مسلمان مرد تنگ نظر کیوں ہوتے ہیں


پاکستان کا حصول لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ کے نعرے اور مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو برقرار رکھنے اور انہیں ایک الگ قوم کی حیثیت سے پہچان دلوانے کیلئے کیا گیا اور یہ پہچان انہیں مل بھی گئی مگر مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں پائے جانے والی ناہمواریوں اور فرقہ وارانہ تنگ نظری نے کئی مسائل جنم دیے جن میں ایک بہت بڑا مسئلہ عورت کے وجود اور اس کی آزادی کی بقا کیطرف تنگ نظری ہے۔

اسلام میں بہتر فرقے ہیں اور ہر فرقے میں کچھ اصول و قواعد کے تحت قوانین مرتب کئے گئے ہیں جن پر عمل پیرا ہونا اس فرقے کے ماننے والوں کے لئے لازم جز سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ اس پر عمل پیرا نہ ہوں تو "خدا ہدایت دے” کا جملہ سننے کو ملتا ہے جیسے نماز کی پابندی نہ کرنا، سود کھانا،روزہ اور زکوۃ ادا نہ کرنا، حرام روزی کمانا اور اسی طرح عورت پر جبر اور حکمرانی کا نظریہ ہے جس کو بحیثیت معاشرہ برا سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور اس کے حقوق کے تحفظ کی علمبرادار نظر آتی ہے مگر حقیقت میں عورت ایک عجوبے کی نظر سے دیکھی جاتی ہے عورت کا وجود اس وقت تک تقدس و احترام کی منزل نہیں طے کرتا جب تک ایک چادر اور ایک برقعہ اس عورت کے سر کا طواف نہ کرے، یقینا اسلام ایک بہترین مذہب اور قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ہم سب کو دین و دنیا کی کامیابی کےلئے اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا لازم و ملزوم ہے مگر یہ کیا بات ہوئی کہ کسی عورت کے اچھا یا برا ہونے کا لقب اس کی چادر سے وابستہ کیا جائے، چادر بہت اچھی ہوتی ہے لیکن انسان اچھے برے دونوں ہوتے ہیں اور ایک چادر یا ایک برقعہ کسی عورت کے وجود کو اچھی عورت اور اچھی مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ بالکل نہیں دیتا البتہ ہماری تنگ نظری کا ثبوت ضرور دے دیتا ہے اور یہ تنگ نظری کسی ایک جگہ نہیں بلکہ عورت کی ذندگی کے مختلف مراحل طے کر کے اسے زندگی میں ہی جہنم رسید کردیتی ہے، میں مثال دینا چاہوں گی:

1-بچیوں کی کم عمری میں شادی کیونکہ اسلام بچیوں کی بلوغت کے بعد ان کی فوری شادی کا حکم دیتا ہے ۔

2-زیادہ تعلیم سے لڑکیوں کی عمر نکل جاتی ہے اور اچھے رشتے آنا بند ہوجاتے ہیں اس لئے اعلیٰ تعلیم ضروری نہیں۔

3-پسند کی شادی کی مخالفت۔

4-عورت کو نوکری نہیں کرنی چاہئے روکھی سوکھی کھا کر عزت سے چار دیواری میں زندگی گزارنی چاہئے کیونکہ اس کا اصل کام گھر کو سنبھالنا اور بچوں کی تربیت کرنا ہے۔

5-گھر میں ٹی وی کا ہونا نہوست اور بے برکتی کا باعث ہوتا ہے۔

6- میڈیا میں شریف خواتین کا کیا کام۔۔۔۔۔۔اچھی عورتیں ٹی وی کی نوکری نہیں کرتیں۔

7-خواتین کیلئے صرف دو شعبے ہی اچھے ہیں،،ایک ڈاکٹری اور دوسرا،،،درس و تدریس۔

8-عورت کے میک اپ کا مقصد غیر مرد کو متوجہ کرنا ہے۔

9-بال نہیں کٹوانے چاہئیں اللہ ناراض ہوتا ہے ۔

10-عورت کے پہننے اورڑھنے پر پابندی۔

11-اکیلی عورت کا باہر نکلنا اچھا نہیں سمجھا جاتا، مرد کو ضرور ساتھ ہونا چاہئے۔

12-مرد ڈاکٹر سے عورت کا چیک اپ بے غیرتی کی علامت ہے۔

13-شادی کے بعد عورت کا میکے سے ملنے پر اصرار اچھی بات نہیں،شوہر کا گھر ہی عورت کا اصل گھر ہوتا ہے۔

عورت پر اپنی مرضی مسلط کرنا اور اسلام کو سمجھے بغیر اپنی مرضی کے اسلام کا نفاز کرنا اور کسی عورت کے کردار پر انگلی اٹھانا اور اسے اپنی مرضی کے تابع کرنے کی مہم وہ تنگ نظر مسلمان کرتے ہیں جو خود اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتےہیں صرف مدارس کی شکل دیکھی ہوتی ہےاور انہیں ایک عورت ” ایک عجوبہ ایک کہانی” سناکر غیرت مند مسلمان ہونےکا سبق پڑھا دیا جاتا ہےاور وہ اپنے آباؤ اجداد کی فرسودہ روایتوں پر عمل کرکے عورت کو اپنی تنگ نظری کی بھینٹ چڑھا دینے کو ہی ترجیح دیتے ہیں چاہے اس کے بدلے بیوی یا بیٹی ساری عمر ایک غلام کی ذندگی بسر کرے اس پنجرے میں بند پرندے کی مانند جو آسمان کو دیکھ تو سکتا ہے لیکن اس کی بلندیوں کو چھو نہیں سکتا۔

یہ کیسا اسلام ہے جو ہر مسلمان مرد اپنی مرضی کے تابع کرکے چلانا چاہتا ہے، مرد کی بھی کچھ ذمےداریاں ہیں فرائض ہیں جب وہ اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہوتا ہے تو بیوی کو اس کے حصے کا بوجھ اٹھا پڑتا ہے، نوکری بھی کرنی ہوتی ہے اور گھر سے بھی نکلنا ہوتا ہے، مرد حضرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور ان سے بات چیت بھی کرنی پڑتی ہے، اچھے کپڑے بھی پہننے پڑتے ہیں اور اکیلے بس اسٹاپ پر بس کا انتظار بھی کرنا پڑتا ہے، منہ پر میک اپ بھی لگانا پڑتا ہے خود کو خوش انداز اور خوش لباس بھی دکھان پڑتا ہےاور نوکری کے ماڈرن تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ایک عدد موبائل بھی رکھنا پڑتا ہے اور ڈاکٹر سے دوا علاج بھی کروانا پڑتا ہے اور اچھی آمدنی کے حصول کیلئے مرد کے حصے کی تعلیم بھی خود حاصل کرنا پڑتی ہے تاکہ بچوں اور شوہر کی عزت دنیا کی نظروں میں بنائے رکھے، عورت ہو یا مرد مسلمان ہونے کا مقصد خواہش کا حصول نہیں بلکہ ان اصولوں کی پابندی ہوتی ہے جو خدا نے مرد اور عورت دونوں پر لازم قرار دیے ہوں اور ان کا نفاذ بھی جنہیں حقوق و فرائض کا نام دیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS