سید قاسم محمود، سلیم شاہد۔ قدرت اللہ شہاب اور آمریت


یہ عجب بات ہے کہ اس ملک کے سیاسی نظام میں فوج کے کردار کی مخالفت کرنے والوں پرتو تنقید ہو، ان پر الزامات لگائے جائیں اور وہ جو فوج کو اپنے مقاصد اور کسی سیاسی رہنما سے نفرت کے باعث، سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کریں، وہ معتبر بن کر میڈیا کی آنکھ کا تارا بن جائیں۔ فوج کے سیاسی کردارکا ناقد ہی اس سے مخلص ہے کیونکہ جب جب فوج سیاسی معاملات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ دخیل ہوئی، اس کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوا، وہ سیاست سے جتنا دور رہے اتنا اس کا وقار بڑھے گا اور اسے اپنے حق میں بات کرنے کے لئے بھاڑے کے ٹٹوؤں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ فوج کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ میڈیا سے وابستہ وہ صحافی اور اینکر جن کی اپنے پروفیشن میں عزت نہیں اس کی توقیر میں اضافہ نہیں کر سکتے۔ صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں شاید اس سے نقطۂ نظر واضح ہوسکے۔ ایک نامی گرامی اینکر کے والد گرامی وینٹی لیٹر پر تھے، ایسی صورت میں عام آدمی بھی جانتا ہے کہ زندہ رہنے کی امید کس قدر موہوم ہو جاتی ہے، مگر وہ اینکر بڑے جگرے والے تھے، جائیداد کے حصول کے لیے دستاویزات پر خفیہ طور انگوٹھے لگوانے ہسپتال پہنچے اور اس عالم میں پکڑے گئے، ملک بھی پاکستان نہیں تھا کہ حکومت پر الزام لگا کر ہیرو بننے کی کوشش کرتے۔ ایسے دو نمبر لوگوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ فوج کا امیج بہتر بنائیں گے، عبث ہے۔ یہی بات حکومت پر صادق آتی ہے، وہ اگر سمجھتی ہے کہ چئیرمین پی ٹی وی کا اس کی تعریف میں گھسیٹا گیا کالم، عوام کے دلوں میں گھر کر جائے گا یا پی سی بی کا اعلیٰ عہدیدار اینکر اس کے حق میں رائے عامہ ہموار کرلے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔ حکومت، اپوزیشن اور فوج کو یہ جان لینا چاہیے کہ پراپیگنڈا سے طرف داروں کو مطمئن کیا جا سکتا ہے، ناقدین کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے البتہ سچائی ہی کارگر ہو سکتی ہے۔ ایک دیانت دارانہ رائے ہزاروں بکے ہوؤں کے افکار پر بھاری ہے۔ بھلے وقتوں میں حکمرانوں کو للکارنے والے صحافیوں کو بڑی تکریم حاصل رہی ہے۔ نثار عثمانی، حسین نقی، ضمیر نیازی اس تابندہ روایت کے استعارے ہیں۔ اب توحکومتی چمچوں کے برابر بلکہ بعض صورتوں میں ان سے بھی کرپٹ صحافی حکمرانوں کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے متوازی ایسے گروہ موجود ہیں جو صحافیوں کو خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

حکمران بھلے سے آپ کو ایک آنکھ نہ بھاتے ہوں لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ ان سے نجات کے لیے غیرجمہوری قوتوں کی طرف دیکھا جائے اور ایسے دانشوروں کی بات کان لگا کرسنی جائے جو 2008 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پرایم این اے منتخب ہوئے ہوں، 2013 میں پھرسے اس پارٹی کے ٹکٹ کی درخواست دیں اور منظورنہ ہونے پرسیاسی نظام پرملامت شروع کردیں اورکبھی طاہر القادری کی صورت میں انھیں مسیحا نظر آئے، کبھی دھرنے سے تبدیلی کی امید وابستہ کرلیں، کبھی راحیل شریف کو ریٹائرمنٹ کے بعد پیوٹن کے روپ میں دیکھنے لگیں۔ جمہوری نظام پرتنقید کرنے والے ایک طرف وہ ہیں جو صدق دل سے نظام میں بہتری چاہتے ہیں، دوسرے ان لوگوں کا گروہ ہیں جنھوں نے کسی کے اشارے پرجمہوری نظام پرخود کش حملہ کررکھا ہے، اس کہے اور لکھے کو تائید مل بھی جائے تو توقیر مل نہیں سکتی، اس لیے کرپشن سے نفرت کا مصنوعی سا اظہار کرکے اپنے عمل کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ یہ صاحبان نظام کے تسلسل اوراسے تہہ وبالا کردینے کی مخالفت کرنے کو بھی حکومتی حمایت کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اور خود کرپشن کا نام برت کر ہر الٹی سیدھی بات کرتے ہیں۔ حکومت کے خوشامدی تو ننگ صحافت ہیں ہی لیکن کسی کے ایما پر حکومت پرجھوٹے الزامات لگانے والوں کے ٹولے کو بھی فخر صحافت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ صحافی کو شخصیات یا گروہوں کی بجائے صداقت کو عزیزجاننا چاہیے کہ یہی اس کے منصب کا تقاضا ہے۔

یہ ساری تمہید اس لیے اٹھائی کہ فوجی حکمرانی کے بارے میں دو ایسی ہستیوں کی رائے سامنے لانا مقصود ہے، جن کی ذاتی زندگی مانند سحر بے داغ ہے۔ پہلا نام سید قاسم محمود کا ہے جنھوں نے تن تنہا اداروں جتنا کام کیا جس کی مثال انسائیکلوپیڈیا اسلام اور انسائیکلو پیڈیا پاکستان ہیں۔ان کے علاوہ بھی بے شمار علمی کام ہے۔۔ 85برس کی عمر میں بھی سولہ گھنٹے روزانہ کام کرتے۔ جون ایلیا نے لکھا تھا :’’ میں سید قاسم محمود سے ملتا ہوں۔ یہ جوان دانش کے جس گھاٹ پر پہنچا وہاں سے اپنی پیاس بجھائے بن نہ ٹلا اور بینش کے جس بھاٹ پر گیا اس پر دور تک چلا۔ یہ نمکین سید اس بات پر بہت بدمزہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر ادیب اور شاعر سچ کے اشتہاری اور جھوٹ کے بیوپاری ہیں اور یہ ہمارا سب سے بڑا گھاٹا ہے۔‘‘ سید قاسم محمود کے اس سرسری سے تعارف کے بعد اب ہم بڑھتے ہیں، حلقہ ارباب ذوق کے پینسٹھ ویں اجلاس کے اس خطبہ صدارت کی طرف جس میں ان کی طرف سے آمریت سے تنفر کا اظہار، ان لفظوں میں سامنے آیا :

’’ 1977میں جب ہماری فوج کے سپہ سالار اعظم جنرل محمد ضیاء الحق نے اللہ واحد کا نام لے کر چودہ کروڑ پاکستانیوں کی گردن پر تلوار رکھی، تو میں نے بھی اسی اللہ واحد کا نام لے کر اپنا قلم اس کی تلوار کے خلاف کھول دیا۔ تلوار اور قلم کے درمیان گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔ آج کی طرح اس وقت بھی ایک پاکستانی کی حیثیت سے میرا ایمان تھا کہ اس مملکت خداداد کا ایک ہی دشمن ہے، وہ ہے فوجی حکومت اور اس کا اقتدار۔ میں نے اس واحد نکتے کو مرکز جان کر اپنی پوری صلاحیت، طاقت اور وسائل جھونک دیے۔ اس راہ پر میرے دوست ستار طاہر مرحوم نے میرا ہاتھ بٹانے میں حق ادا کیا۔ فوجی حکمران جس طرح کی سختیاں کرتے ہیں مثلاً جھوٹے مقدمے تھانوں میں درج کرانا، گرفتار کرنا، حراست میں رکھنا، ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا، جسمانی سزائیں دینا، میں سب کچھ سہتا رہا۔‘‘

سید قاسم محمودکی تقریر کا اقتباس ختم ہوا، ہماری بات مگر جاری ہے۔ اب ہمیں ذکر کرنا ہے ایک درویش صفت شاعر کا۔ حلقۂ ارباب ذوق سے جن کا گہرا ناتا تھا۔ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود آمریت سے لڑتے رہے۔ سنیئر صحافی اسلم ملک کے بقول: سلیم شاہد پاک ٹی ہاؤس میں مستقل آنے والوں میں سے ایک تھے۔ عمدہ شاعر تو تھے ہی، سرکاری (سٹیٹ بنک کے) ملازم ہونے کے باوجود آمریت کے خلاف سرگرم کردار ادا کیا۔ مارشل لا حکومت کے خلاف تمام خبریں، افواہیں، دروازے کے ساتھ والی میز پر ان سے ملتیں، جہاں ان کے ساتھ یونس ادیب، الطاف قریشی، راجا کلیم اللہ، ندرت الطاف، یونس جاوید بھی بیٹھتے تھے۔ میں اور اس زمانے کے دوسرے نوجوان بھی وہیں آ بیٹھتے۔ بھٹو کے قتل پر شاعروں کے کلام کا مجموعہ ’’ خوشبو کی شہادت ‘‘ سلیم شاہد نے ہی شائع کیا تھا۔ سلیم شاہد سالہا سال یومِ مئی کی دوپہر پاک ٹی ہاؤس میں قلم مزدوروں کے اجتماع کا اہتمام کرتے رہے۔‘‘

ڈاکٹر آفتاب احمد سے فیض احمد فیض نے سلیم شاہد کا یہ شعر سنا تو پھڑک اٹھے:

