پانامہ کے بعد بھی شیر شیر ہے

سیاسی قیادت پر کرپشن کے الزامات یا کردار کی انفرادی خامیاں اگر کسی سیاسی جماعت کی ناکامی کی دلیل ہوتیں تو دیر میں پیپلزپارٹی کے صاحبزادہ ثناء اللہ، اوکاڑہ میں خرم وٹو، گلگت میں جاوید حسین اور کراچی میں سعید غنی کامیاب نہ ہوتے
عمران خان ٹیریان وائٹ کے حقیقی والد ہیں اور خان صاحب کتنا ہی جھوٹ بولیں، یہ بات ان کے حریفوں کو ہی نہیں بلکہ حامیوں کو بھی اچھی طرح پتہ ہے مگر ان کی اس انفرادی کوتاہی سے حامیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا
پانامہ کا مسئلہ عوامی ایشو نہیں ہے، یہ اس ووٹ پر اثرانداز نہیں ہوگا جو ساری لڑائی کا اصل مدعا ہے، شریف خاندان رسوا اور بے نقاب ضرور ہوگیا ہے مگر ابھی تک ناکام نہیں، نوازشریف کی فوری ناکامی کی ایک صورت یہ ہے کہ انہیں الطاف حسین کی طرح پاکستانی سیاست سے مائنس کردیا جائے
اگر آپ اسے عوام کی جہالت سمجھ رہے ہیں تو ایک لمحے کے لئے ٹہر جائیں، شاید آپ عوامی مزاج سے واقف نہیں ہیں
پاکستان میں عوام ایک قوت ہے تو اس کے مدمقابل بھی ایک قوت ہے جسے اسٹبلشمنٹ کہتے ہیں
اگر عوام کو یہ شک بھی ہوجائے کہ اسٹبلشمنٹ کے ایک کلرک نے ایک کتے کو پتھر بھی مارا ہے تو وہ اس کتے کو فوراً اپنا باپ بنالیتے ہیں اور نواز شریف کے معاملے میں عوام کا ابھی تک بظاہر کچھ ایسا ہی خیال ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے عتاب کا شکار ہیں
نوازشریف کو اگر آئندہ الیکشن میں کچھ کم ووٹ ملنا تھے تو پانامہ ایشو کی وجہ سے انہیں اس بار زیادہ ووٹ ملیں گے اور اگر اس سچ کو بدلنا ہے تو اپوزیشن شریف خاندان کی کردارکشی کے بجائے عوام میں اس خاندان کے اسٹبلشمنٹ کی جانب سے زیرعتاب ہونے کے تاثر کی نفی پر کام کرے
عوام کی موجودہ اخلاقیات اسٹبلشمنٹ دشمنی سے جڑی ہے، اگر اس اخلاقیات کے معیار کو بدلنا ہے تو اسٹبلشمنٹ کے وجود کو ختم یا کمزور کردیں، ایسی صورت میں جماعت اسلامی ہو یا نہ ہو، عوام کا اخلاقی معیار جماعت اسلامی والا ضرور ہوجائے گا
یہ درست ہے کہ شریف خاندان پانامہ ایشو کے بعد اپنی کریڈیبلٹی کھوچکا ہے مگر جس کریڈیبلٹی کو کھویا ہے، وہ الیکشن جیتنے کا معیار نہیں تھی، عوام کی اخلاقیات کا پیمانہ مختلف ہوتا ہے
عوام ایک سکہ بند گینگسٹر کو بھی اس بنیاد پر ووٹ دے سکتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان ان کے مسائل حل کررہا ہے، مسرور جھنگوی ایک مثال ہیں جو گینگسٹر تو نہیں مگر ایک انتہائی متنازع شخصیت کے صاحبزادے اور کالعدم تنظیم کے قریبی ہوکر بھی شیعہ اور سنی ووٹ لینے کے دعوے کے ساتھ جھنگ کا الیکشن جیت گئے، چٹخارے لینا ایک الگ بات ہے تاہم عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کا منتخب نمائندہ اپنی ذاتی زندگی میں کیا ہے، بس کسی اجتماعی مفاد کو ٹھیس لگناعوام کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے
اخلاقیات یا کردار کا جو تصور آپ کے ذہنوں میں ڈالا گیا ہے، وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی روشنی میں ہے اور عوام کی اخلاقیات جنرل ضیاء کے دور میں نافذ ہونے والی ان آئینی شقوں سے قطعاً برعکس ہے، اگر یہ مخصوص اخلاقیات یا کردار معیار ہوتا تو پاکستان میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کے علاوہ الیکشن میں کوئی منتخب نہ ہوتا مگر آپ دیکھ لیں، جماعت اسلامی اپنے کردار کی بلندی اور آفاقی اخلاقیات کے باوجود مکمل طور پر مسترد ہے کیونکہ یہ عوام کا معیار نہیں
عوام کا یہ مزاج سراسر پریکٹکل ازم پر مبنی ہے، سوچ وبچار کا ذرا سا بھی وقت ہو تو کبھی بھی عوام جذباتی ووٹ نہیں دیتے
2008 میں پیپلزپارٹی نے حکومت بنائی جو عوام کا حقیقی مینڈیٹ تھا مگر اسے بے نظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے جذباتی ووٹ کا نتیجہ کہا گیا، اگر یہ جذباتی ووٹ ہوتا تو پیپلزپارٹی کم از کم راولپنڈی کے اس انتخابی حلقے سے تو نہ ہارتی کہ جہاں ان کی لیڈر شہید ہوئی تھیں یا یہ حکومت سینٹرل پنجاب کی کم نشستوں کے ساتھ مخلوط تو نہ ہوتی، یہ کیسا جذباتی ووٹ تھا جو سادہ اکثریت بھی نہ دلواسکا
یہ کسی کی بھول ہوگی کہ بریانی کی دیگ پر ووٹ ملتا ہے یا بہت سارے پیسے خرچ کرنے سے عوام ووٹ دے دیتے ہیں، پیسے والے لوگ صرف سرمائے کی بنیاد پر عوام کا دل نہیں جیت سکتے، انہیں جیتنے کے لئے عوام کو بائی پاس کرتے ہوئے الیکشن کے تاجروں سے بھاؤ تاؤ کرنا پڑتا ہے
یہ بھی کسی کی بھول ہوگی کہ پاکستان میں سیاست دان منظم دھاندلی کرتا ہے، انفرادی سطح پر کوئی سیاست دان دھاندلی کرسکتا ہے مگر منظم سطح پر دھاندلی کسی سیاسی جماعت کے لئے ممکن نہیں، اگر یہ منظم دھاندلی ہوتی ہے تو عوام کے نزدیک اس کی ذمہ دار بھی اسٹبلشمنٹ ہے
پانامہ معاملے پر شریف خاندان دیوار سے لگ گیا اور یہ دیوار عوام ہیں جن کی عدالت کا فیصلہ کسی کو بھٹو بناتا ہے تو کسی کو اصغرخان


