فلم یلغار پر مجھے صرف ایک اعتراض ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یلغار فلم دیکھی اور یقین مانیے، یہ فلم مجموعی طور پر ایک اچھی فلم ہے، اس کا مقصد عظیم ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان کے لوگوں کو جرات، بہادری اور ہمت کا پیغام دیا گیا ہے۔ اس فلم کے ذریعے یہ مقصد پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ پاکستان کی اب تک کی سب سے مہنگی فلم تصور کی جاتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس کا بجٹ ساٹھ کروڑ روپے ہے۔ بیک وقت بائیس سے زیادہ ممالک میں اس کو نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ فلم کے آخری بیس منٹ تو ناظر کو بہت جذباتی کرتے ہیں۔ کئی جگہ تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ کوئی بھی فلم جب نمائش کے لیے سینما گھروں میں فلم بینوں کے لیے پیش کی جاتی ہے تو اس پر تنقید بھی عام عوام کا حق ہوتا ہے۔ میرے منہ میں خاک، اگر میں ساٹھ کروڑ روپے کے بجٹ کے حوالے سے رسیدیں اور تلاشی وغیرہ کا سوال کروں۔ مجھے اس کے بجٹ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہاں البتہ تکنیکی اور تخلیقی اعتبار سے اس فلم میں چند ایک سقم ضرور ہیں مگر یقین مانیے مجھے ان پربھی قطعی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ سوات کے پس منظر میں فلمائی جانے والی اس فلم کے قریبا تمام تر اداکار کبھی پنجابی اور کبھی خالص اردو لہجے میں کیسے گفتگو کیسے کر سکتے ہیں؟ مجھے اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں جذبات کی رو میں، ایکشن، جنگ اور فائٹ کے جدید ترین طریقے سے مناظر کو فلم بند کرتے ہوئے، فلم کی کہانی کہیں مفقود اور معدوم ہو گئی۔ مجھے اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے کہ کرداروں کی بھرمار کی وجہ سے فلم میں آخری لمحات تک ہیرو کا تعین نہیں ہوسکا۔ مجھے اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ بلاوجہ تکلیف دہ حد تک طویل مکالموں نے کہانی کی رفتار میں سپیڈ بریکرز کیوں لگا دیے؟

مجھے اس بات پر بھی کوئی اعترض نہیں کہ ہمایوں سعید جو کہ دہشت گردوں کے سرغنے کا کردار ادا کر رہے تھے ان کا گیٹ اپ اتنا مضحکہ خیز کیوں تھاکہ خوف کے بجائے ہنسی آتی تھی۔ مجھے اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ ڈائریکشن اور ایڈیٹنگ کی بعض غلطیاں اتنی فاش کیوں تھیں؟ مجھے اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ سوات کی ایک مقامی شادی میں پنجابی گیت متھے تے چمکن وال میرے بنڑے دے کیسے گایا گیا؟ مجھے فلم کی کاسٹنگ اور خواتین اداکاراوں کی بدترین ایکٹنگ پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے؟ مجھے اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ فلم میں وار ایریا رپورٹنگ کے لئے کسی وار رپورٹر کی بجائے ایک خاتون کالمسٹ کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ مجھے اس ڈائیلاگ پر بھی اعتراض نہیں کہ فوج میں چائے اور بے عزتی کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ حالانکہ میرے ذاتی خیال میں یہ آداب کے منافی تھا، مگر یقین مانیے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

مجھے اس بات پر بھی اعتراض نہیں کہ ہمارے شاندار ملی نغموں کا اس فلم کے میوزک میں زیادہ استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔ ملکہ ترنم نورجہاں، مہدی حسن، امانت علی خان اور نصرت فتح علی کی آواز اب بھی دل میں جذبہ جگاتی ہے۔ پوری فلم میں صرف ایک منٹ کے لیے شفقت امانت علی کی آواز میں ایک پرانا ملی نغمہ استعمال کیا گیا جو فلم کا سب سے جذباتی لمحہ بن گیا۔ مجھے اس ڈائیلاگ پر بھی کوئی اعتراض نہیں جب محبت کے اظہار کے لیے جذبات کا احاطہ کرنے والا دقیق جملہ بولا گیا۔ مجھے اس بے معنی ڈائیلاگ پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ تیری موت اس خاموشی کی پہلی چپ ہوگی۔ مجھے فلم کے آخری منظر پر بھی کوئی اعتراض نہیں جب وطن دشمن گروہ کے سرغنے کو گولی مارنے کے بجائے ہاتھوں سے مارنے کی سزا کا اعلان کیا گیا، سب کو ہتھیار پھینکنے کا حکم دے دیا گیا اور پھر اس کے سینے میں خنجر کیوں گھونپ دیا گیا؟ مجھے اس ڈائیلاگ سے بھی اتفاق ہے جب ایک آفیسر کو ایک ٹاسک مکمل کرنے کے لیے چھ گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے اور وہ ہیلی کاپٹر سے چھلانگ لگانے سے پہلے اعلان کرتا ہے کہ وہ اور اس کیٹیم یہ کام دو گھنٹے میں مکمل کر کے دکھائیں گے۔

اس بات سے اس وجہ سے بھی متفق ہوا جا سکتا ہے کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ اسی عقابی برق رفتاری کے سبب، ہم نے بارہا پانچ، پانچ سال کے کئی کام دو، تین سال میں نمٹا دیے۔ مجھے اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ اگر اس فلم کے ذریعے دہشت گردوں کو دہشت زدہ کرنا مقصود تھا تو عمومی اطلاعات کے مطابق تو یہ دہشت گر تود فلموں جیسی تفریح سے احتراز کرتے ہیں۔ یہ ساری تکنیکی اور تخلیقی باتیں اپنی جگہ لیکن فلم مجموعی طور پر ایک اچھی فلم ہے۔ اس کودیکھنے والوں کے دل میں جرات، بہادری اور شجاعت کا جذبہ جاگتا ہے۔

مجھے اس فلم پر صرف ایک اعتراض ہے کہ یہ فلم بہت دیر سے بنی ہے۔ ایسی فلم کو بہت پہلے بن جانا چاہیے تھا۔ خود سوچیئے کہ ہماری تاریخ کے کتنے کردار اس فلم کو دیکھنے کی سعادت سے محروم رہے ہیں۔ اگر یہ فلم فاطمہ جناح نے دیکھی ہوتی تو وہ ایک چھپن انچ کی چھاتی والے ڈکٹیٹر سے ٹکر لینے کا سوچتی ہی نہیں۔ چپ چاپ مادر ملت کے عہدے پر فائز رہتیں اور مسلم امہ کی پہلی جمہوری خاتون سربراہ بننے کا خواب دل سے نکال دیتیں۔ ریڈیو پاکستان پر براہ راست خطاب کی کوشش بھی نہ کرتیں۔ جس کے نتیجے میں ایک بہادر ڈکٹیٹر کو تکنیکی خرابی کا بہانہ بنا کر ان کی آواز عوام تک پہنچانے سے روکنی پڑی۔

یہ فلم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی دیکھنی چاہیے تھی۔ اگر وہ دیکھ لیتے تو یہ عوام کی حکومت، جمہوریت، عوام کے ووٹ اور سول سپریمیسی ٹائپ کی باتیں نہ کرتے۔ چپ چاپ ایک ڈکٹیٹر کے عطا کردہ پھانسی کے پھندے پر جھول جاتے۔ بلکہ جب اس زمانے میں یہ جملہ بہت مقبول ہو رہا تھا کہ لاشیں دو ہیں اور قبر ایک، تو بھٹو کو چاہیے تھا کہ اسی لمحے اپنی جمہوری جدو جہد ترک کر دیتے، برضا و رغبت مجوزہ قبر میں خود ہی لیٹ جاتے، رضا بہ رضا اپنی قبر پر خود ہی عوام کی امیدوں کی چادر چڑھاتے، اپنی تربت پر خود ہی عوام کے مسخ شدہ ووٹوں کا عطر اور لوبان چھڑکتے اور اپنی مرقد پرعوامی امیدوں کی اگر بتیاں جلا کرہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے۔

بدقسمتی سے یہ فلم پیپلز پارٹی کے ان ڈرپوک، بزدل جیالوں نے بھی نہیں دیکھی جنہوں نے بھٹو کے غم میں آمریت کے خلاف خود کو سرعام نظر آتش کر لیا تھا۔ یہ فلم جنرل مشرف نے بھی نہیں دیکھی تھی ورنہ نائین الیون کے بعد امریکی صدر کی ایک ہی فون کال کے بعد وہ سربسجود نہ ہوجاتے۔ جرات اور شجاعت سے کام لیتے۔ ملکی اڈے، افراد اور ائر پورٹ ان کے حوالے کرنے کے بجائے عقابی شجاعت کا مظاہرہ کرتے۔

یہ فلم ان پاکستانیوں کو بھی دیکھنی چاہیے تھے جو اس معاہدے کے آج تک متلاشی ہیں جو اس ایک فون کال کے نتیجے میں ہوا تھا، یہ فلم ان لوگوں کو بھی دیکھنی چاہیے تھی جو آج بھی یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ہماری قومی غیریت اور حمیت کے علاوہ اس فون کال پرکس کس بات کا سودا ہو ا؟ کیا کچھ فروخت کیا گیا؟ قیمت کس کس چیز کی لگی؟ یہ فلم ریمنڈ ڈیوس نے بھی نہیں دیکھی ورنہ وہ اس بے باکی سے اس ملک سے دو نوجوانوں کا قتل کر کے باعزت بری نہیں ہوتا۔ یہ فلم ہمارے اس محافظ اعلی نے بھی نہیں دیکھی جو ریمنڈ ڈیوس کیس میں عدالت میں بیٹھ کر امریکی حکام کو لمحہ لمحہ فتح مبین کے ٹیکسٹ میسج بھیج رہے تھے۔

یہ فلم نواز شریف کو بھی دیکھنی چاہیے تھی ورنہ وہ کروڑوں لوگوں کے ووٹوں سے عطا کردہ وزارت عظمی سے دو دفعہ دھتکارے جانے کے باوجود تیسری دفعہ وزیر اعظم ہونے پر مصر نہ ہوتے۔ چپ چاپ سعودی عرب میں اپنا کاروبار سنبھالتے۔ االلہ االلہ کرتے۔ یہ فلم جے آئی ٹی کے ممبران کو بھی دیکھنی چاہیے تھی ورنہ وہ جرات کا مظاہرہ کرتے حسین نواز کی تصویر لیک کرنے والے شخص کا نام اور اس کے ادارے کا نام واشگاف الفاظ میں لیتے۔ کسی سے نہ ڈرتے۔ ۔ ہمت سے کام لیتے۔ لیکن بدقسمتی سے انہوں نے یہ فلم نہیں دیکھی۔ جرات اورحوصلہ ابھی ان میں در نہیں آیا۔ مجھے امید ہے جیسے ہی یہ فلم ان کی نگاہ سے گزرے گی ان میں شجاعت کا وہ سرمدی ولولہ عود کر آئے گا اور اسی لمحے اس شخص اور اس کے ادارے کا نام منظر عام پر آ جائے گا۔

کہنے کی بات صرف اتنی ہے کہ جب تک یہ یلغار دہشت گردوں پر برق بن کر گرے گی سب اس یلغار کی پکارمیں ہم آواز ہوں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ستر سال گزر جانے کے بعد بھی اس ملک کی جمہوریت، اسی یلغار کی للکار سے، لرز رہی ہے۔

خیر یہ جے آئی ٹی اور اس کا قصہ تو جملہ معترضہ کے طور پر اس تحریر میں آگیا کہنے مقصد صرف اتنا ہے کہ یلغار فلم دیکھی اور یہ یقین مانیے فلم مجموعی طور پر ایک اچھی فلم ہے اس کا مقصد عظیم ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان کے عوام کو جرات، بہادری اور ہمت کا پیغام دیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کی اب تک سب سے مہنگی فلم تصور کی جاتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 239 posts and counting.See all posts by ammar