کیا دہشت گردی سے احتجاج کے ذریعے نمٹا جا سکتا ہے؟


داعش جب عراق شام میں زور پکڑ رہی تھی تو پاکستان میں ٹی ٹی پی اپنی طاقت کھو رہی تھی۔ ٹی ٹی پی پہلے بھی شدت پسند گروہوں کا ایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد تھا۔ حکیم اللہ محسود کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد اس تنظیم کا مرکزی انتطام بکھر کر رہ گیا۔

مختلف شدت پسند گروہوں نے اپنے ذاتی ناموں اور تنظیموں کے ناموں میں خراسانی لفظ کا اضافہ کیا۔ یہ گروہ ایسا کر کے داعش کی توجہ حاصل کرنا چاہ رہے تھے۔ داعش نے بیعت کے لیے تیار بہت سے اہم پاکستانی شدت پسند گروپوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے چند کم اہم کمانڈروں کو اپنی تنظیم میں شامل کر لیا۔

داعش کے ساتھ جا ملنے والے ان شدت پسندوں میں ایک بات مشترک تھی کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق کرم اور اورکزئی ایجنسی سے تھا۔ فاٹا کی ان دونوں ایجنسیوں میں اہل تشیع بڑی تعداد میں آباد ہیں۔

داعش کے پاکستان میں اتحادیوں کو دیکھ کر ہی واضح ہو رہا تھا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشتگردی اور فساد بڑھانا ہی اس تنظیم کا اصل مقصد ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ فرقہ وارانہ مارا ماری کی ہم ایک لمبی تاریخ رکھتے ہیں۔ مذہبی اختلافات تو اپنی جگہ پر موجود ہی ہیں۔ ان مذہبی اختلافات کے ساتھ ہی ہمیں اب زندہ رہنا ہے۔ برا یہ ہوا ہے کہ دو طرفہ فرقہ وارانہ مارا ماری جو جھنگ میں سپاہ صحابہ کے قیام کے بعد زور پکڑ گئی، وہ اب دشمنی کی شکل میں ڈھل چکی ہے۔

سپاہ صحابہ تو اپنے موقف میں تبدیلی لاتی پر امن سیاسی جدوجہد کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس جماعت کی فکر سے وابسطہ بعض انتہا پسند لوگوں نے ہتھیار اٹھائے اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل و غارت کی شکل صورت ہی بدل کر رکھ دی۔

لشکر جھنگوی کے سارے معلوم مشہور کمانڈر یا تو مارے جا چکے ہیں یا جیلوں میں بند ہیں۔ یہ تنظیم بے نامی انداز سے اب بھی سرگرم ہے۔

یہ ٹاپک اتنا حساس ہے کہ اس پر بات کرتے ہوئے بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے۔ توازن برقرار رکھنا یہ دیکھنا کے کسی فریق کی دل آزاری نہ ہو جائے۔ سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں نظر انداز نہ ہو جائیں۔ امن کے لیے سرگرم ادارے اور اہلکار تنقید پڑھ کر ڈی مورلائز نہ ہو جائیں۔ جو خاندان متاثر ہوئے ان کے لواحقین کی دل آزای نہ ہو۔ کوئی جتنا صورتحال کو جانتا ہو اتنا ہی اس کے لیے اس پر بات کرنا مشکل ہے۔

ہمیں بہت کچھ سمجھنا سوچنا ہے۔ اس فساد کے بہت رخ ہیں۔ یہ بار بار شکلیں بدل رہا ہے۔

مثال کے طور پر پہلے ذکر کیا کہ سپاہ صحابہ اپنی پالیسی میں تبدیلی لا رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی عرض ہے کہ ایسا کرنے والی اس کی قیادت اپنا اثر کھو رہی ہے۔ اس کی قیادت کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

ایم ایم اے کے قیام کے بعد سے دونوں اطراف کی سمجھدار قیادت نے معاملات سنبھالنے کے لیے بہت کوشش اور ہمت کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور علامہ ساجد نقوی حالات پر یکساں نظر رکھتے ہیں۔ بہت بار حالات کو بگڑنے سے بچا لیتے ہیں۔

علامہ صاحب کو بھی تقریباً ویسے ہی مسائل درپیش ہیں دوسری سائیڈ پر پیش آئے۔ تھوڑی فالوونگ رکھنے والی اہل تشیع کی مذہبی جماعتوں نے زیادہ سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ متاثرین اب ان کی جانب زیادہ دیکھتے ہیں ان جماعتوں کا حلقہ اثر بڑھ رہا ہے۔

شدت پسند دہشت گرد اپنے ٹارگٹ بہت سوچ سمجھ کر سلیکٹ کرتے ہیں۔ ان کے ہر ٹارگٹ کے پیچھے ان کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں۔ ان کی کمیونیکشن پالیسی بہت ماڈرن ہوتی ہے۔ وہ اپنا پیغام زیادہ موثر طریقے سے پہنچاتے ہیں اور اپنے خلاف اٹھنے والی آواز بھی دباتے ہیں۔

