مہر النسا وِی لَب یو

پھر وہ زمانہ کہ کسی کام سے باری اسٹوڈیوز، شاہ نور، ایورنیو اسٹوڈیوزجانا ہوتا تو کام نپٹاتے ہی وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا۔ ایسے میں مجھے وہ دور ضرور یاد آتا، جب میں محمد بخش کے ساتھ شاہ نور اسٹوڈیوز کے باہر کھڑا تھا، دربان نے اندر جانے کی اجازت نہ دی تھی، محمد بخش مجھ کو گھر چلنے کا کہتا تو میں ٹھہرنے کے لیے منت کرتا۔
ہم ٹیلی ویژن کے لیے کام کرتے ہوئے فلم ہی کو سوچا کرتے۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے شوبز میں آنے والے ہر شخص کا خواب فلم ہی تھا۔ آج شوبز کا ہر شخص نہیں تو اکثر تو ضرور فلم ہی کا سوچتے ہیں۔ مجھ جیسوں کو یقین تھا کہ پاکستان میں فلم سازی کے دور کا دوبارہ احیا ہوا، تو اس کے پیچھے ٹیلی ویژن کے لیے کام کرنے والوں ہی کا ہاتھ ہوگا۔ پاکستان فلم انڈسٹری ابھی بنی نہیں، لیکن اس کے احیا کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ پچھلے دو چار سالوں میں جو کوششیں ہوئیں انہیں دیکھ کے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستانی فلم، ہندوستانی فلم کا مقابلہ کرتی ہے، یا مستقبل قریب میں اس کی جگہ لے سکے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے، کہ یہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی۔ ابھی جو فلمیں بن رہی ہیں، ان پر ٹیلی ویژن ڈراموں کی چھاپ ہے۔ اس لیے بھی کہ چھوٹی اسکرین کے لیے کام کرنے والوں کی تربیت چھوٹی اسکرین کی مناسبت سے ہوئی ہے۔ آہستہ آہستہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا جا رہا ہے۔
آج ہم جب فلم کی بات کرتے ہیں تو ہمارا دھیان کراچی میں بننے والی فلموں کی طرف جاتا ہے۔ حالاںکہ راول پنڈی اسلام آباد اور لاہور میں بھی اپنی مدد آپ کے تحت کچھ فلمیں بنائی جاری ہیں۔ اپنی مدد آپ اس لیے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری نام ہی کی انڈسٹری رہی ہے۔ یہ ایسی انڈسٹری تھی جس پہ پاکستانی سرکار نے بھاری ٹیکس ضرور لگائے معمولی اقدام کا ذکر ہی کیا، لیکن اس انڈسٹری کے لیے کوئی ایسا نمایاں قدم نہیں اٹھایا گیا، جو انڈسٹری چلانے یا بچانے کے لیے کیا جانا چاہیے تھا۔ آج کراچی میں بننے والی فلموں کا چرچا اس لیے بھی ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے ٹیلی ویژن چینل ہیں۔ یہاں بننے والی فلم کو کوئی نہ کوئی چینل خرید رہا ہے یا اسپانسر کرتا ہے۔ تشہیری مہم کا اہتمام کیا جاتا ہے؛ پریس شو ہوتے ہیں، پریس کانفرنس ہوتی ہے، فلم کے بارے میں ٹیلی ویژن چینل پر خبریں چلائی جاتی ہیں۔

کوئی فلم کیسی بھی ہو، باکس آفس پہ اس کی کام یابی کا فیصلہ شائقین ہی کرتے ہیں۔ فلم ساز اور ہدایت کار یاسر نواز کی اپنی فلم "مہر النسا وِی لب یو” سے بہت سے امیدیں وابستہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ فلم تو میں بنا چکا، اس عید پر یہ ریلیز ہو رہی ہے، لہٰذا اب پبلک جانے اور فلم، میری ساری توجہ اپنی اگلی فلم "چکر” پہ ہے، جو ستمبر میں سیٹ پر چلی جائے گی۔
پاکستانی فلم شائقین کو چاہیے کہ وہ نہ صرف "مہر النسا وَی لِب یو” کو سینما ہال میں جا کے دیکھیں، بلکہ تمام پاکستانی فلموں کو توجہ دیں۔ شوبز انڈسٹری کے ہنر مندوں کے پاس دو ہی راستے ہیں، ایک تو یہ کہ ہندوستانی سینما کا رخ کریں جہاں فلم کا ماحول سازگار ہے، دوسرا یہ کہ اپنی ہی فلم کو بہتر سے بہترین تک لے جائیں۔ جیسے ہم شہری اپنے ماحول پر کڑھتے ہیں کچھ یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں، کیوںکہ سب کے لیے ممکن نہیں کہ وہ کہیں اور جا سکیں، اس لیے انہیں یہیں رہ کے حالات کی بہتری کی کوشش کرنا ہے۔ ایسا ہی ہماری شوبز انڈسٹری کا احوال ہے، ہر اداکار، گلوکار یا ہنرمند کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ہندوستان یا ہالی ووڈ میں جا کے کام کرے۔ انہیں یہیں رہ کے اچھی فلم بنانے کی جستجو کرنا ہے اور فلم انڈسٹری کا وہ ماحول بنانا ہے، جس میں وہ راحت سے کام کر سکیں۔ یہ ایک دو روز میں ہوگا نہیں، یقیناً اس میں وقت لگے گا؛ امید ہے ایک نہ ایک دن یہ انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی۔

