اسد محمد خاں سے باتیں (دوسری قسط)

اسد محمد خاں: ہمارے دادا کی ٹھیک ٹھاک جاگیر تھی لیکن وہ دربار کے پروٹوکول کے قائل نہیں تھے۔ ان سے کچھ غلطی ہو گئی اور اس کے بعد ان سے جاگیر واپس لے لی گئی اور وہ پھر سے کسان ہو گئے ،ٹھیکے پر کاشت کاری کرتے تھے، ان کو اٹھارہ برس کی عمر میں جاگیر ملی تھی جو واپس لے لی گئی۔ پھر انہوں نے بٹیا( سرائیکی لفظ مستاجری اس لفظ کے مفہوم سے قریب تر ہے۔ راقم ) پر زمین کاشت کرنا شروع کر دی کیونکہ ریاست نے تین نسلوں کے بعد ان سے زمین واپس لے لی تھی۔ انہوں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ہم دیکھتے تھے کہ وہ کسانوں کی طرح سخت محنت سے کام کرتے تھے۔ وہ بہت ہی فعال شخص آدمی تھے اور حقیقی معنوں میں کسان تھے۔ کسانوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ ا ن کی باتیں سنتے تھے۔ ایک خاص بات ہم نے نوٹ کی بھوپال میں بھی، اور وہاں زمینوں پر بھی۔ زمینوں پر تو ہم زیادہ نہیں گئے کیونکہ ہم بہت چھوٹے تھے۔ لیکن زمینوں پروہاں ، کسان سارے بیٹھتے تھے فرش پر ،داداکے کسان فرش پر نہیں بیٹھتے تھے۔ سٹول، بینچ وغیرہ انہوں نے رکھے ہوئے تھے ۔اگر کوئی نیا آدمی آتا تھا اور نیچے بیٹھنے کی کوشش کرتا تھا تو وہ اسے ڈانٹ کے کہتے تھے کہ جا چلا جا یہاں سے۔ پھر لوگ اسے سمجھاتے تھے کہ انہیں برا لگتا ہے تم نیچے نہ بیٹھو، یہاں بیٹھ جاؤ جہاں سب بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ ان کا مزاج تھا۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ پورا ماحول وہاں جاگیرداروں کا تھا اور جاگیرداروں کے ہاں جو ہوتا ہے، مجرے وغیرہ ،میرے دادا کے ہاں ایسا کوئی تماشا نہیں ہوتا تھا۔ فارسی کی کتابیں تھیں ان کے پاس جس میں سے وہ صوفیاکا کلام پڑھتے رہتے تھے اور انہوں نے اپنی ساری زندگی ایک کسان کی طرح گزاری جتنی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔یہ ہم میں بھی آیا اور والد جو تھے وہ کانگرسی تھے، اور ہندوستان چھوڑ دو (کوئٹ انڈیا )تحریک میں کافی سرگرم رہے تھے اور ایسا بھی ہوا کہ ایک مرتبہ نوکری بھی خطرے میں پڑ گئی تھی حالانکہ اس زمانے میں ابھی نئی نئی ان کی تقرری ہوئی تھی لیکن ریاست تھی اس لیے لوگوں نے کچھ زیادہ ان کے ساتھ نہیں کیا۔ تو یہ بات کہ اپنی بات کہنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے، اُنہیں سے سیکھی۔ اگر آپ کے ہاں کچھ گڑبڑ ہو رہی ہے اور آپ کے ملک پر کوئی قابض ہے تو اس کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ بعد میں وہ مسلم لیگی ہو گئے تھے، وہاں کے مراٹھوں کے رویے سے۔ کیونکہ ریاست گوالیار بھی مراٹھوں کی ریاست تھی۔ وہاں شدت پسندی جناح صاحب نے بھی محسوس کی تھی جس پر خود گاندھی پریشان تھے کہ کیا کیا جائے۔ ان شدت پسند لوگوں ہی نے پاکستان بنوایا۔ اس طرح ہماری تربیت ہوئی۔

اسد محمد خاں: ساقی سے میری برہمی چند برس رہی اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جو خودنوشت اپنی لکھی ہے وہ انہوں نے کہا تھا کہ تم اس کی پروف ریڈنگ کرو اور اس کے بارے میں جو تم کہو گے میں وہی کروں گا۔ تو میں نے اس سے کہا کہ پروف ریڈنگ میں نے کر لی ہے ، اس کی نگرانی بھی کر لی ہے ۔ یہ سب ٹھیک ہے۔ 18 صفحات فلاں صفحے سے لے کر فلاں صفحے تک یہ آپ نکال دیجئے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس میں جو باتیں بیان کی گئی تھیں وہ مناسب نہیں تھیں۔ نام تو چھپائے تھے انہوں نے ، لیکن وہ لوگ فوت ہو چکے ہیں۔ساقی وہ آدمی ہے کہ جس نے میری پہلی نظمیں سنیں اور اس نے کہا کہ تمہارے ہاں نظم کا جو شعور ہے وہ کمال ہے ، تو اس نے کہا کہ تین دن کے بعد ہم پھر ملیں گے اسی ہوٹل میں اور اگر مزید کوئی نظم نہیں آئی تو میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ یہ اس کی محبت کا ایک انداز تھا، جھگڑے وہ کرتا رہتا تھا۔ وہ واحد آدمی ہے جس نے کہا کہ تم شروع کرو۔ پہلی نظمیں جب میں نے اس کو سنائیں تو وہ تو کھل اٹھا اور اس نے کہا ارے بسم اللہ بہت ہی کمال بات ہے یہ۔ اور وہ نظم پھر چھاپی بنگلور کے ایک بہت ہی بڑے ادبی پرچے نے۔ جس کا دفتر ایک نو منزلہ بلڈنگ میں تھا۔ جس پر اس نے ریڈیو پر دھوم مچا دی کہ جاؤ ڈھونڈ کے لاؤ ایسی نظمیں کہنے والا اور لفظوں کو برتنے والا لاؤ دوسرا، اور باقاعدہ جھگڑا کیا اس بات پر لوگوں سے۔ میں نے اسے کہا کہ یہ تو کیا کر رہا ہے تو کہنے لگا کہ فلاں صاحب نے تمہاری نظموں پر اعتراض کیا تھا تو میں اس کی طبیعت صاف کرنے گیا تھا۔ شدت تو اس کے ہاں تب بھی موجود تھی اور محبت بھی وہ کرتا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اس سے تعلقات اس لیے منقطع کر دیے کہ وہ خط لکھتے وقت ابے تبے جیسے الفاظ استعمال کرتا تھا۔ شمس الرحمن نے کہا تھا کہ آپ خط نہ لکھا کریں تو اس نے کہا کہ میں تو لکھتا رہوں گا، آپ اس کو ایک نظر دیکھ کر کاٹ دیا کریں۔ یہ سب تماشے کرتا رہتا تھا۔ میں نے بھی اس کو دھمکیاں دیں اور اس کا واحد خط جو میں نے چھپنے کو دیا تھا گلزار صاحب نکالتے ہیں راولپنڈی سے ایک پرچہ ، گلزار صاحب نے اس پرچے میں جس کا میں نام بھول رہا ہوں بہت لمبا انٹرویو چھاپا تھا۔ سب کے انٹرویوز آئے ہیں اس میں ۔ تو اس میں وہ خط چھاپا اور تقریباً26 ٗ 27 شخصیات کے چھپے ، اسد الرحمن سے لے کر نیئر مسعود تک۔ تو ساقی کا خط بھی انہوں نے چھاپا۔