یارے علی عظمت
سب سے پہلے یہ کہ آپ کو جان بوجھ کر جناب، محترم اور اسی طرح کے الفاظ اور القاب سے مخاطب نہیں کیا۔ وجہ یہ ہے کہ دل مانا نہیں۔ جناب وناب اور محترم، قبلہ کا چکر ان کے لئے ہوتا ہے جو خود سے پرے اور اوپر اوپر محسوس ہوتے ہیں۔ آپ تو بہت اپنےاپنے لگے یار۔
بات کچھ ایسے ہے نام تو آپ کا عرصہ سے سنتے آئے ہیں۔ میوزک کا چاہنے والا شاید ہی کوئی ہو جو آپ سے ناواقف ہو۔ اور بھلا کوئی پاکستانی، ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار سے کیسے انجان ہو سکتا ہے؟ اس دور میں بلاشبہ آپ کے چاہنے والے لاکھوں بلکہ شاید کروڑوں میں تھے۔ ان میں سے ایک دیہاتی بھی تھا۔ تو جب نوے کی دہائی میں وہ دیہاتی ٹی وی پر آپ کو گاتا دیکھتا اور سنتا تو اس کی رگوں کے اندر بہتا خون پارے میں بدل جاتا۔ شدت جوش سے اس پر نچلا بیٹھنا حرام ہو جاتا۔ شوق تو اسے بہت تھا مگر ایک تو وہ آپ کے جیسے لمبے لمبے بال رکھ نہ پایا۔ خیر یہ اپنی باتیں چھوڑتے ہیں۔ ہے جذبہ جنون کے علاوہ بھی آپ کا نام کئی ایک مشہور گانے رکھتا ہے۔ پر سچ کہوں تو مجھے ان میں سے” ہے جذبہ جنون تو ہمت نا ہار "کے علاوہ "گرج برس ساون گھر آیو "اور "یہ جسم ہے تو کیا” اچھے لگتے ہیں۔ ہاں "پپو یار تنگ نا کر "بھی خوب ہے۔

نیاز مند
جمیل عباسی


