ضیاالحق، فلسطینی، بلیک ستمبر اور اردن

جنرل ضیاء الحق صاحب کے اس ملک پاکستان پرکئی احسان ہیں، انہوں نے اپنے جرنیلوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں روسیوں سے چھینی گئی کلشن کوفوں اور امریکہ سے ملنے والے سٹنگر میزائیل کی فروخت کا کاروبار کیا، ضیا الحق کے ان کارناموں سے کئی کتابیں بھری پڑی ہیں اورتازہ ترین گواہی پاکستان کے معلوم سیاستدان سلیم سیف اللہ کی والدہ کلثوم سیف اللہ کی کتاب my solo flight” ” میں ملتی ہے جس میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ جنرل ضیاء نے سٹنگر میزائیل ایران کو فروخت کر دئیے تھے جب امریکہ کو اس کا پتہ چلا اوراس کی ایک ٹیم اوجڑی کیمپ کے سٹور کا معائنہ کرنے کے لئے آنے لگی تو جنرل صیا الحق کے حکم پر 10 اپریل 1988ء کو اس سٹور میں دھماکہ کر دیا گیا جس سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے تیرہ سو سے زائد شہری ہلاک ہو ئے ، کئی معذور ہو گئے اور برستے میزائیلوں کی افراتفری میں ان دونوں شہروں کی بیشمار لڑکیاں اغواء کر لی گئیں، جن کا آج تک پتہ نہیں چل سکا،میرا ایمان ہے کہ ضیا ء الحق سمیت اس جرم میں ملوث تمام جنرلوں کو 17 اگست 1988ء کا بہاولپور کا عبرتناک ہوائی حادثہ حاکم اعلی کی عدالت میں لے گیا ہے جہاں ان کے لئے جہنم کی آگ پہلے سے تیار موجود تھی، پتہ نہیں میرا یہ سوچنا درست ہے یا نہیں کہ جنرل اسلم بیگ اور ان کے ہم خیال فوجی افسروں کو باری تعالی نے اس حادثے سے اس لئے بچا لیا تھا کہ وہ شرمناک اعمال میں ضیاء الحق کے شریک کار نہیں تھے،

جنرل ضیاء الحق پربہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جائے گا، ان پر لکھی گئی چند کتابیں کے نام درج کر دئیے ہیں، انہیں دیکھیں…. پہلے پڑھنا، سمجھنا اور پھر قلم اٹھانا چاہئے…..اب اگر کسی کی یہ دلیل ہے کہ اسے ذوالفقار علی بھٹواچھا نہیں لگتا تھا اس لئے وہ ضیاء کا حامی ہے تو یہ دلیل درست نہیں…..اور اگر میں یہ کہوں کہ ضیاء نے اُس بھٹو کے ساتھ غداری کی تھی جو میرا لیڈر تھا تو یہ دلیل بھی ضیاء پر تنقید اور اس کی تذلیل کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی……اس پر لعنت کی وجہ بنتا ہے وہ کردار جو اُس نے ادا کیا…..میری گرفتاری 16 فروری 1978ء کومیرے 27 دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ہوئی تھی،لاہور،کوئٹہ،پشاور اور راولپنڈی سے سات سات دوستوں کو ایک سال قید بامشقت ہوئی، ہم میں سے جو رہائی کے بعد ملک سے باہر نہیں چلے گئے انہوں نے گیارہ سال بڑی مشکل کے گزارے ہیں، لیکن یہ صرف میرا اور میرے ان ساتھیوں کا ذاتی مسلہ ہے اور اللہ گواہ ہے کہ پچھلے 35 برسوں میں میں نے جنرل ضیا الحق کو کبھی آج کی طرح برا نہیں کہا ان کا نام ہمیشہ ادب سے لیا ہے، آج معاملہ مختلف ہو گیا ہے،
ضیا الحق برطانوی فوج میں افسر تھے اور دوسری جنگ عظیم میں لڑے تھے، پاکستان بنا تو وہ پاک فوج میں شامل ہو گئے۔ 1965ء اور 1070ء کی جنگوں میں بھارت کے خلاف لڑے، اور جب ان کی سربراہی میں ایک تربیتی مشن اردن بھیجا گیا تو آپ برگیڈئیر تھے، اس زمانے میں اردن اور فلسطین کا وہی حساب تھا جو پاکستان اور کشمیر کا ہے، آزاد کشمیر کی طرح اردن نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا، دریائے اردن کے مشرق میں 40 ہزار فلسطینی مہاجرتھے ، یہ اردن کی آبادی کا ایک تہائی بنتے تھے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں بھی اتنے ہی فلسطینی تھے ،فلسطینیوں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کو اپنی آزادی کا بیس کیمپ بنا یا ہوا تھا، یہاں سے فلسطینیوں کو تربیت دے کر مقبوضہ علاقے میں اسرائیلیوں کے خلاف چھاپہ مار سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے بھیجا جاتا تھا، اردن نے جب یہ علاقہ اپنے قبضے میں لیا تو فلسطینیوں نے اسے اپی کمزوری نہیں بلکہ طاقت میں اضافہ سمجھا،مسلمان بھائی آ گئے تھے ناں، مقبول بٹ شہید نے آزاد کشمیر کو بیس کیمپ بنا کے یہی عمل شروع کرنا چاہا تھا، اس طرف ہم بعد میں آئیں گے،
شاہ حسین مرحوم کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ کہیں فلسطینی دریائے اردن کے مغربی کنارے کو آزاد فلسطینی ریاست نہ بنا لیں لیکن ان کے لئے اس سے بڑی مشکل یہ تھی کہ ہماری طرح وہ بھی سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے اتحادی تھے، امریکہ کی ترجیح اسرائیل، اس کی بقا اور مشرق وسطی میں اس کی بالا دستی تھی، اس طرح کی صورتحال میں ہم نے جو کردار القاعدہ کو ختم کرنے کے لئے ادا کیا وہی کردار اردن کو فلسطینیوں کو اکھاڑنے کے لئے ادا کرنا پڑا، 15 ستمبر 1970ء کو برگیڈئیر ضیا الحق کی در پردہ قیادت میں اردنی فوج نے فلسطینیوں پر حملہ کیا اور انہیں اردن سے باہر کر دیا، اردن فلسطینیوں کے دباؤ میں سے نکل آیا اوراسرائیل پر سے بڑا خطرہ ٹل گیا، بالکل اسی طرح جس طرح وسط ایشاء کے مسلم ممالک یہ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ القاعدہ کے دباؤ میں آنے سے بچ گئے ہیں اور اسرائیل پر سے ایک اور خطرہ ٹل گیا ہے،

اردن میں15 ستمبر1970ء کو جوملٹری ایکشن شروع ہوا وہ جولائی 1971ء تک جاری رہا،جیل میں مجھ سے ملنے والے فلسطینی اسے بلیک ستمبر کے نام سے یاد کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ ابومجاہد کی منتیں کی گئیں کہ وہ اردن سے نکل چلیں مگر وہ نہیں مانے …یاسر عرفات طیارہ لے کر پہنچے ، انہوں نے انہیں منانے کی بہت کوشش کی ، مگر انہوں نے یہ کہہ کے انکار کر دیا کہ’’ میں اپنے بچوں (جہادی فلسطینیوں) کو موت کے منہ میں اکیلے نہیں چھوڑ سکتا ان کے ساتھ مل کر لڑوں گا، شہادت بہت اعلی منصب ہے، اس کی تمنا کرتا ہوں‘‘…. یہ قتل عام تھا، فلسطینیوں پر اچانک ٹینک چڑھا دئیے گئے، فلسطینی جنگجو تھے، اس وقت ان کے پاس کشمیریوں کی طرح اپنا کوئی ملک نہیں تھا وہ کہیں اپنا کوئی جنگی مرکز قائم نہیں کر سکتے تھے وہ مقبوضہ فلسطین اور اردن کے درمیان پھنس گئے تھے، اس موقع پر اسرائیلی بھی ان پر حملہ کر سکتے تھے وہ دو طرف سے نرغے میں آ سکتے تھے، مگر وہ اس سے بے نیاز آزادی…..فلسطینی قوم کی آزادی کے لئے لڑتے ہوئے شہید ہو رہے تھے، کشمیر میں ہندووں اور مسلمانوں کی جو تفریق موجود ہے، فلسطین میں مسلمانوں کی اکثریت کے باوجود ان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی کوئی تفریق نہیں تھی، مسلمان اور عیسائی شانہ بہ شانہ لڑے،انہوں نے فوجی پیش قدمی کو روکے رکھا، اپنے ساتھیوں کو اردن سے باہر نکالتے رہے اوراردن کی گلیوں اور بازاروں میں لڑتے ہوئے دس ہزار کے لگ بھگ شہید ہوگئے،
جیل کے میرے ساتھی فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ ’’ہم ضیاء الحق کو کبھی معاف نہیں کر سکتے، ابو مجاہد کو اسی نے شہید کیا تھا،فلسطینیوں 
یہ ہے ضیاء کا وہ ظلم ، جو صرف مجھ پر نہیں اس نے پوری مسلم امہ پر کیا ہے…… کچھ لوگ اسے اس لئے مرد حق کہتے ہیں کہ وہ نماز پڑھتا تھا….. نماز اول تو ہم اپنی بخشش اور اللہ پاک کی تابعداری کے اظہار کے لئے پڑھتے ہیں…… مسلمانوں کا، ہندووں کا، عیسائیوں کا، یہودیوں کا ناحق خون بہانے کے لئے نہیں پڑھتے ، اگر ہم نماز پڑھیں اور اللہ کی بے گناہ مخلوق کا خون بہانے لگیں تو ہم سچ سے ہٹ کے جھوٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور جھوٹے پر تو لعنتیں بے شمار ہیں،…… جھوٹے پہ لعنت سچے پر رحمت ، یہ نعرہ نہیں ایک حقتقت ہے اور ضیاء مجسم جھوٹ تھا، …….ان سب باتوں کو تولئیے اور سوچئے ،آج ہم کس منزل پر ہیں؟ ……عرض کیا ہے موت ہاتھ میں لئے ہم تم زندگی کی صدا لگاتے ہیں
اور ہاں دوستو تمغات سینے پر سجانے کے لئے ہوتے ہیں، خیرات مانگنے کے لئے نہیں، میری جیل یاترا میرا اعزاز، میرا تمغہ ہے، یہ یاترا ملتِ اسلامیہ کے حقوق و انصاف کے لئے تھی، جسے میں نے نہ کسی کو بیچا ہے اور نہ بیچوں گا،جس کی مجھے نہ ستائش قبول ہے ، نہ انعام ،میرے لئے میرا اللہ کافی ہے، وہ میرا نگہبان اور میرا گواہ ہے، شکریہ