یار کریں وہ وقت جب سی ڈی بیچنے والی دکانیں جلائی جا رہی تھیں۔ لوگوں سے کہا جا رہا تھا کہ وہ ٹی وی جلا دیں۔ کیبل کاٹ دی جاتی تھی۔ ان دنوں شدت پسندوں کا تبلیغی مواد رکھنے والی سی ڈی تقریبا مفت دستیاب تھی۔ یہ ان کی سوچ سمجھی حکمت عملی تھی کہ اپنا والیوم بڑھا دو اور مخالف کی آواز بند کر دو۔

اہل تشیع کو ٹارگٹ کرنے کی اب بہت سی اور وجوہات بھی ہیں۔ ان وجوہات کا تعلق ان کے فرقے سے نہیں ہے بلکہ ان کی طاقت اور اثرات سے ہے۔ پڑھنے لکھنے کی اپنی عادت کی وجہ سے اس مذہبی فکر کے بہت لوگ میڈیا میں با اثر ہیں۔ ہر قسم کے میڈیا میں سوشل میڈیا پر بھی۔ جب دہشت گردی کی ایسی کوئی واردات ہوتی ہے تو یہ زیادہ ہائی لائٹ ہو جاتی ہے۔

اب ایسی وارداتوں کے بعد احتجاج کا ایک نیا فیکٹر سامنے آیا ہے۔ یہ مزید نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ایک واقعے کو زیادہ وقت تک ہائی لائیٹ کیے رکھتا ہے۔ انتظامیہ بوکھلاہٹ میں غلط اقدامات کرتی ہے مزید حالات خراب ہوتے ہیں۔

شدت پسندی کی لہر سے لڑتے ہمیں دو دہائیاں ہونے کو آئیں۔ اب تک ہماری کوئی پالیسی نہیں ہے میڈیا کے لیے حکومتی ردعمل کے لیے ریلیف کے لیے۔ اب بھی میڈیا پر کوریج معاملے کی نزاکت کو مد نظر رکھے بغیر ہوتی ہے۔ حکومتی ردعمل غیر متوازن ہوتا ہے۔ مختلف علاقوں کے لئے مختلف پالیسی ہوتی ہے۔ ایک مثال پاڑہ چنار، کوئٹہ اور بہاولپور کے متاثرین کے ریلیف پیکج میں فرق ہے۔

ہم کب سے یہ حالت جنگ میں ہیں لیکن متاثرین کے لیے یکساں پالیسی نہیں رکھتے۔ عام لوگوں کو یہ تک نہیں سمجھا سکے کہ حادثے کی صورت میں انہیں کیا کرنا ہے، عام لوگوں کو معلومات کہاں سے ملیں گی، متاثرین کے لیے انتظامات کیسے کیے جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

یہ ہماری بدانتظامی ہی ہے جس کے بعد واقعات غلط رخ اختیار کر جاتے ہیں۔ عالمی ایجنسیاں بھی کود پڑتی ہیں۔ یہاں عالمی ایجنسیوں سے مراد انٹیلیجنس ایجنسیاں نہیں ہیں مختلف انسانی حقوق کے ادارے ہیں۔ ہم اپنی حرکتوں سے انہیں گھسنے کا موقع دیتے ہیں۔

شدت پسند کیا چاہتے ہیں بس اتنا کہ وہ ادھر ہی ہیں ہمارے اردگرد۔ ہم ایک جنگ لڑ رہے ہیں۔ سنی ہو شیعہ یا کوئی غیر مسلم وہ اس دھرتی پر رہتا ہے تو اسی دھرتی کا وفادار ہے۔ اس میں اگر ہم شک کریں گے تو ہم اپنے لیے خواہ مخواہ کے مسائل بڑھا رہے ہیں۔

پاڑہ چنار والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ جو حشر ہم نے باقی قبائل کا کیا ہے انہیں اپنا بازو شمشیر زن سمجھ اور بنا کر وہی حال اہل تشیع پاڑہ چنار والوں کا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کے قبائلی مزاج کا فائدہ اٹھانا بند کریں ان کی بہادری کو اپنی طاقت بتانا بھی بند کریں۔ انہیں پاڑہ چنار میں امن سکون سے رہنے دیں اور خود اپنے علاقوں میں اپنے مقامی حالات کے مطابق امن تلاش کریں۔

بہت ڈرتے ڈرتے ہاتھ جوڑ کر کہنا ہے کہ دہشت گردی کے بعد احتجاج کوئی پالیسی نہیں ہے یہ مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ دہشت گردوں کے ہی مقاصد پورے کرتا ہے۔ اس پر غور کر لیں۔ اس کا کوئی متبادل سوچ لیں۔

وسی بابا

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi