تیسری جنس، کج روی اور بھٹو جونئیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 495
  •  

وہ عام بچوں جیسا نہیں تھا۔ اس کا بڑا بھائی گاڑیوں، ٹرک اور ٹرین قسم کے کھلونوں سے کھیلتا تھا لیکن اسے ان سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ زیادہ وقت کچھ نہ کچھ آڑھی ترچھی لکیریں کھینچتا رہتا یا بہت ہوا تو ماں کی ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ جاتا اور ان کی جیولری سے کھیلنا شروع کر دیتا۔ وہ سوچتی تھی شاید میرا بیٹا کچھ الگ قسم کا لڑکا ہے۔ وہ تھوڑا بڑا ہوا تو بجائے لڑکوں میں کھیلنے کے وہ لڑکیوں کی کمپنی پسند کرنے لگا۔ وہ ان کی گڑیوں کے ساتھ کھیلتا تھا اور جو بھی کھیل وہ کھیلتیں اسے ان سب میں دلچسپی ہوتی۔ اب اس کی ماں کو تھوڑی پریشانی ہوئی۔ انہوں نے مختلف جگہ سے ٹرانس جینڈر بچوں کے بارے میں معلوم کرنا شروع کیا اور جلد وہ اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ ان کا بچہ اپنی جنس سے مطمئن نہیں ہے۔ چند ڈاکٹروں سے رابطے کے بعد معاملہ صاف تھا۔ یہ خالصتاً ایک طبی مسئلہ تھا اسے جینڈر ڈسفوریا تھا، وہ ایک ٹرانس جینڈر (مخنث) تھا۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ اسے اپنی مرضی کی چیزیں پہننے دیں، جو وہ چاہے اسے وہی چیز کھیلنے کے لیے دیں، اور اسے نارمل بچوں کی طرح ٹریٹ کریں۔ اس کے سکول میں بھی کہلوا دیا گیا کہ یہ بچہ ایسی کیفیات سے گزر رہا ہے، اس کا دھیان رکھیں خصوصاً اس بات کا کہ دوسرے بچے اسے تنگ نہ کریں۔ سکول والوں نے تمام جونیر سیکشن کے لیے خصوصی کلاسیں ارینج کروائیں، انہیں جینڈر ڈسفوریا ٹرانس جینڈرز اور جینڈر ٹرانزیشن کے بارے میں تمام اہم باتیں بتائیں اور یہ سمجھایا کہ ایسے بچوں کے ساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے کہ ان کی انا کو ٹھیس نہ پہنچے اور اس طرح برطانیہ میں رہنے والا سات برس کا روڈی نسبتاً بہتر طریقے سے روبی بن گیا۔

یہ بچے بالکل نارمل پیدا ہوتے ہیں لیکن بچپن میں ہی انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ مخالف جنس سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ جسم ان کے رجحانات سے میل نہیں کھاتا۔ اب سوال یہ ہے انہیں وہ سمجھا جائے جو وہ ہیں یا انہیں وہ جانا جائے جو وہ نہیں ہیں لیکن نظر آتے ہیں۔ کسی مرد کی مردانگی یا عورت کا نسوانی جسم یہ دونوں چیزیں بائے چوائس (اختیاری) نہیں ہوتیں۔ یہ وہ ہے جسے جبری قدر کہہ سکتے ہیں۔ پیدائش سے پہلے کسی کو اپنی جنس سلیکٹ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا اب اگر عمر کے بالکل شروع کے چند برسوں میں یہ احساس ہو جائے کہ ہم مس فٹ ہیں تو کیا ہو سکتا ہے؟ پاکستان تو بہت دور کی بات ہے برطانیہ میں بھی ساٹھ فیصد ایسے لوگ کم از کم ایک بار خود کشی کی کوشش کر چکے ہیں۔

تصور کیجیے کہ نو ماہ کی مسلسل اذیت اور تکلیف کے بعد کسی ماں کے آنگن میں ایک پھول کھلے اور یا تو پیدائش کے وقت ہی پتہ لگ جائے کہ وہ خواجہ سرا ہے یا جب وہ چار پانچ برس کا ہو تب پتہ لگے۔ دونوں صورتوں میں ایک پاکستانی ماں کیا کرے گی؟ یا تو بچے کے باپ سے لڑ جھگڑ کر اسے اپنے پاس رکھے گی یا پھر اسے خواجہ سراؤں کے حوالے کر دیا جائے گا اور ماں بچہ دونوں تمام عمر کے روگی ہو جائیں گے۔ لیکن یہ بچہ موجودہ معاشرے میں ہر دو جگہ مس فٹ رہے گا۔ چاہے اپنے گھر ہو چاہے خواجہ سرا اسے اپنے ساتھ لے جائیں صرف اس لیے کہ وہ مکمل مرد یا مکمل عورت نہیں ہے، اسے عام لوگوں والے کوئی بھی حقوق میسر نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات نومولود بچے کا مخنث پن معلوم ہونے پر ہی اسے خواجہ سرا کمیونٹی کو سونپ دیا جاتا ہے۔ اس ظلم کی بنیادی وجہ ہم سب ہیں۔ ہمارا معاشرہ ہے۔

ان بچوں کو تو باپ اپنا نام تک نہیں دیتے، شناختی کارڈ کے لیے جب سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سختی کی تو نادرا کی طرف سے کہا گیا کہ ان کی ولدیت میں کس کا نام لکھیں، وہ لوگ گھر کے پریشر کی وجہ سے ولدیت بتانے تک سے انکاری ہوتے ہیں۔ اس پر زرداری صاحب کا تاریخی جواب آیا تھا کہ ان سب کی ولدیت میں آصف زرداری کا نام لکھ دو لیکن ان کے شناختی کارڈ بنا دو، اور ابھی حالیہ خبروں کے مطابق شناختی کارڈوں کی حد تک تیسری جنس “مخنث” تسلیم کی جا چکی ہے۔

ایسے افراد کو باعزت طور پر قبول نہ کرنے کی تازہ ترین مثال ہمیں ذوالفقار بھٹو جونئیر کے ساتھ روا سلوک میں ملتی ہے۔ کہیں انہیں ذہنی کج روی کا شکار کہا جاتا ہے، کہیں یہ بات ہوتی ہے کہ سندھیوں کا بھٹو مر گیا، کہیں سادہ دل بندے چپ چاپ تین حرف بھیج کر سائیڈ پر ہو جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا بھٹو جونئیر پہلے مرد ہیں جو سلائی کڑھائی کرتے پائے گئے ہیں یا وہ واحد مرد ہیں زنانہ لباس پہن کر ناچتے دکھائی دئیے ہیں؟ بھئی سیدھی سی بات ہے جس کا باپ، دادا، دادی، چچا، پھپو سارے کا سارا خاندان مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے میں کام آ گیا ہو وہ اگر اس مردانگی سے تنگ نہیں آئے تو کیا کرے؟ بھٹو صاحب کی مردانگی کس کام آئی؟ پھانسی چڑھے، شاہنواز کی مردانگی زہر چاٹ گئی، میر مرتضیٰ کا چوڑا مردانہ سینہ گولیوں سے چھلنی ہوا، بے نظیر کی زنانہ للکار کی مردانگی انہیں بھی پار لگا گئی، نصرت بھٹو تو میر مرتضیٰ کے ساتھ ہی مر گئی تھیں، کیا ملا بھئی ایسی مردانگی سے؟ پورا خاندان اسی مردانہ پن کی نذر کروانے کے بعد اگر فاطمہ بھٹو شاعری اور کتابوں میں پناہ ڈھونڈتی ہے، بھٹو جونئیر مردوں میں نرمی دیکھنا چاہتا ہے تو کیا برا ہے؟

سکہ بند مردوں کو حق حاصل ہے کہ بھٹو جونئیر کا دل بھر کے مذاق اڑائیں اور ثابت کر دیں کہ انہوں نے بھٹو خاندان کا نام ڈبو دیا، خاک میں ملا دیا لیکن جو باقی کے دوچار ہیں وہ ذرا اس بات پر غور کر لیں کہ ساری عمر بھی اگر وہ مرد بن کر چیختا رہتا تو بجز گولی کھانے کے، کوئی مردانہ کام نہیں کر سکتا تھا، یہ چار پانچ منٹ کی ویڈیو سب کو اسی طرح ہلا گئی کہ جیسا اس کا حق تھا۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مغرب سے کسی بھی قسم کے درآمد شدہ نظریات کو گلے لگا لیا جائے، مسئلہ وہاں ہے کہ ان پر غور کیے بغیر، انہیں پرکھے بغیر رد کر دیا جائے۔ جسٹن ٹروڈو کینیڈا کا وزیر اعظم ہو کر ٹرانس جینڈرز کی ایک ریلی میں شرکت کرتا ہے۔ اس ریلی میں بہت سی لغویات تھیں لیکن ایک بینر ایسا دکھا جو عام آدمی کا دل پگھلانے کے لیے کافی ہے، “آئی لو مائی ٹرانس جینڈر چائلڈ۔” ٹرانس جینڈر کلبز کی فضولیات اپنانے کو ہرگز کوئی نہیں کہتا، نہ ہمارا مزاج، ہماری روایات اس بے ہودگی کے حق میں ہیں لیکن بھائی، ان لوگوں کو اتنی قبولیت تو دیجیے کہ وہ سر اٹھا کر بات ہی کر سکیں، انہیں ولدیت کے خانے میں اصل باپ کا نام ہی مل جائے۔ یہ نام صرف اسی معاشرتی دباؤ کی وجہ سے نہیں مل پاتا کہ فلاں صاحب کا بیٹا خواجہ سرا ہے، اللہ میری توبہ! جس خدا سے معافی مانگ رہے ہیں وہی تو سب کا پیدا کرنے والا ہے!

پاکستان کے لوکل ہسپتال چیک کر لیجیے، ٹرانس جینڈرز کا وجود آفاقی سچائی ہے۔ اس کا تعلق ہرگز کسی مغربی نظرئیے سے نہیں ہے، مغل دربار میں انہیں جنت کی چڑیاں کہا جاتا تھا آپ جہنم کا کیڑا کہہ لیجیے لیکن وجود تو مانیں، سانس لینے کا حق تو دیں۔ ویسے بھی آج تک کوئی خواجہ سرا نہ تو کسی میگا کرپشن کیس میں ملوث رہا ہے، نہ ریمینڈ ڈیوس والے معاملے میں اس کا نام آیا ہے، نہ اس نے گلگت میں سیاحوں سے بدتمیزی کی ہے، نہ ان کے کسی ہجوم نے مشال خانوں کو مارا ہے، نہ ہی انہوں نے کسی پر تیزاب پھینکا ہے، گویا جو کام کوئی بھی نارمل انسان کرے اور بعد میں اس کا دفاع کرنے پر مجبور ہو، وہ کچھ بھی ایسا نہیں کرتے، وہ تو بس وہی کرتے ہیں جو بھٹو جونئیر نے کیا اور اپنی چیخ پوری غیر مہذب دنیا کو سنا گیا۔ گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر!

بشکریہ: روز نامہ دنیا / Jul 6, 2017

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 495
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain