کارل مارکس ایک وفادار انقلابی اور بے وفا شوہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم ادیبوں‘ شاعروں‘ دانشوروں اور انقلابیوں کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی محبوبائوں اور بیویوں کو ان سے محبت کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہی حالت کارل مارکس کی بیوی جینی  JENNY  کی تھی۔ انہیں بھی کارل مارکس سے محبت کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔

جب مارکس اور جینی ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے اس وقت مارکس کی عمر اٹھارہ برس اور جینی کی عمر بائیس سال تھی۔ مارکس جینی کے بھائی کے دوست تھے چنانچہ جینی نے مارکس سے محبت کو صیغہِ راز میں رکھا۔ انہیں فکر تھی کہ ان کے والدین شادی پر رضامند نہ ہوں گے کیونکہ وہ مارکس سے چار سال بڑی تھیں۔ آخر سات برس کے انتطار کے بعد جینی نے مارکس سے شادی کی۔ ان سات سالوں کے دوران مارکس نے جینی کو بہت سی محبت بھری نظمیں اور خطوط بھیجے۔ جینی ان محبت ناموں سے بہت متاثر ہوئیں۔

مارکس نے کمیونزم کا فلسفہ تو وضع کیا اور مزدوروں اور کسانوں کے مسائل کا حل تجویز کیا لیکن اپنے مالی مسائل کا حل نہ تلاش کر سکے۔ وہ نظریات کی دنیا میں ذمہ دار لیکن ذاتی زندگی میں نہایت غیر ذمہ دار واقع ہوئے تھے۔ انہوں نے کبھی مستقل مزاجی سے کوئی ملازمت نہ کی۔ ان کے پاس اپنی شادی تک کے پیسے نہ تھے۔ چونکہ جینی ایک مالدار گھرانے کی بیٹی تھیں اس لیے ان کا خاندان ان کی مالی امداد کرتا تھا۔ بعض دفعہ حالات اتنے ناگفتہ بہ ہو گئے کہ مارکس کے پاس گھر کے کرایے اور بچوں کے کھانے کے پیسے بھی نہ تھے۔ ایسے حالت میں جینی گھر کی چیزیں گروی رکھ آتی تھیں۔ جینی چونکہ ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اس لیے ان کے لیے ایسے حالات سے نباہ کرنا بہت مشکل تھا۔ ایک دفعہ جینی بیمار ہو گئیں اور مارکس کے پاس ان کے علاج کے پیسے بھی نہ تھے۔ بعض دفعہ مارکس اپنے سیاسی مضامین اس لیے نہ لکھ سکتے تھے کہ ان کے پاس اخبار خریدنے کے پیسے نہ ہوتے تھے۔

نفسیاتی اور معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ جینی کو سیاسی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جب مارکس جلا وطن ہوئے تو وہ اپنے انقلابی نطریات کی وجہ سے نہ جرمنی رہ سکتے تھے نہ فرانس میں۔ جینی ان کے ساتھ دربدر کی ٹھوکریں کھاتی رہیں۔ آخر مارکس نے لندن میں پناہ لی اور زندگی کے بہت سے سال وہیں گزارے۔

جلا وطنی سے پہلے ایک بار جینی کے سامنے ان کے شوہر کو پولیس ہتھکڑیاں لگا کر لے گئی۔ ایک دفعہ تو جینی کو بھی تفتیش کے لیے پولیس سٹیشن جانا پڑا اور ایک رات حوالات میں عادی مجرموں کے ساتھ گزارنی پڑی۔

مارکس کی سوچ جتنی باترتیب تھی ان کا طرزِ زندگی اتنا ہی بے ترتیب تھا۔ انہیں نہ وقت کا خیال رہتا نہ صفائی اور نفاست کا ۔ وہ ABSENT MINDED PROFESSOR کی طرح خیالوں کی دنیا میں کھوئے رہتے اور اپنے خیالات کو نظریات کے دھاگے میں پروتے رہتے۔ جینی کو مارکس کی تمام بری عادتیں برداشت کرنی پڑتیں۔ ان کی زندگی کئی سال تک ایک خانہ بدوش کی زندگی بنی رہی۔ مارکس کی عادت تھی کہ وہ کئی دنوں تک نہ نہاتے تھے نہ کپڑے بدلتے تھے۔ بعض دفعہ تو ڈرائنگ روم کے صوفے پر ہی سو جاتے تھے۔ بعض دفعہ دن رات سوتے رہتے تھے اور بعض دفعہ رات دن جاگ جاگ کر اپنا مضمون مکمل کرتے تھے۔

مارکس جوانی سے ہی عاشق مزاج تھے اور جینی ان کا پہلا اور اخری عشق نہ تھا۔ ان کی محبوبائوں میں ایک محبوبہ ان کی نوکرانی بھی تھی جن سے ان کے رومانوی اور جنسی تعلقات قائم ہو گئے اور وہ حاملہ ہو گئی۔ مارکس اس حمل کو صیغہِ راز میں رکھنا چاہتے تھے اس لیے جب نوکرانی کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو ان کے دوست اینجلزENGELS نے ہسپتال جا کر اپنا نام بطورِ باپ لکھوا دیا تا کہ مارکس کی عزت کو دھچکا نہ لگے۔ جینی کے لیے وہ واقعہ بہت تکلیف دہ تھا۔ وہ اتنی دکھی ہوئیں کہ کافی عرصے تک روتی رہیں۔

ان تمام معاشی‘ نفسیاتی‘ سیاسی اور رومانوی مسائل کے باوجود جینی آخری دم تک مارکس سے محبت کرتی رہیں۔ ان کی محبت کے شعلے میں کمی نہ آئی۔ وہ ان کی دوست بھی تھیں‘ محبوبہ بھی اور بچوں کی ماں بھی۔ مارکس کو اپنے خاندان کی ذمہ داری کے بوجھ سے زیادہ قوم کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کی فکر تھی۔

جینی جانتی تھیں کہ انہوں نے ایک انقلابی سے شادی کی ہے۔ جینی یہ بھی جانتی تھیں کہ مارکس اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔

جینی1881 میں 67 برس کی عمر میں فوت ہو گئیں۔ جینی کی موت کے بعد مارکس زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے اور 1883 میں 65 برس کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ مارکس کی سیاسی اور رومانوی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آئے لیکن جینی نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا۔ مارکس ایک وفادار انقلابی اور ایک بے وفا شوہر تھے لیکن جینی ساری عمر ایک باوفا بیوی رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 325 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail