کیا ہم پنجابستان کے شہری ہیں؟
عرصہ تک یہ گمان رہا کہ اس ملک پہ اگرچہ پنجابی اشرافیہ کی مستقل حکمرانی ہے تاہم عوام الناس میں ایکدوسرے کے لئے تعصب نہیں ہے۔ مگر اب وقت گزرنے کے ساتھ احساس ہورہا ہے کہ پنجابی تعصب ہر ادارے میں پنجے گاڑچکا ہے۔
امسال عید الفطر پرجدہ سے اسلام آباد جانے کے لئے جنوری سے ہی سعودی ایئرلائین کی ٹکٹ لی ہوئی تھی۔ لیکن مشیت ایزدی کچھ اور تھی۔ عید سے تین دن پہلے ہی، بوجوہ فلایئٹ سے رہ گیا۔ متبادل پرواز کے لئے، ٹریول ایجنسیوں کے چکر لگائے تو سیٹ ملنا مشکل۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دگنی قیمت پہ اچانک پشاور کے لئے ایک سیٹ میسر ہوگئی جو کہ اپنی پیاری پی آئی آے کی تھی۔ یہ سیٹ بھی شاید یوں نکلی کہ جدہ سے پشاور پرواز 24 جون صبح 3 بجے اڑنا تھی جو لیٹ ہوکر، 10 بجے دن پر چلی گئی توکوئی بندہ سیٹ کینسل کرگیا ہوگا اور مجھے چند گھنٹے قبل یہ سیٹ مل گئی۔
گذشتہ چودہ سال میں ایک بار ہی پی آئی اے پہ سفر کیا تھا مگراب اضطراری صورتحال میں اپنی قسم کا کفارہ منظور تھا۔ ٹکٹ لے کرسحری کےبعد گھر سے جدہ نارتھ ٹرمینل پہنچ گیا جہاں ساری رات کے جاگے پختون مزدور، ویٹنگ لاونج میں ٹرالیوں سے سر ٹکائے کچی پکی نیند لے رہے تھے۔ جب 8 بجے صبح تک پی آئی اے کے جہاز کی آمد کے آثار ہی نہیں نظر آئے تو تشویش ہونے لگی۔ میری طرح کچھ اور مسافروں نے انفرادی طورپر ٹرمینل میں موجود پی آئی آے کے عملے سے بات کی مگر کوئی واضح جواب نہ ملا۔
مسئلہ یہ تھا کہ پشاور جانے والے پختونخواہ کے دوردوارز علاقے کے باسیوں کی اگلے دن یعنی 25 جون کو عید ہونا تھی۔ اب اگر وہ شام کو پشاور پہنچتے تو ان کو لینے والے لوگوں کے لئے، پشاور سے آگے رات کا واپسی سفر مشکل ہوتا۔ اکثر غریب اور دیہاڑی دار پختون تھے جو کئی سال بعد، عید منانے گھر جارہے تھے۔ اپنی کم مائیگی کی وجہ سے سستے موسم میں ٹکٹ نہ خرید سکے تھے اور اب دو ہزارریال والی ٹکٹ، 3 ہزار یا زیادہ پہ خریدا ہوا تھا۔ دن کے دس بجے تک لوگوں کا ضبط جواب دے گیا تو پی آئی اے کے دفتر پر چڑھائی کردی۔ وہاں موجود پنجابی عملہ نے پہلے تو تجاہل عارفانہ سے کام لیا لیکن جب سعودی ٹرمینل ”گو نواز گو“ کے نعروں سے گونجنے لگا تو بتایا کہ چونکہ پی آئی اے کے پاس جہاز کم ہیں تو پشاور کے لئے مختص بوئنگ ابھی کراچی کے مسافر لاہور لے جائے گا اور وہاں سے سیدھا جدہ کے لئے آئے گا اور یہ کہ 1 بجے ظہر تک آپ پشاور کے لئے روانہ ہوسکیں گے۔ (جہاز واقعی کم ہیں۔ زرداری دور میں دبئی سے بھنڈی کی ڈش لینے کے لئے لاہور کو خالی بوئینگ بھیجا گیا تھا تو شریفین کے منی اعتکاف پروگرام کے لئے جہاز تین دن سے منتظرکھڑا تھا)۔
قہردرویش، برجان درویش، بیچارے پختون واپس ہوئے اور پاکستان اپنے رشتہ داروں کو فون پر اگلا متوقع پہنچ کا وقت بتانے لگے۔ لینے والے بھی تو رات سے پشاور آئے ہوئے ہوں گے۔ بات چیت سے پتہ لگا کہ اگر شام تک پشاور پہنچ جائیں تو سوات، دیر والے مسافر، صبح کی نماز تک منزل پر ہوں گے اور عید کا دن فیملی کے ساتھ ہوگا۔
ایک سے دو بج گئے کہ پی آئے کی پرواز 0736 آسمان پہ نمودار ہوئی۔ یعنی مقررہ وقتِ پرواز سے کوئی 15 گھنٹے کی تاخیر ہوچکی تھی۔ اس دوران پی آئی اے کی تین مزید پروازیں بھی جدہ آئیں۔ ایک کراچی کے لئے تھی جو تین گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی۔ جبکہ فیصل آباد اور لاہور کی پروازیں، ظہر تک اپنے ٹائم پہ اڑ چکی تھیں۔ پشاور کے لئے جہاز تو آگیا تھا لیکن اب پی آئی اے والوں کو بورڈنگ کاونٹر نہیں مل رہا۔ گھنٹہ بھر اس میں لگ گیا۔ چیک ان مکمل ہوا تو عصر کے چار بج چکے تھے۔ بورڈنگ ہونے سے پہلے، پی آئی آے کے افسر صاحب نمودار ہوئے اوررعونت بھرا اعلان کیا کہ چونکہ پشاور میں رات کے وقت لینڈنگ ممنوع ہے تو یہ پرواز بجائے پشاور کے، اسلام آباد جائے گی اور وہاں سے بسوں کے ذریعہ مسافروں کا پشاور لے جایا جائے گا۔
اس پر مسافر پھٹ پڑے۔ پورا لاوئنج ”گو نواز گو“ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ہاتھا پائی کی نوبت آنے لگی۔ مختلف ملکوں کے لوگ، پاکستانیوں کی حالت زار دیکھ رہے ہیں۔ اپنے ملک کی اس قدر بے عزتی کبھی نہیں محسوس ہوئی تھی۔ سعودی پولیس والے آگئے۔ ان کو کیس بتایا گیا۔ مسافروں نے کہا کہ اگر کوئی قانون ایسا تھا بھی کہ رات کو پشاور میں لینڈنگ ممنوع ہے تو آپ نے ہم کو فیصل آباد یا لاہور والی پرواز سے بھیج دینا تھا، وہاں والوں کو چند گھنٹے تاخیر کرکے، موجودہ پرواز پہ بھیج دیتے توکیا قیامت آجاتی؟ (پورے وثوق سے دعوی کرتا ہوں کہ اگر صورتحال برعکس ہوتی یعنی مسافر پنجابی اور عملہ پختون ہوتا تو ان کی مشکل حل کرنے پختون عملہ ذاتی قربانی بھی دے دیتا)۔
سعودی افسران نے مسافروں کی معقول شکایت کی حمایت کی اور پی آی اے کے پنجابی افسران کو ڈنڈا دکھایا جو اب تک ان مسافروں کی دہائی کا لطف لے رہے تھے۔ جونہی ڈنڈے کا زور پڑا تو پاکستان سے رابطے ہونے لگے اور بالآخر، یہ طے ہوا کہ فی الحال اسلام آباد چلے جائیں۔ وہاں مسافروں کونہ صرف بسیں مہیا کی جائیں گی بلکہ ٹکٹ کا 25 فیصد پیسہ بھی واپس کیا جائے گا۔ غریب مزدور اس پہ خوش ہوگئے۔ حفظ ماتقدم کے طور پر، مسافروں نے ڈیوٹی افسر سے ہر ٹکٹ پر دستخط اور مہر لگانے کو کہا جو وہ باآرام کرتے چلے گئے کیونکہ یہ سادہ پختونوں کے ساتھ ایک اور چال تھی۔ (میں نے وہ ٹکٹ محفوظ رکھی ہوئی ہے)۔
میری رہائش چونکہ اسلام آباد میں ہے تو میں نے بیٹے کو کہا ہوا تھا کہ شام کو گاڑی لے کر مجھے لینے کےلئے پشاور آجاؤ۔ نئی صورتحال میرے لئے تو گویا ”کبڑے کو لات لگی“ والا حساب ہوگیا جس سے اس کا ”کب“ ٹھیک ہوگیا تھا۔ مگر خدا جانتا ہے کہ میرا دل ان غریب مزدروں کے لئے رو رہا تھا۔ اس لئے بھی کہ باقی پاکستان میں 26 جون کو عید ہونا تھی جبکہ پختونخواہ کے اکثر علاقوں میں اگلے روز یعنی 25 جون کو عید ہونا تھی۔ کتنی عیدوں بعد، وہ پیسہ پیسہ جمع کرکے بچوں کے ساتھ عید کرنے آرہے تھے۔ مجھے اندازہ تھا کہ آخر رمضان کی ٹکٹ انہوں نے اس لئے لی ہوگی تا کہ چند دن مزید مزدوری کی رقم جمع ہوسکے۔
خیر، آگے سنیئے۔ چھ بجے تک بورڈنگ مکمل ہوئی۔ اس دوران پرواز سے پہلے، جہاز میں ایک اور ”گونواز گو“ کا مظاہرہ ہوا۔ وجہ یہ بنی کہ عملے کے ارکان کا تعلق لاہور سے تھا۔ مسافروں میں بھی کوئی لاہوری موجود تھا جس کو یہی پرواز ملی تھی۔ عملے کے ایک رکن نے اس مسافر کو کہا کہ ہم تو اسلام آباد جانے پہ خوش نہیں ہیں کیونکہ اگر یہ پرواز پشاور جاتی تو ہم اگلی پرواز سے لاہور چلے جاتے مگر اسلام آباد سے لاہور کوئی فلائیٹ نہیں اور ہمارا وقت ضائع ہوگا۔ اسی بات چیت میں عملے کے رکن نے اس کو یہ راز افشاء کیا کہ ہم اس پرواز کو ٹکنیکل طریقے سے لاہور میں لینڈ کروا لیں گے تاکہ گھر پہنچ سکیں۔ شاید اس مسافر میں خدا کا خوف باقی تھا کہ اس نے اپنے ساتھی پختون کو بتادیا اور یوں ایک اور احتجاج شروع ہوگیا ورنہ وہ ظالم، اپنے گھر جانے کے لئے، ان سب پردیسیوں کو اب لاہور لے جانے کا پروگرام بنائے ہوئے تھے۔
قصہ مختصر، 25 جون صبح ڈیڑھ بجے ہم اسلام آباد ائرپورٹ سےنکلے تو دو عدد بسیں، پشاور جانے کے لئے موجود تھیں۔ پی آئی اے کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔ باقی ذمہ داران بھی غائب تھے۔ میں تواپنے بیٹے کے ساتھ گھر آگیا لیکن ائرپورٹ کا آخری منظر یہی دیکھا کہ بعض مسافر، بسوں کے آگے لیٹ کر ”گو نواز گو“ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ نہ جانے وہ کن حالوں میں عید کے دن گھر پہنچے ہوں گے؟
عید گزر گئی۔ مجھے یقین تھا کہ مسافروں کے ساتھ رقم واپسی کا وعدہ ایک فراڈ تھا۔ بہرحال، 6 جولائی کو راولپنڈی صدر پی آئی اے دفتر گیا۔ ٹکٹنگ منیجر خالد جدون سے ملا جس نے مجھے گولی دینے کی کوشش کہ کہ میں جدہ والوں کو میسیج کردیتا ہوں اور وہ آپ کو رقم واپس کریں گے۔ جب میں نے ان کو بتایا کہ میں خود سعودی سول ایوی ایشن ایشن کا ملازم ہوں اور یہ ہتھکنڈے سمجھتا ہوں تو ہنسنے لگے۔ بہرحال، انہوں نے بتایا کہ ایک بار انہوں نے پی آئی اے کا لائلٹی سروے کروایا تھا جس میں پتہ چلا کہ پختون لوگ ہی ہمیشہ پی آئی اے کے سفر کو ترجیح دیا کرتے ہیں کہ یہ قومی ائرلائین ہے۔ فرمایئے؟ اب آپ کے کیا احساسات ہیں؟
اس مضمون کو پڑھنے کےبعد، پختونوں پہ روز نئے لطیفے گھڑنے والے چند نابغے مجھے قرآن و حدیث سے عصبیت بارے وعیدیں سنائیں گے مگر کاش کہ اس مضمون کو اتنا شیئر کیا جائے کہ پی آئی اے کے حرامخور کارپردازان، اس پرواز کے ہر مسافر کے گھر ٹکٹ کی رقم واپس پہنچا سکیں۔
بردارن کرام، مجھے اب تک ان غریب الدیار پختون مسافروں کے دکھ بھرے مایوس چہرے نہیں بھولے۔ جہاں تک پی آئی آے کی تباہی کا تعلق ہے تو اس کی وجہ نہ تو جہازوں کی کمی ہے نہ لیبر یونین وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے وزیر ہوابازی، شاہد خاقان عباسی کی خود اپنی نجی ائرلائین ”ایئر بلیو“ کے نام سے انہی روٹس پہ چلتی ہے تو موصوف کب پی آئی اے کی خیر خواہی چاہیں گے؟
بات یہ ہے کہ تاجر حکمرانوں کی مافیا سے اگر کوئی غریبوں اور مزدوروں کی بہبودی اورخوشحالی توقع رکھے تو اس سے بڑا احمق کوئی نہیں ہے