باہر جو میں نکلوں تو برہنہ نظر آؤں

بیٹھا ہوں میں گھر میں در و دیوار پہن کر

انتظار حسین کے بقول’’ یہ اپنے مرحوم شاعر سلیم شاہد کا شعر ہے، اپنے سلیم شاہد تو ہمارے لیے گھر کی مرغی تھے۔ اصل میں ٹی ہاؤس کا جو بھی پنچھی تھا اسے ہم گھر کی مرغی سمجھتے تھے اور گھر کی مرغی دال برابر۔ مگر جب اس کے ایک شعر کی خوشبو ٹی ہاؤس سے پھوٹ نکلی اور شہر میں پھیلنے لگی تو ہم چونکے۔ اصل میں ہمارے ایک بہت سمجھدار نقاد آفتاب احمد خان نے کہیں یہ شعر سن لیا، شعر سن کر وہ پھڑک گئے اور سیدھے پہنچے فیض صاحب کے پاس۔ انہیں سنایا، فیض صاحب بھی کچھ چونکے ’’بھائی یہ کس کا شعر ہے۔‘‘

’’کوئی سلیم شاہد ہے‘‘ انہوں نے جواب دیا۔

پھر انہیں کچھ سن گن ملی کہ یہ ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والا ایک شاعر ہے۔ تب انہوں نے ہمیں فون کیا کہ ’’ارے بھائی یہ سلیم شاہد کون ہے؟‘‘

ہم نے کہا کہ ’’یہ ہمارے ٹی ہاؤس کے آسمان کا ایک ستارہ ہے۔ کیوں خیر تو ہے۔‘‘

’’ارے اس کے ایک شعر نے ہمیں لوٹ لیا اور فیض صاحب بھی یہ شعر سن کر دنگ رہ گئے۔‘‘

آمریت دشمنی سلیم شاہد کی گھٹی میں تھی۔ ’’زر رہگزر‘‘ کے عنوان سے اپنا کلیات مرتب کیا تو پیش لفظ میں اس ملک میں جھیلے عذابوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ آمریت کی مذمت کرنا نہ بھولے گو کہ اس تحریر میں وہ جمہوریت کے نام لیواؤں سے بھی خوش نظر نہیں آتے۔ سلیم شاہد نے لکھا :

’’ ہم نے یہ ملک بنتے دیکھا اور پھر اس کو دولخت ہوتے دیکھا، بہت ساری آمریتیں اور جمہوریتیں دیکھی۔ عجائبات صنعت و سائنس کا دیدار عام رہا، تقسیم زر کے ہولناک منظر آنکھوں سے گزرتے رہے۔ ریاستی اور غیر ریاستی تشدد کے الم ناک سانحے برداشت کئے، میرے اس پانچویں موسم میں بہت زیادہ حبس ہے، تمام عمر بوجھل سانسوں کے ساتھ جیے تاہم مرنے کی خواہش اب بھی نہیں ہے۔ ہمیشہ آگ اور خون کے طوفانوں سے گزرتے رہے۔ ایک آگ کا سمندر آیا تو یہ سوچ کر پار کیا کہ آگے ایک شہر عافیت ہوگا مگر شہر عافیت نہ آیا دشت بلا آ گیا۔‘‘

سلیم شاہد کی داستان عہد غم پڑھ لی آپ نے۔سب کلفتوں کے باوجود وہ اس نتیجے پر پہنچے:

’’ مارشل لاؤں والے تو میرے لیے ہمیشہ قابل نفرین ہیں ان کے خلاف میری نفرت مسلّم اور اٹل ہے مگر یہ جمہوریت والے بھی کم برے نہیں، بالکل منافق اور مفاد پرست۔ تاہم اب بھی میں جمہوریت کو آمریت پر فوقیت دیتا ہوں۔‘‘

سید قاسم محمود اور سلیم شاہد کی بات جن کے دل کو نہ لگے اور وہ انھیں دوکوڑی کا شاعرادیب جان کرآگے بڑھ جائیں تو ان کو چاہیے کہ پاکستانی تاریخ کے ایک بڑے سیانے قدرت اللہ شہاب کی بات ہی مان لیں۔ 1969میں جب وہ یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کے ممبر تھے، ان کا مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے اچھا خاصا ربط ضبط ہوگیا۔ وہ صاحب اپنے ملک میں کلیدی عہدوں پر رہے تھے، انھوں نے قدرت اللہ شہاب کو ایک دن بتایا کہ عالمی طاقتیں اور ہندوستان پاکستانی فوج سے خائف ہیں اور وہ اسے کمزور کرنا چاہتی ہیں، اس مقصد کے لیے سب ایک ہیں۔

شہاب صاحب نے پوچھا کہ وہ یہ مشترکہ نصب العین کیسے حاصل کرسکتے ہیں، تو وہ صاحب بولے:

’’ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ ہر کوئی اپنا اپنا طریق کار وضع کرنے میں آزاد ہے۔ بدی اور شر کوبروئے کار لانے کے لیے ہزاروں راستے کھل جاتے ہیں۔ تیسری دنیا کے چھوٹے ممالک میں ایک طریقہ جو نمایاں کامیابی سے آزمایا جارہا ہے یہ ہے کہ وہاں کی مسلح افواج کو طویل سے طویل تر عرصہ کے لیے سول حکومت کے امور میں الجھائے رکھا جائے۔‘‘

Facebook Comments HS