچھی کرتی ہے. نتیجہ ہمیشہ الٹ نکالتی ہے۔
پیر صاحب کا پروفائل بنایا گیا تو پتہ لگا کہ پیر صاحب رات کا کھانا بھی شام کو ہی کھا لیتے ہیں۔ چھ بجے کھانا کھا کر وہ اپنے سامنے گلاسیاں رکھتے ہیں اور شروع ہو جاتے ہیں اپنا فنکشن کرنے۔ پاکستانی سیاست پیر صاحب کے گلاس میں شام کو ڈوبنے لگ جاتی ہے۔
انہی گلاسوں میں سیاست ڈوبتی ہی نہیں, تیرتی بھی ہے۔ قسمت اچھی ہو تو انہیں گلاسوں سے اٹھی لہروں پر چڑھ کر لوگ اسلام آباد میں سرکار تک سنبھالتے رہے ہیں۔ پارٹی نے جب اتنی تحقیق کر لی تو سر سنگھار صاحب نے اعلان کر دیا کہ پیر صاحب کو منانا پارٹی میں لانے کے لیے ان کا سجا کھبا ہاتھ ہی کافی ہے۔
پارٹی کپتان نے پوچھا کیوں بھئی سنگھار تم پر کیوں اعتبار کریں۔ سر سنگھار نے کہا کہ جناب مجھے وائین کا کاروبار کرتے باہر ملکوں میں چالیس سال ہو گئے۔ پیر صاحب کے شٖغل ہی ایسے ہیں کہ میرے جیسا بندہ ہی انہیں گھیر سکتا ہے۔ کپتان نے کہا جا فیر کچھ کر کے آنا۔
سر سنگھار صاحب نے ٹائم لیا اور پہنچ گئے پیر صاحب سے ملنے۔ شام سے پہلے رات کا کھانا کھایا اس کے فوری بعد پیر صاحب اپنے شغل سے لگ گئے۔ پورے تین گھنٹے پیر صاحب سر سنگھار کے ساتھ کان لڑاتے رہے۔ کوئی بحث ہوتی رہی جس کا کسی کو کوئی پتہ نہیں لگا کہ کیا ہوا۔ پاکستانی سیاست پیر صاحب کے گلاس میں ڈوب مرنے کو تیار لگ رہی تھی۔
میٹنگ کے بعد سر سنگھار کپتان کو رپورٹ دینے پہنچے۔ کپتان نے پوچھا کیا بنا تو سر سنگھار نے کہا کہ کپتان جو کہو گے بن جاوے گا۔ جیسے کہو گے پیر صاحب ویسے مان جائیں گے۔ پورے تین گھنٹے ہم نے بوتلوں شربتوں کی بات کی ہے۔ پیر صاحب نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے۔
پارٹی کو اندھا دھند طاقت پکڑتے سن کر وسی بابے سے رہا نہ گیا۔ اس نے اپنے خبری کو اٹھایا بھگایا کہ جا کر پیر صاحب سے پوچھ کر آ کہ کیا کر بیٹھے ہیں۔ پیر صاحب اپنا شغل فرما رہے تھے ہمارے بے خبر سے بہت پیار سے ملے۔ اس نے جب پوچھا کہ پیر صاحب کیا کرنے لگے ہیں۔ سر سنگھار کے ساتھ کیا بات ہوئی۔
پیر صاحب بولے کون سر سنگھار اچھا وہ دیسی انگریز۔ بھئی کل وہ آیا تھا ہمارے ساتھ تین گھنٹے وائین کی مختلف کوالٹی اس کی تاریخ پر بات کرتا رہا۔ مجھے تو صرف رم ہی پسند ہے لیکن اب پتہ تو ہر ڈرنک اور اس کی تاریخ کا ہے۔ وائین پر بات کی اور چلا گیا۔
پیر صاحب آپ ان کی پارٹی میں نہیں جا رہے آپ نے سر سنگھار سے سیاست پر کوئی بات نہیں کی۔ پیر صاحب بولے کہ چریا ہو گیا ہے کیا بھائی؟ جو بندہ چالیس سال سے وائین کا کاروبار کر رہا ہو۔ اس میں بھی اس کی اوقات اتنی ہو کہ وہ فسٹ کاپی یعنی دو نمبر ہی بیچتا ہو اس سے میں سیاست پر بات کروں گا۔
کچھ نووارد سیاستدانوں کو پاکستانی سیاست کی الف بے آتے بھی کئی صدیاں لگیں گی۔ پکی سیٹوں والے پیر سردار وڈیرے ہر طریقے سے نو آموز سیاستدانوں کو پرکھتے ہیں۔ وہ بھلے بوتلیں ہی بیچتے آئے ہوں، پیروں کی گلاسی میں ان کی سیاست ڈوب مرتی ہے۔

