کیا بھٹو نے نواب محمد احمد خان کو قتل کیا تھا؟
آج 5 جولائی ہے۔ اس روز پاکستان کے متفقہ دستور کو معطل کر کے پہلے منتخب وزیر اعظم کو معزول کر دیا گیا تھا۔ ریاستی موقف یہ تھا کہ افواج پاکستان کو حکومت اور حزب اختلاف میں خانہ جنگی کے اندیشوں کے پیش نظر مداخلت کرنا پڑی۔ سیاسی قیادت کے متعدد عینی گواہان پروفیسر عبدالغفور، کوثر نیازی اور نوابزادہ نصراللہ کے دستاویزی بیانات موجود ہیں کہ فریقین میں سمجھوتہ طے پا چکا تھا۔ چنانچہ فوج کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں تھا۔ غور کرنا چاہیے کہ فریقین میں خانہ جنگی کے کوئی شواہد کبھی پیش نہیں کئے گئے۔ حتمی نتیجہ یہ کہ نوے روز کی عبوری مدت کے لئے اقتدار سنبھالنے والے جنرل ضیالحق 132 مہینے تک برسراقتدار رہنے کے بعد ایک حادثے کی نذر ہوئے۔ گیارہ سال پر محیط اس عہد آمریت کا اہم ترین واقعہ 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں پھانسی دینا تھا۔ اس مقدمے کے قانونی پہلوو ¿ں پر گزشتہ چالیس برس میں سیر حاصل بحث ہو چکی۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے بنچ میں شامل فاضل جج ریاستی دباو ¿ کا اعتراف بھی کر چکے۔ ستمبر 77 سے اپریل 1979 تک بنیادی سوال یہی تھا کہ کیا بھٹو صاحب نے نواب محمد احمد خان کو قتل کیا تھا؟ آج چار دہائیاں گزرنے کے بعد یہ سوال غیر متعلق ہو چکا۔ تاریخ اپنا فیصلہ دے چکی۔ بھٹو کا جرم عوامی تائید تھا۔ فرد جرم میں محمد احمد خان نامی ایک شخص کے قتل کا ذکر تھا اور سزا دینے والا ڈکٹیٹر اپنے لامحدود اقتدار کی راہ ہموار کرنا چاہتا تھا۔ جرم، فرد جرم اور سزا کا یہ غیر شفاف نقشہ ہماری تاریخ کا المیہ ہے۔ یہ کھیل آزادی کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا۔ کٹہرے میں کھڑے ہونے والوں کا اصل جرم کچھ اور تھا۔ فرد جرم کی خانہ پری محض وزن برائے بیت کی حیثیت رکھتی تھی۔ پیوستہ مفادات کی اس کشمکش میں ہم نے ستر برس قید کاٹی ہے۔ آئیے کچھ مثالیں دیکھتے ہیں۔

یہ فرمائیے کہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کی بندش کیا محض نئی دہلی کے نمائیدے کی ایک غلط خبر کا نتیجہ تھی یا صحافت کی مشکیں کسنے کی مشق ہو رہی تھی۔ اگر پروگریسو پیپیرز لمٹیڈ وطن دشمن صحافت میں ملوث تھے تو فیض اور مظہر علی خان کو ادارت کی پیش کش کیوں کی جاتی تھی۔ ہے واقعہ کچھ اور، حکایت کچھ اور ہے۔
مشرقی پاکستان میں 310 میں سے 301 نشستیں جیتنے والے فضل الحق کو ایک موہوم بیان کی پاداش میں برطرف کیا گیا تھا یا مشرقی 
اکتوبر 1958 کے پہلے ہفتے میں پے در پے رونما ہونے والے واقعات 7 اکتوبر 1958 کا جواز تھے یا وہ اسکرپٹ تھا جس کی کاپیاں جستی بکس میں بند کر کے میجر مجید ملک بذریعہ ٹرین کراچی لے جا رہے تھے۔ آپریشن جبرالٹر کشمیر کے حصول کی حکمت عملی تھی یا جنوری 65 کے انتخابات میں دھاندلی کا دھبہ دھونا تھا۔ فروری 66 میں مجیب الرحمن کے چھ نکات سیاسی ایجنڈا تھا یا تاشقند کی ہزیمت پر مٹی ڈالنا تھا۔ جنوری 1969 میں ایوب خان نے حزب اختلاف کے سب مطالبات مان لئے تھے تو بھٹو صاحب کس کا کھیل کھیل رہے تھے۔ غلام محمد اور اسکندر مرزا کے گورنر جنرل بننے کی سیاسی بنیاد کیا تھی؟ ایوب خان کو وزیر دفاع بنانے سے کونسی توپ چلانا مدنظر تھا۔ کیا کبھی شوکت حیات کے اس دعوے پر غور کیا گیا کہ ولبھ بھائی پٹیل نے لیاقت علی کو کشمیر کی پیش کش کی تھی۔ اسکندر مرزا کو ڈنڈا ڈولی کر کے لندن بھیجنا اقتدار کی کشمکش تھی یا قومی مفاد؟ بڈ بیر کا ہوائی اڈہ کس قانونی کارروائی کے نتیجے میں امریکا کے حوالے کیا گیا؟ 1962 کا آئین کس نے منظور کیا؟ 300 میں سے 160 نشستیں جیتنے والی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ محمد خان جونیجو کرپٹ تھے یا جنیوا معاہدہ پر دستخط کرنے کے مجرم تھے۔ دستاویزات میں ردوبدل واقعی بہت بڑا جرم ہے، لیکن ہم تو اس ملک کا جغرافیہ بدل چکے ہیں۔ اوجھڑی کیمپ کی اسلم خٹک رپورٹ کے صفحات بھی تبدیل کئے گئے تھے۔ حسن اتفاق سے ہم ایسے حساس 