میری دھمکیوں کے بعد اس نے خط میں ایسی زبان لکھنا چھوڑ دی۔ تو یہ جو کرائسِس پیدا ہوا وہ ان اٹھارہ صفحوں کا تھا جو میں نے کہا تھا کہ یہ نکال دو گے تو ٹھیک رہے گا جو اس نے نہیں نکالے اور مبین مرزا کو اس نے دھمکیاں دیں اور کہا کہ یہ پراجیکٹ میں ختم کر دوں گا کیونکہ رائٹر تو میں ہوں۔ تو اسد کو میں منا لوں گاان صفحات کے لیے۔ کئی برس ہو گئے ، تقریباً آٹھ برس میں نے اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔ ظاہر ہے کہ اس کی جو بہنیں تھیں وہ میری بھی بہنیں ہیں ۔ ان کی بہن نے کہا کہ قاضی سعید صاحب بیمار ہیں، بھائی فلاں دن ان کے ہاں جائیں گے ، آپ بھی اس دن وہاں آجائیں، تو میں نے اس سے کہا کہ بیٹا ان کی وکالت مت کرو۔ وہ کہنے لگیں کہ میں کروں گی کیونکہ میں بہن ہوں۔ اور آپ کو بھی کرنی چاہیے ان کی وکالت، غصہ چھوڑ دیجئے۔ میں نے کہا کہ اچھا چھوڑ دیا چلو جاؤ بس ختم کرو۔اس کو میں نے تسلی دی اور وہ خوش ہو گئی۔ لیکن بات بنی نہیں۔ بات خود ہی ایسے بنی کہ مبین نے مجھ سے کہا ساقی بیمار ہے ، اور ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ وہ خودکشی کرنا چاہتا ہے بلکہ اس نے بھی یہ کہا ہے کہ وہ خودکشی کر لے گا۔ میں نے کہا کہ وہ کہتا ہے لیکن کرے گا نہیں۔ انشاء اللہ وہ فطری موت مرے گا جب بھی اس نے مرنا ہے پچاس، ساٹھ ، ستر سال کے بعد۔ پھر مجھے خیال آیا کہ غصے کی ایک حد ہوتی ہے میں 80 کراس کر چکا ہوں۔ ساقی مجھ سے تین چار سال چھوٹا ہے۔ اب وہ 80 کی طرف آرہا ہے۔ تین سال میں ہو جائے گا 80 کا۔ اگرچہ وہ شراب نہیں چھوڑ رہا ، سموکنگ چھوڑ دی ہے اس نے۔ تو پھر میں نے اس سے کہا اب یہ دو مضامین ہیں ساقی کے سلسلے کے یہ تم چھاپو ، مبین سے میں نے کہا۔ وہ چھاپ رہے ہیں ۔اس کی کتاب پر میں نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں اس کی ڈکٹیٹرانہ محبت، چاہت جو وہ کرتا ہے دوستوں سے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ اب جورسالہ آئے گا یہ سب اس میں چھپے گا۔ فراز صاحب سے بہت ناراض تھا ایک زمانے میں ، اس پر میں نے اس سے کہاکہ فراز صاحب کی ایک ڈومین الگ ہے اور تمہارا طریقہ کار الگ ہے ، تم الجھن کیوں محسوس کر رہے ہو، وہ کہنے لگا کہ یہ نظم یا اردو نظم کے ٹھیکیدار نہیں ہیں۔ یہ کوئی سپریم کورٹ نہیں ہے کہ جہاں جو آپ بولیں وہی ہو گا۔ تو آپ یہ چھوڑیے محبت کرنے والے ہندوستان، پاکستان اور برطانیہ اور پوری دنیا میں بہت ہیں ۔ آپ کو شوق سے وہ پڑھتے ہیں یہ آپ چھوڑیں۔ یہ اچھا نہیں لگتا۔ فراز کا اپنا کنٹری بیوشن ہے اس کا نہ کوئی مٹا سکتا ہے ۔ اور فراز میں اب بہت تبدیلی آگئی تھی آخری دنوں میں۔ اب ان میں ایک وضع داری تھی ۔

اسد محمد خاں: صاحب نیئر مسعود میرے استاد ہیں۔ انہیں ایک روحانی استاد کہوں گا میں۔ ان کا اپنا ایک سٹائل ہے اور میں نے شایدچند ماہ پہلے اس سے لکھنا شروع کیا تھا۔ ان کی چھ آٹھ کہانیوں کو ، نہ صرف اردو کی بلکہ عالمی ادب کی بڑی کہانیوں میں شمار کرتا ہوں۔ اور وہ کرافٹ جس طرح کا کرتے ہیں تو میں نے خط انہیں جو لکھے ہیں بے شمار، تو ان کا جواب اجمل(کمال) کو انہوں نے پکڑایا تھا وہ اجمل نے سنبھال کے رکھا ہے شاید کہیں چھپوایا بھی ہے یا نہیں ۔ نیئرصاحب نے کہا ۔ یہ کون صاحب ہیں میں تو ان کا فین ہوں ، اور یہ باتیں جو ہیں، یہ اگر اسد صاحب کر رہے ہیں تو نیئر مسعود کوئی اور شخص ہوں گے جن کی یہ تعریف کر رہے ہیں۔ تومیں بہت حیران ہو ں کہ اس طرح کی محبت کی باتیں انہوں نے کی تھیں۔ کہنے لگے کہ اصل میں تو میں ان کا فین ہوں یہ تو بعد کی خبر ہے وہ میرے فین ہو گئے۔ تو میں طے شدہ طور پر ان کو اردو کا اہم افسانہ نگار سمجھتا ہوں۔
سوال: وہ جو چھ سات افسانے تھے ، ان میں سے کسی ایک آدھ کے نام اگر آپ کے ذہن میں ہوں؟
اسد محمد خاں: میری یادداشت کمزور ہے ، میں بعد میں آ پ کو فون پر بتا دوں گا۔ اجمل نے جو چھاپے ہیں افسانے ان میں سے کم از کم چھ سات افسانے ایسے ہیں کہ وہ اردو کی آبرو ہیں۔
سوال: انہوں نے کافکا کا بھی ترجمہ کیا، اس میں وہ اثر نہیں تھا، متاثر نہیں کر سکے اس میں ، کیا کہیے گا؟

سوال : یہ فرمائیے گا کہ سب رنگ اور دوسرے رسالوں کے لیے آپ نے جو کچھ لکھا، اس میں کچھ فرق تھا؟
اسد محمد خاں: میں نے سب رنگ اور دوسرے رسالوں کے لیے جو کام کیا ۔ سب رنگ کا مسئلہ تو بالکل الگ تھا کہ جون (ایلیا) کے دوست ہیں بھائی شکیل۔ اور اطہر نفیس لے گئے تھے مجھے کہ بھائی شکیل کے ہاں تم چلو اور سب رنگ کے لیے لکھنا شروع کرو۔ سب رنگ کے لیے میں نے دوسرے یعنی کمرشل رائٹنگ کے مقابلے میں بہت الگ ہو کر لکھا ۔ اس لیے کہ بھائی شکیل کہانی کو سمجھتے بھی ہیں اور خاص طور پر ادب میں اس شعبے کو وہ بڑے اچھے سمجھنے والے ہیں۔ تو مجھے ان کے ہاں لکھ کر مزہ آیا لیکن سب رنگ کی چیزوں کو۔ جیسے کہ اور رسالوں کے لیے بھی میں نے لکھا۔تو اُن کہانیوں میں سے اپنے مطلب کا حصہ لے کر میں نے اس کونئی کہانی میں ڈھال دیا۔ فرض کیا ایک پیراگراف میں نے وہاں سے لیا اور اس کی ایک کہانی بنا لی۔ تو وہ اپنی جگہ پر ہے وہ ایک ایسے قاری کے لیے لکھا ہوا تھا جس کو ہم ایک خاص سطح تک لا سکتے تھے(سب رنگ کا قاری) اور اپنی اس دنیا میں لے جا سکتے تھے کہ جہاں سے دلوں اور دماغوں کو روشن کرنے والے فکشن شروع ہوتی ہے۔ عام رسالوں میں ایک سادہ بیانیے کے ساتھ ایک عام کہانی پسند کرنے والے قاری کے لیے میں نے لکھا۔زیادہ میں اس میں علامتوں میں تو گیا ہی نہیں اور ایک آسان بیانیہ کے ساتھ میں نے وہ کہانیاں لکھیں جس میں اندرون کا احوال تو تھا لیکن بہت زیادہ دو تین پرت جو ایک کہانی میں رکھتا ہوں میں ، وہ نہ تھا۔ مثلاً، سیلو ن ، میری ایک کہانی ہے جس میں بظاہر یہ لگتا ہے کہ ایک لڑکا ہے جس کی پرورش ہوئی ہے کوٹھے پر اور وہاں وہ ایک لکڑی کی ٹال کے مالک جو استاد ہدایت اللہ بہاولپوری کے نام سے مشہور ہیں اور ان کے مسائل دیکھتا ہے کہ وہ کسی گانے بجانے والی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ دیکھ لیتے ہیں تو وہ گالیاں دیتے ہیں۔ اور پھر ایک روحانی ٹرانسفرمیشن ان میں آئی ۔یعنی ایک عجیب بات ہے کہ ان کا مرشد جو ہے وہ نوجوان آدمی ہے اور وہ ایک سیلون چلاتا ہے ہیئر کٹنگ سیلون۔ اور جو ان سے فیض پانا چاہتے ہیں وہ کٹنگ سیکھ کر ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور پھر فیض حاصل کر کے ان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ اور وہ صاحب سیلون کوٹھوں کے محلے میں یعنی گانے بجانے والیوں کے محلے میں کھولتے ہیں اور جاتے آتے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں ۔ جو وہاں سے شب بسری کے بعد واپس آر ہا ہو تا ہے اس کو وہ مل مل کے نہلاتے ہیں ۔ ایک عجیب طرح کا۔ اور اندر کی
سوال: انوکھا لاڈلا۔ اس کے پیچھے کیا وارداتِ قلبی تھی۔ بندش تو وہ بہت پرانی تھی؟
اسد محمد خاں: انوکھا لاڈلا میں ، میں نے جو اس کی آٹھویں قسط ہے ، ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی کی، میں لکھتا ہوں۔اس میں سب ہوتے ہیں 
انہوں نے تو ایک مصرع بدلا ۔ مہدی حسن نے تو پورا شعر ڈال دیا تھا فرازصاحب کی غزل میں ۔ٹینا اچھی پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ ٹینا جب تم دوبارہ ریکارڈنگ کراؤ تو اس کو ٹھیک کر لینا۔ دل بولے رکھ لوں نینن میں ، کیونکہ میں جو ہے وہ تو ایک طرح سے ردیف ہے اور اسی طرح چل رہا ہے ۔ میں نے اس کو بتایا کہ درشن ایک پورا عمل ہے ، درشن سے ، صرف ایک دفعہ دیکھنے سے نہیں ہے یہ۔ ایک درشن میں ، ایک درپن میں ، اس کیفیت میں دل کچھ کہہ رہا ہے۔ یعنی کہ یہ ٹائم فیکٹر بگڑ گیا اس سے مصرعے کا۔ سمجھ گئی وہ اور کہا کہ میں سمجھ گئی ہوں۔ لیکن بہرحال ان کی ریکارڈنگ اسی طرح ہے تبدیل نہیں کی۔ اگر کبھی دوبارہ ریکارڈنگ ہوئی ہو تو کیا پتہ انہوں نے بدل دیا ہو۔ کیا پتہ ہے ۔یہ گرامو فون کمپنی والے جب ایک دفعہ ریکارڈنگ کر لیتے ہیں کیونکہ اس وقت گانے والا ایک پراسیس میں ہوتا ہے ، اور اس وقت ریکارڈنگ میں کمپنی کا کافی پیسہ انویسٹ ہوتا ہے تووہ کہتے تو ہیں کہ ہا ں جی کر لیں گے لیکن کرتے نہیں ہیں ریکارڈ ۔ ابھی تک تو مجھے یہی معلوم ہے۔

