عراقی فوج نے موصل میں النوری مسجد کے احاطے پر دوبارہ قبضہ کر لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عراق کے شہر موصل میں عراقی فورسز نے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو بے دخل کرتے ہوئے شہر کی مشہور النوری مسجد کے احاطے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ یہ مسجد موصل کے تاریخی پرانے علاقے میں واقع ہے۔ واضح رہے کہ دولتِ اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں نے 22 جون کو مسجد کے آٹھ سو برس قدیم تاریخی مینار کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ یہ وہی معروف مسجد ہے جہاں 2014 میں ابو بکر البغدادی نے خلافت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس مسجد کے مینار کا جھکاؤ ایک طرف تھا۔ موصل کے معرکے میں عراقی فورس کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ جس وقت دولتِ اسلامیہ نے ’تاریخ کے خلاف یہ جرم کیا‘ اور مسجد کو تباہ کیا اس وقت ان کے فوجی 50 پچاس میٹر کی دوری پر تھے۔

عراق کے ریاستی ٹی وی چینل ‘دولت اسلامیہ کے خاتمے’ کی خوشیاں منا رہا ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ ‘احاطے پر دوبارہ قبضے سے جعلی داعش (دولت اسلامیہ) کے خاتمہ ہو گیا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہماری بہادر افواج کامیاب ہوں گی۔ ہم داعش کے خلاف اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک اس کا آخری جنگجو مارا نہیں جاتا یا انصاف کے کٹہرے میں لایا نہیں جاتا۔’

عراقیہ نیوز ٹی وی نے سکرین پر بریکنگ نیوز دکھائی ہے جس میں لکھا ہوا ہے: ‘جھوٹ کی ریاست کا خاتمہ ہو گیا ہے۔’ اس کے علاوہ ٹیلی ویژن پر پس منظر میں قومی نغمے چلائے جا رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسن کے مطابق عراق کی فوج نے صبح سویرے حملہ کیا اور جیسے ہی وہ نوری مسجد کے احاطے کی قریب پہنچی شدید لڑائی شروع ہو گئی۔ بی بی سی کے رپورٹر جو فوج کے ہمراہ مسجد کے احاطے میں پہنچے انھوں نے بتایا کہ ابھی وہ دولتِ اسلامیہ کے سنائپروں کے نشانے پر ہیں اور ابھی اس پر پوری طرح قبضہ نہیں ہوا۔

اس مسجد کی ایک علامتی اہمیت کے پیش نظر جنگجوؤں نے اس پر عراقی فوج کے قبضے کی جگہ اسے تباہ کرنے کو ترجیح دی۔ دولت اسلامیہ اب عراق اور شام دونوں ہی ممالک میں پسپائی کا سامنا کر رہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پرانے علاقے کے ایک مربع کلومیٹر کے علاقے میں چند سو جہادی موجود ہیں۔ تاہم اس علاقے میں 50 ہزار شہری بھی محصور ہیں جن کے پاس خوراک نہیں ہے اور اس لڑائی میں شہریوں کے زخمی یا ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

موصل کو آزاد کرانے کے آپریشن کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل عبدالامیر کر رہے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ عراقی فورسز نے مسجد النوری کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے کئی گھنٹوں بعد فورسز مسجد النوری کے کمپلیکس میں داخل ہوئی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18961 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp