انسانیت کا علمبردار۔۔۔ عبدالستار ایدھی

عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کے لوگ تعلیم یافتہ تو بن گئے لیکن انسان نہیں بنے۔ عبدالستار ایدھی نے فلاحی کاموں کا باقاعدہ آغاز ایک مفت ڈسپینسری کی صورت میں کیا ۔ سڑکوں پہ کھڑے رہ کر چندہ جمع کر کے ایک ایمبولینس خریدی ´ کراچی سے مفت ایمبولینس سروس کا آغاز کیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا کا سب سے بڑا
ایمبولینس نیٹ ورک بن گیا۔ عبدالستار ایدھی نے پانچ ہزار کی رقم سے ایدھی فاﺅنڈیشن کی بنیاد رکھی جیسے بعدازں تبدیل کر کے ان کی اہلیا بلقیس ایدھی ٹرسٹ کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ عبدالستار ایدھی بے آسراﺅں ، بیواﺅں، ناداروں اور مسکینوں کا سہارا سمجھے جاتے تھے۔ عبدالستار ایدھی کے اس ادارے سے 26 ہزار ناجائز بچوں کو معاشرے میں جائز مقام حاصل ہوا۔ عبدالستار ایدھی نے 21 ہزار سے زائد لاوارث لعشیں اپنے ہاتھوں سے دفن کیں۔ ایدھی صاحب کو نشانِ امتیاز، شیلڈ آف آنر، لینن پیس ایوارڈ اور نہ جانے ایسے کتنے اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ عبدالستار ایدھی کو اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔ عبدالستار ایدھی کو متعدد با ر امن نوبل انعام کیلئے بھی نامزد کیا گیا۔ عبدالستار ایدھی کا ماننا تھا کے انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں اور شاید یہی وجہ ہے کے ان کی زندگی کا بیشتر وقت انسانیت کی فلاح و بہبود میں گذرا۔
اس وقت ملک بھر میں 330 ایدھی ویلفیئر سینٹرز کا م کررہے ہیں۔ جہاں دن رات غریب ، مسکین، یتیم افراد کی مدد کی جاتی ہے۔ ایدھی فاﺅنڈیشن کے زیر انتظام چلنے والی ایمبولینسز کی تعداد 1800 سے زائد ہے۔ یہ ایمبولینسز 24 گھنٹے ملک بھر میں اپنی خدمات سرانجام دی رہی ہوتی ہے۔ ایدھی فاﺅنڈیشن کے اس ادارے کی بدولت 50000 ہزار سے زائد بے سہاراﺅں کو سہارا ملا اور اسی ادارے نے 40000 سے زائد نرسوں کو ٹرینگ بھی فراہم کی۔ عبدالستار ایدھی کا انتقال 8 جولائی 2016 کو کراچی میں ہوا ۔ اس انسانیت کے علمبردار کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کے ایدھی صاحب نے اپنے اعضاء بھی عطیہ کردیئے ۔ عبدالستار ایدھی تو اس جہان سے رخصت ہو گئے لیکن ان کی یہ سوچ ہمیشہ زندہ رہے گی۔

